ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

لوک سبھا کی کارروائی مقررہ وقت سے دو دن پہلے غیر معینہ مدت کے لئے ملتوی

نئی دہلی۔ بجٹ اجلاس کے دوسرے مرحلے کے طور پر بلایا گیا لوک سبھا کا اجلاس آج مقررہ وقت سے دو دن پہلے غیر معینہ مدت کے لئے ملتوی کر دیا گیا۔

  • UNI
  • Last Updated: May 11, 2016 09:35 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
لوک سبھا کی کارروائی مقررہ وقت سے دو دن پہلے غیر معینہ مدت کے لئے ملتوی
فائل فوٹو

نئی دہلی۔ بجٹ اجلاس کے دوسرے مرحلے کے طور پر بلایا گیا لوک سبھا کا اجلاس آج مقررہ وقت سے دو دن پہلے غیر معینہ مدت کے لئے ملتوی کر دیا گیا۔ بجٹ سیشن کا پہلا مرحلہ 16 مارچ کو پورا ہوا تھا اور پھر چھٹی کے بعد دوسرا مرحلہ 25 اپریل سے شروع ہونا تھا لیکن اتراکھنڈ میں صدر راج لگائے جانے کے تناظر میں تصرفاتی بل جاری کرنے کے لئے بجٹ سیشن چھٹی کے دوران ہی ملتوی کر دیا گیا۔ نئے سیشن کے طور پر بجٹ اجلاس کا دوسرا مرحلہ 25 اپریل سے ہی شروع ہوا اور یہ 13 مئی تک مقرر تھا لیکن یہ آج اچانک غیر معینہ مدت کے لئے ملتوی کر دیا گیا۔


اس سیشن کے دوران ایوان نے سال 2016 ۔17 ریلوے بجٹ اور عام بجٹ کو منظوری دے دی. سماجی انصاف اور امپاورمنٹ کی وزارت، شمال مشرقی علاقے کی ترقی کی وزارت، شہری ہوابازی اور سیاحت کی وزارتوں سمیت چھ وزارتوں کی گرانٹ مطالبات پر بحث کی گئی اور انہیں منظور کیا گیا. اس کے علاوہ اتراکھنڈ تصرفاتی آرڈی ننس کی جگہ پر لائے گئے تصرفاتی بل کو بھی منظور کیا گیا۔ ایوان نے دیوالا اور ادائیگی نااہلی ضابطہ 2016 بل، باغات فنڈ بل 2016 اور طیارہ اغواانسداد بل وغیرہ بلوں کو بھی منظور کیا. اس کے علاوہ آگسٹا ویسٹ لینڈ ہیلی کاپٹر معاملے میں رشوت کے معاملے پر خصوصی توجہ تجویز کے ذریعے بحث کی گئی جس پر وزیر دفاع منوہر پاریکر نے جواب دیا۔


اسپیکر سمترا مہاجن نے ایوان کی کارروائی غیر معینہ مدت کے لئے ملتوی کرنے سے قبل کہا کہ اس سیشن میں 13 اجلاس ہوئے، جن کی مدت 92 گھنٹے 21 منٹ رہی. اس دوران ایوان نے 14 گھنٹے 32 منٹ دیر تک بیٹھ کر بھی کام کاج نمٹایا. اس سیشن میں چار سرکاری بل پیش کئے گئے، جبکہ 10 منظورکئے گئے. انہوں نے پورے سیشن کے بغیر رکاوٹ چلنے پر خوشی ظاہر کی اور تمام اراکین کاتعاون کے لئے شکریہ ادا کیا ۔ ایوان نے 'انفورسمنٹ آف سیکورٹی انٹرسٹ اینڈ ریکوری آف ڈیبٹس لا (ترمیم) بل 2016' کو پارلیمنٹ کی مشترکہ کمیٹی کےسپرد کیا۔ ایوان نے ملک کی مختلف ریاستوں میں خشک سالی جیسے حالات اور پینے کے پانی کے بحران پر ضابطہ 193 کے تحت بحث کی اور متعلقہ وزارتوں کے وزراء نے اس کا جواب بھی دیا. سیشن کے دوران مختلف محکموں سے متعلقہ مستقل کمیٹی کے 56 رپورٹیں پیش کی گئیں۔


First published: May 11, 2016 09:35 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading