உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    ای وی ایم کو وی وی پیٹ پرچی سے ملانے کا عمل:21 پارٹیوں کی نظرثانی عرضی خارج

    آندھراپردیش کے وزیر اعلیٰ چندربابو نائیڈو، وکیل اور کانگریس لیڈر ابھیشک منو سنگھوی اور سی پی آئی لیڈر ڈی راجا سپریم کورٹ کے فیصلہ کے بعد میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے۔

    آندھراپردیش کے وزیر اعلیٰ چندربابو نائیڈو، وکیل اور کانگریس لیڈر ابھیشک منو سنگھوی اور سی پی آئی لیڈر ڈی راجا سپریم کورٹ کے فیصلہ کے بعد میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے۔

    سپریم کورٹ نے الیکٹرونک ووٹنگ مشین (ای وی ایم ) سے پڑے ووٹوں کی ووٹنگ ویریفائبل پیپرس آڈٹ ٹریل(وی وی پیٹ) پرچی کو ملانے کے معاملے میں 21 اپوزیشن پارٹیوں کی نظر ثانی عرضی منگل کو خارج کردی۔

    • UNI
    • Last Updated :
    • Share this:
      سپریم کورٹ نے الیکٹرونک ووٹنگ مشین (ای وی ایم) سے ڈالے گئے ووٹوں کے ووٹنگ ویری فائبل پیپرس آڈٹ ٹریل (وی وی پی اے ٹی) کی پرچی سے ملانے کے معاملہ میں 21اپوزیشن جماعتوں کے لیڈروں کی نظرثانی عرضی منگل کو خارج کردی۔ چیف جسٹس رنجن گوگوئی، جج دیپک گپتا اور سنجیو کھنہ کی بنچ نے تیلگو دیشم پارٹی کے سربراہ این چندر بابو نائیڈو اور 20دیگر جماعتوں کے لیڈروں کی طرف سے دائر نظرثانی کی عرضی یہ کہتے ہوئے خارج کردی کہ اسے اپنے حکم پر پھر سے غور کرنے کی کو ئی وجہ نظر نہیں آتی۔
      عرضی گزاروں نے بنچ کے آٹھ اپریل کے اس حکم پر پھر سے نظرثانی کرنے کی درخواست کی تھی جس میں اس نے ہر ایک اسمبلی حلقہ سے ایک کے بجائے پانچ پولنگ مراکز کی ای وی ایم مشینوں میں ڈالے گئے ووٹوں کو وی وی پی اے ٹی کی پرچیوں سے ملانے کا الیکشن کمیشن کوحکم دیا تھا۔ جج گوگو ئی نے کہا کہ ہمیں اپنے سابقہ حکم پر غور کرنے کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی۔ ہم 21اپوزیشن جماعتوں کے لیڈروں کی طرف سے دائر نظرثانی کی عرضی کی سماعت کے حق میں نہیں ہیں۔
      اس سے پہلے سماعت کے دوران عرضی گزاروں کی طرف سے پیش سینئر وکیل ابھیشیک منو سنگھوی نے دلیل دی کہ اہم عرضی میں پچاس فیصد پولنگ مراکز کی ای وی ایم مشینوں میں پڑے ووٹوں کو وی وی پی اے ٹی کی پرچیوں سے ملانے کی مانگ کی گئی تھی لیکن عدالت نے یہ تعداد ایک بڑھاکر پانچ ای وی ایم ہی کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عرضی گزاروں کو خوشی ہوگی کہ اگر یہ تعداد 33فیصد تک بڑھائی جائے۔ اتنا بھی نہیں تو یہ تعداد کم از کم25فیصد تک بڑھائی جاسکتی ہے۔
      خیال رہے کہ عرضی گزاروں کا کہنا تھا کہ پچاس فیصد وی وی پی اے ٹی کی پرچیوں کو ای وی ایم میں پڑے ووٹوں سے ملایا جانا چاہئے اور کسی بھی گڑبڑی کی حالت میں وی وی پی اے ٹی کی گنتی کی بنیاد پر نتائج اعلان ہونے چاہئیں۔ جن اپوزیشن جماعتوں نے عرضی دائر کی تھی ان میں نائیڈو کے علاوہ نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کے شرد پوار، کانگریس کے کے سی وینوگوپال، ترنمول کے ڈیرک او برائن، بہوجن سماج پارٹی کے ستیش چندر مشرا، ڈی ایم اے کے ایم کے اسٹالن، مارکسی کمیونسٹ پارٹی کے ٹی کے رنگ راجن، راشٹریہ جنتادل کے منوج کمار جھا، عام آدمی پارٹی کے اروند کیجریوال، نیشنل کانفرنس کے فاروق عبداللہ، کمیونسٹ پارٹی کے سدھاکر ریڈی، آر ایل ڈی کے اجیت سنگھ اور اے آئی یو ڈی ایف کے ایم بدرالدین اجمل سمیت دیگر لیڈر شامل تھے۔
      آج نظرثانی کی عرضی خارج کئے جانے کے بعد سنگھوی نے عدالت کے احاطہ میں نامہ نگاروں سے بات چیت میں کہا کہ ہم عدالت کا پورا احترام کرتے ہیں اور عدالت کا فیصلہ ہمیں منظور ہے۔ انہوں نے کہا کہ عرضی دائر کرنے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ عرضی گزار عدالت کے سابقہ حکم کا احترام نہیں کرتے۔
      First published: