ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

ڈومریا گنج لوک سبھا سیٹ: جگدمبیکا پال کی جیت کی ہیٹ ٹرک کے سامنے چٹان کی طرح کھڑا ہے بی ایس پی کا یہ امیدوار

جگدمبیکا پال کو ’ ون ڈے ونڈر آف انڈین پالیٹکس ‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ دراصل، 1998 میں سیاسی حالات کے مدنظر جگدمبیکا پال کو ایک دن کے لئے اترپردیش کا وزیر اعلیٰ بنایا گیا تھا۔

  • Share this:
ڈومریا گنج لوک سبھا سیٹ: جگدمبیکا پال کی جیت کی ہیٹ ٹرک کے سامنے چٹان کی طرح کھڑا ہے بی ایس پی کا یہ امیدوار
جگدمبیکا پال کو ’ ون ڈے ونڈر آف انڈین پالیٹکس ‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔

نیپال سرحد سے متصل ڈومریا گنج لوک سبھا سیٹ ایک دور میں کانگریس کے لیڈر قاضی جلیل عباسی کی سیٹ کہی جاتی تھی۔ قاضی جلیل عباسی جدو جہد آزادی سے جڑے رہے۔ بڑی مسلم آبادی والی اس سیٹ پر ذات پات پر مبنی اعدادوشمار کا اپنا رنگ رہا ہے۔ کانگریس کی سینئر لیڈر محسنہ قدوائی اور معروف اور سینئر انگریزی جرنلسٹ سیما مصطفیٰ یہاں سے الیکشن لڑ چکی ہیں۔


ایک وقت بستی ضلع کا حصہ رہا ڈومریا گنج اب سدھارتھ نگر کی تحصیل ہے۔ ڈومریا گنج شہر راپتی ندی کے کنارے آباد ہے۔ مہاتما بدھ کی جائے پیدائش لمبنی( کپل وستو) یہاں سے محض 80 میل کی دوری پر ہے۔ یوپی کے پسماندہ علاقوں میں اس کا شمار ہوتا ہے۔ سدھارتھ نگر کا خصوصی طور پر الیدہ پور کا علاقہ ’ کالا نمک‘ چاول کے لئے کافی مشہور ہے۔


آئرن اور زنک سے بھرپور اس چاول کا ذکر اقوام متحدہ کے خوراک اور زراعت سے متعلق ادارے نے اپنی کتاب ’ اسپیشیلٹی رائس آف ورلڈ‘ میں بھی کیا ہے۔ لیکن کل ملا کر محسنہ قدوائی سے لے کر موجودہ رکن پارلیمنٹ جگدمبیکا پال تک اس علاقہ کو’ ترقی‘ سے ہمکنار نہیں کر پائے ہیں۔


پچھلے الیکشن میں کیسا تھا مزاج

سال 2014 کے انتخابات میں بی جے پی کے جگدمبیکا پال 2،98،845 ووٹ پا کر الیکشن جیتے تھے۔ جبکہ بی ایس پی کے محمد مقیم دوسرے نمبر پر رہے۔ انہوں نے 1،95،257 ووٹ حاصل کئے۔ پال نے یہ الیکشن 103،588 ووٹوں کے فرق سے جیت لیا تھا۔ انتخابات میں تیسرے مقام پر سماجوادی پارٹی کے ماتا پرساد پانڈے رہے جن کو 174777 ووٹ ملے۔ کانگریس کی وسندھرا پانچویں مقام پر رہیں جبکہ پیس پارٹی کے ڈاکٹر محمد ایوب چوتھے نمبر پر رہے۔

بی ایس پی امیدوار آفتاب عالم عوامی رابطہ کے دوران
بی ایس پی امیدوار آفتاب عالم عوامی رابطہ کے دوران


کون ہیں امیدوار

بھارتیہ جنتا پارٹی نے اس بار بھی جگدمبیکا پال پر ہی بھروسہ کیا ہے۔ کانگریس کی طرف سے ڈاکٹر چندریش اپادھیائے امیدوار ہیں۔ جبکہ بی ایس پی سے آفتاب عالم یہاں سے الیکشن لڑ رہے ہیں۔ پیشے سے معالج ڈاکٹر اپادھیائے ایک طویل عرصہ تک بی جے پی سے وابستہ رہے۔ کہا جاتا ہے کہ بی جے پی سے ٹکٹ نہیں ملنے کی وجہ سے انہوں نے کانگریس کا دامن تھام لیا۔

آفتاب عالم عرف گڈو ایس پی۔ بی ایس پی گٹھ بندھن کے امیدوار ہیں۔ وہ 2017 میں پپرائچ سے اسمبلی الیکشن لڑ چکے ہیں۔ گزشتہ ایک سال سے وہ مسلسل سدھارتھ نگر ضلع میں سرگرم ہیں اور عوامی رابطے کر رہے ہیں۔ ایسے میں سمجھا جا رہا ہے کہ وہ جگدمبیکا پال کو سخت ٹکر دیں گے۔

جگدمبیکا پال کو ’ ون ڈے ونڈر آف انڈین پالیٹکس ‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ دراصل، 1998 میں سیاسی حالات کے مدنظر جگدمبیکا پال کو ایک دن کے لئے اترپردیش کا وزیر اعلیٰ بنایا گیا تھا۔ جگدمبیکا پال مسلسل دو بار سے یہاں سے الیکشن جیتنے میں کامیاب رہے ہیں۔ وہ پیشے سے وکیل اور اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں۔ پچھلے لوک سبھا الیکشن سے ٹھیک پہلے پال نے 7مارچ 2014 کو کانگریس کو الوداع کہہ دیا اور وہ اپنے حامیوں کے ساتھ 19 مارچ 2014 کو بی جے پی میں شامل ہو گئے تھے۔

بی جے پی امیدوار جگدمبیکا پال وزیر اعظم مودی کے ساتھ
بی جے پی امیدوار جگدمبیکا پال وزیر اعظم مودی کے ساتھ


اس لوک سبھا علاقہ میں اسمبلی کی کل پانچ سیٹیں ہیں۔ ڈومریاگنج، اٹوا، شہرت گڑھ ، کپل وستو اور بانسی۔ ابھی ان پانچوں سیٹوں پر بی جے پی قابض ہے۔ 1989 میں برج بھوشن تیواری جنتا دل سے رکن پارلیمنٹ منتخب ہوئے تھے۔ 1991 میں بی جے پی کے رام پال سنگھ نے یہاں سے الیکشن جیتا۔ انہیں دو مسلم امیدوار محسنہ قدوائی اور سیما مصطفیٰ کے ہونے کا فائدہ ملا تھا۔ اس کے بعد سے بی جے پی کا یہاں پر اثر ورسوخ رہا ہے۔

کانگریس امیدوار ڈاکٹر چندریش اپادھیائے عوامی رابطہ کے دوران
کانگریس امیدوار ڈاکٹر چندریش اپادھیائے عوامی رابطہ کے دوران


کیا ہیں ذات پات پر مبنی اعداد وشمار

مذہب کی بنیاد پردیکھا جائے تو یہاں مسلمانوں کی آبادی تقریبا 30 فیصد ہے۔  یہاں کا صنفی تناسب 946 ہے۔ 2014 ء کے انتخابات میں یہاں پر 17،61،415 ووٹرز تھے جن میں 9,61,957مرد اور 7،99،458 خواتین ووٹرز تھیں۔ یہاں کی آبادی 25,59,297 لاکھ ہے۔

 
First published: May 06, 2019 06:12 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading