ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

اے ایم یو اور جامعہ ملیہ اسلامیہ بلاشبہ اقلیتی ادارے ہیں :لوک جن شکتی پارٹی

نئی دہلی ۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کو واضح طو ر پر اقلیتی ادارہ تسلیم کرتے ہوئے لوک جن شکتی پارٹی نے واضح کیا ہے کہ دونوں ادارے اقلیتی ہیں اس میں کسی کو کسی طرح کاشبہ نہیں ہونا چاہئے ۔

  • UNI
  • Last Updated: Jan 23, 2016 09:50 AM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
اے ایم یو اور جامعہ ملیہ اسلامیہ بلاشبہ اقلیتی ادارے ہیں :لوک جن شکتی پارٹی
نئی دہلی ۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کو واضح طو ر پر اقلیتی ادارہ تسلیم کرتے ہوئے لوک جن شکتی پارٹی نے واضح کیا ہے کہ دونوں ادارے اقلیتی ہیں اس میں کسی کو کسی طرح کاشبہ نہیں ہونا چاہئے ۔

نئی دہلی ۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کو واضح طو ر پر اقلیتی ادارہ تسلیم کرتے ہوئے لوک جن شکتی پارٹی نے واضح کیا ہے کہ دونوں ادارے اقلیتی ہیں اس میں کسی کو کسی طرح کاشبہ نہیں ہونا چاہئے ۔ پارٹی کے سکریٹری جنرل عبدالخالق نے  نامہ نگاروں سے بات چیت میں اے ایم یو اولڈ بوائز کے موقف کی تائید کرتے ہوئے کہاکہ چونکہ معاملہ عدالت میں ہے اس لئے اس کی پیروی سڑکوں پر نہیں بلکہ عدالت میں پوری طاقت اور قوت کیساتھ کی جانی چاہئے ۔ عبدالخالق نے کہاکہ اگر سڑکوں پر اس معاملہ کو لایاگیا تو اس کے خطرناک نتائج مرتب ہوں گے او ر قوم ماضی میں سڑکوں پر آنے کی قیمت چکاچکی ہے ۔ انہوں نے امید ظاہرکی کہ عدالت میں اقلیتوں کی ہی جیت ہوگی کیونکہ آئین کے آرٹیکل 30میں اقلیتوں کو جو بنیادی حقوق دیئے گئے ہیں اس میں پارلیمنٹ بھی ترمیم نہیں کرسکتی ہے کیونکہ بنیادی حقوق میں پارلیمنٹ کو بھی تبدیلی کا کوئی اختیار نہیں ہے ۔


مسٹر عبدالخالق نے کہاکہ اندرا گاندھی نے الہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلہ کی تردید یا اس کو رد نہیں کیاتھا بلکہ اس فیصلہ کی وضاحت کردی تھی اور کہاتھاکہ مسلم یونیورسٹی اقلیتی ادارہ ہے اور اس طرح پارلیمنٹ نے لفظ’اسٹیبلش ‘ کو ہٹا کر ’انکارپوریٹ‘کردیا ۔ عبدالخالق نے کہاکہ جب الہ آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ آیا اس وقت واضح طور پر ملک کے نامور وکلاء نے ا س سے عدم اتفاق ظاہر کیا تھا ۔اسی طرح عزیز باشا معاملہ میں یونیورسٹی فریق بھی نہیں تھی اور یونیورسٹی کیخلاف فیصلہ کردیا گیا ۔ انہوں نے کہاکہ اس معاملہ کو اس طرح سمجھنے کی کوشش کی جانی چاہئے کہ کیا یہ ممکن ہے کہ بچہ ماں باپ پیدا کریں اور نام پڑوسی اپنی مرضی کا رکھے۔ جب یہ ممکن نہیں ہے تو ان اداروں کا اقلیتی کردار کیسے چھینا جا سکتا ہے قوم کو مطمئن رہنا چاہئے ۔


پارٹی کے اقلیتی امور کے سربراہ عبدالخالق نے کہاکہ 1920(آزادی سے قبل ) میں جب محمڈن اینگلو اورنٹیل کالج کو یونیورسٹی تسلیم کیا گیا اس کے بعد جب ملک آزاد ہوا تو 1950میں آئین نافذ ہونے کے بعد مسلم یونیورسٹی ، بی ایچ یو اور دہلی یونیورسٹی کو انٹری نمبر63میں جگہ دے کر سنٹرل یونیورسٹی تسلیم کرلیاگیا۔ عبدالخالق نے بتایاکہ محمڈن اینگلو اورینٹل کالج کی 124رکنی کمیٹی میں سب مسلمان تھے ۔

First published: Jan 23, 2016 09:50 AM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading