ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

عام انتخابات 2019: مسلم لیڈروں اور علما نے الیکشن کی تاریخوں پر اٹھائے سوال

آئندہ 6 مئی سے رمضان کا مقدس مہینہ شروع ہونے جا رہا ہے۔ جس کے پیش نظر، کچھ مسلم لیڈران اور علما نے انتخابات کی ان تاریخوں پر سوال کھڑے کئے ہیں

  • Share this:
عام انتخابات 2019: مسلم لیڈروں اور علما نے الیکشن کی تاریخوں پر اٹھائے سوال
مسلم خواتین ووٹ ڈالنے کے بعد: فائل فوٹو۔ فوٹو نیوز 18 ڈاٹ کام

عام انتخابات 2019 کی تاریخوں کا اعلان اتوار کے روز کر دیا گیا ہے۔ یہ عام انتخابات ملک بھر میں 7 مرحلوں میں ہوں گے۔ آخری تین مرحلے کے انتخابات رمضان کے مہینہ میں کرائے جائیں گے ۔ کیونکہ آئندہ 6 مئی سے رمضان کا مقدس مہینہ شروع ہونے جا رہا ہے۔ جس کے پیش نظر، کچھ مسلم لیڈران اور علما نے انتخابات کی ان تاریخوں پر سوال کھڑے کئے ہیں۔ انہوں نے الیکشن کمیشن سے درخواست کی ہے کہ رمضان میں ہونے والے تین مرحلوں کے انتخابات رمضان سے پہلے یا پھر عید کے بعد کرائے جائیں۔ ان مسلم لیڈروں اور علما نے الیکشن کمیشن کی منشا پر بھی سوال اٹھائے ہیں۔


مغربی بنگال میں ترنمول کانگریس لیڈر اور کولکاتہ میونسپل کارپوریشن کے میئر فرہاد حکیم نے الزام لگایا ہے کہ الیکشن کمیشن نے رمضان کے دنوں میں الیکشن کی تاریخیں رکھی ہیں تاکہ اقلیتیں ووٹ نہ ڈال سکیں۔ انہوں نے کہا کہ رمضان میں الیکشن ہونے کی وجہ سےلوگوں کو ووٹ ڈالنے میں کافی پریشانی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن ایک آئینی ادارہ ہے اور ہم اس کا احترام کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سات مرحلوں میں ہونے والے انتخابات یوپی، بہار اور مغربی بنگال کے لوگوں کے لئے مشکل ثابت ہوں گے۔ فرہاد حکیم نے کہا کہ ان انتخابات میں سب سے زیادہ پریشانی مسلمانوں کو ہو گی کیونکہ ووٹنگ کی تاریخیں رمضان کے مہینہ میں رکھی گئی ہیں۔


فرہاد حکیم نے یہ الزام بھی لگایا کہ بی جے پی چاہتی ہے کہ اقلیت اپنا ووٹ نہ ڈالنے پائے۔ لیکن ہم فکرمند نہیں ہیں۔ اب لوگ بی جے پی ہٹاؤ، ملک بچاو کے تئیں پابند عہد ہیں۔


وہیں، دوسری طرف ، معروف اسلامی اسکالر، لکھنئو عیدگاہ کے امام اور شہر قاضی مولانا خالد رشید فرنگی محلی نے بھی 6 مئی سے 19 مئی کے درمیان ہونے والے لوک سبھا انتخابات کو لے کر شدید ناراضگی ظاہر کی ہے۔ مولانا نے کہا کہ اگر 5 مئی کو رمضان کا چاند نظر آ جائے گا تو پھر 6 مئی سے روزہ شروع ہو جائے گا۔ اس طرح رمضان کے مہینہ میں ملک میں 6 مئی، 12 مئی اور 19 مئی کو ووٹنگ ہو گی جس سے ملک کے کروڑوں روزہ داروں کو پریشانی ہو گی۔

انہوں نے کہا کہ وہ الیکشن کمیشن سے اپیل کرتے ہیں کہ الیکشن کی تاریخیں رمضان سے پہلے یا عید کے بعد رکھی جائیں تاکہ بڑی تعداد میں مسلمان ووٹ ڈالنے کے لئے نکلیں اور انہیں کوئی دقت نہ ہو۔

خیال رہے کہ الیکشن کمیشن نے ملک بھر میں سات مرحلوں میں عام انتخابات کرانے کا اعلان کیا ہے۔ اس کے تحت پہلے مرحلہ کا الیکشن 11 اپریل کو، دوسرے مرحلہ کا الیکشن 18 اپریل کو، تیسرے مرحلہ کا الیکشن 23 اپریل کو، چوتھے مرحلہ کا 29 اپریل کو، پانچویں مرحلہ کا 6 مئی کو، چھٹے مرحلہ کا الیکشن 12 مئی کو اور ساتویں اور آخری مرحلہ کا الیکشن 19 مئی کو ہو گا۔ 23 مئی کو ووٹوں کی گنتی ہو گی اور اس کے بعد نئی حکومت کی تشکیل کا عمل شروع ہو جائے گا۔

 
First published: Mar 11, 2019 11:53 AM IST