ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

لوڑھا کمیٹی نے انوراگ ٹھاکر اورشرکے کوہٹانے کا مطالبہ کیا، سپریم کورٹ کی بی سی سی آئی کو پھٹکار

لوڑھا کمیٹی نےعدالت سے بورڈ کے چیئرمین انوراگ ٹھاکر اوردیگر اعلی عہدے داران کو حکم کی خلاف ورزی کرنے کے لئےعہدے سے ہٹانے کا مطالبہ کیا ہے۔

  • UNI
  • Last Updated: Sep 28, 2016 03:33 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
لوڑھا کمیٹی نے انوراگ ٹھاکر اورشرکے کوہٹانے کا مطالبہ کیا، سپریم کورٹ کی بی سی سی آئی کو پھٹکار
تصویر: گیٹی امیجیز

نئی دہلی۔ ہندوستانی کرکٹ کنٹرول بورڈ(بی سی سی آئی)کی جانب سے سفارشات کو نظر انداز کئے جانے سے ناراض جسٹس آر ایم لوڑھا کمیٹی نے آج سپریم کورٹ میں صورت حال کی رپورٹ پیش کی اور بورڈ کے اعلی افسر کو عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ کیا۔ سپریم کورٹ کے ذریعہ تشکیل دی گئی لوڑھا کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ بی سی سی آئی اپنے کام کاج میں بہتری کےلئے نہ تو کمیٹی کی سفارشات مان رہی ہے ،نہ ہی سپریم کورٹ کے حکم کا احترام کررہی ہے۔ کمیٹی نےعدالت سے بورڈ کے چیئرمین انوراگ ٹھاکر اوردیگر اعلی عہدے داران کو حکم کی خلاف ورزی کرنے کے لئےعہدے سے ہٹانے کا مطالبہ کیا ہے۔کمیٹی نےان عہدوں پر کرکٹ منتظمین کو بٹھانے کی بھی درخواست کی ہے۔



کمیٹی کا کہنا تھا کہ چیئرمین انوراگ ٹھاکر اور سکریٹری اجے شرکے بورڈ کے کام کاج میں سدھار کےلئے سپریم کورٹ نے جو احکام جاری کئے تھے ،ان کی خلاف ورزی کرکے ہر قدم پر کمیٹی کی سفارشات کو نظر انداز کرتے ہیں۔اس لئے ایسے عہدے داران کو عہدے سے ہٹایا جانا چاہیے۔ لوڑھا  کمیٹی نے چیف جسٹس ٹی ایس ٹھاکر کی صدارت والی بنچ سے درخواست کی کہ وہ بورڈ کے رویہ کے سلسلے میں جلد از جلد سماعت کرے۔اس پر جسٹس ٹھاکر نے کہا،’’ہم جلد اس معاملے کی سماعت کریں گے۔‘‘ عدالت نے کہا کہ اگر بی سی سی آئی یہ سمجھتی ہے کہ بورڈ خود اپنے آپ میں قانون ہے،تو وہ غلط سوچتا ہے۔بی سی سی آئی میں عدالت کے تئیں احترام کا کوئی جذبہ نہیں ہے۔سپریم کورٹ نے بی سی سی آئی میں بہتری لانے کی کوششوں میں رکاوٹ پیدا کرنے کے لوڑھا کمیٹی کے الزامات کا جواب دینے کےلئے بورڈ کو چھ اکتوبر تک کا وقت دیا ہے۔


واضح رہے کہ بی سی سی آئی کی 21ستمبر کو ہوئی سالانہ عام میٹنگ میں مسٹر شرکے کو سکریٹری مقرر کیا گیا تھا،جبکہ پانچ رکنی انتخابی کمیٹی کا چناؤ کیا گیا تھا۔اس کےبعد لوڑھا کمیٹی نے داخلی میٹنگ منعقد کی تھی اور عدالت میں صورت حال کی رپورٹ دائر کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔


First published: Sep 28, 2016 03:33 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading