ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

تجزیہ: وارانسی میں ہو سکتا ہے لوک سبھا الیکشن 2019 کا سب سے بڑا مقابلہ، مودی بنام پرینکا!۔

وارانسی لوک سبھا سیٹ کی تاریخ کو دیکھیں تو 1991 کے بعد سے 2004 کو چھوڑ کر یہ نشست بی جے پی کی روایتی نشست رہی ہے۔ اگرچہ یہاں 2009 کا لوک سبھا الیکشن بی جے پی کے لئے سب سے مشکل رہا

  • Share this:
تجزیہ: وارانسی میں ہو سکتا ہے لوک سبھا الیکشن 2019 کا سب سے بڑا مقابلہ، مودی بنام پرینکا!۔
پرینکا گاندھی اور راہل گاندھی کی فائل فوٹو۔

کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی کا اگلا قدم کیا ہوگا، کیا وہ صرف پارٹی کی انتخابی تشہیر کی ذمہ داری سنبھالیں گی؟ کیا ماں سونیا گاندھی کی سیٹ رائے بریلی سے الیکشن لڑ کر آسانی سے لوک سبھا جائیں گی یا پھر وہ وارانسی میں وزیر اعظم مودی کو براہ راست ٹکر دیں گی؟ وارانسی میں کانگریس کا چہرہ سمجھے جانے والے اور گزشتہ الیکشن میں نریندر مودی کے خلاف کانگریس کے امیدوار اجے رائے نے پرینکا گاندھی کو وارانسی سے الیکشن لڑانے کی مانگ کر پرینکا کے وارانسی سے الیکشن لڑنے کی خبروں کو ہوا دے دی ہے۔


نیوز 18 پر سینئر صحافی ویر سنگھوی نے بھی پرینکا گاندھی کے وارانسی سے الیکشن لڑنے کی بات کہی۔ ایسے میں واضح ہے کہ کانگریس میں کہیں نہ کہیں پرینکا کو وارانسی سے الیکشن لڑانے کی چرچا ہو رہی ہے۔ حالانکہ، کانگریس پارٹی اس مسئلہ پر ابھی کھل کر کچھ بولنے کو تیار نہیں ہے۔


کانگریس کے ترجمان اکھلیش سنگھ نے پرینکا گاندھی کے وارانسی سے الیکشن لڑنے کی خبروں کی تردید کی ہے۔ انہوں نے اس طرح کی خبر کو پوری طرح افواہ بتایا۔


دوسری طرف، بھارتیہ جنتا پارٹی پرینکا گاندھی کو وارانسی میں وزیراعظم مودی کے آگے کسی طرح کا چیلنج نہیں مانتی۔

بی جے پی ترجمان شلبھ منی ترپاٹھی کا دعویٰ ہے کہ وارانسی میں وزیر اعظم مودی اور بی جے پی حکومت نے پچھلے ساڑھے چار سال میں جو ترقی کی ہے اس کے بعد سب کو یہ پتہ ہے کہ مودی اور کاشی ایک دوسرے کے لئے بنے ہیں۔ وارانسی کے لوگ وزیر اعظم مودی کو رکن پارلیمنٹ کی بجائے بیٹے کی طرح مانتے ہیں۔ ایسے میں اگر پرینکا گاندھی الیکشن لڑتی ہیں تو بی جے پی ان کا خیرمقدم کرے گی۔ کیونکہ مقابلہ تو یکطرفہ ہی ہونا ہے۔

پرینکا کے وارانسی سے الیکشن لڑنے پر سماج وادی پارٹی ابھی کچھ کھل کر بولنے کو تیار نہیں ہے۔ پارٹی کیا سونیا گاندھی اور راہل گاندھی کی طرح پرینکا کو بھی واک اوور دے گی، اس سوال کے جواب میں پارٹی کے ترجمان راجیو رائے نے کہا کہ جب کانگریس پرینکا کے وارانسی سے الیکشن لڑنے کا اعلان کر دے گی تب ہی پارٹی اپنے پتے کھولے گی۔

لیکن کیا پرینکا وارانسی سے مودی کو چیلنج دے پائیں گی؟ اگر ہم وارانسی لوک سبھا سیٹ کی تاریخ کو دیکھیں تو 1991 کے بعد سے 2004 کو چھوڑ کر یہ نشست بی جے پی کی روایتی نشست رہی ہے۔ اگرچہ یہاں 2009 کا لوک سبھا الیکشن بی جے پی کے لئے سب سے مشکل رہا۔ بی جے پی کے قدآور لیڈر مرلی منوہر جوشی یہاں صرف 17 ہزار ووٹوں سے الیکشن جیتے تھے۔ بات کریں ذات پات مساوات کی تو اس سیٹ پر قریب ساڑھے تین لاکھ ویشیہ، ڈھائی لاکھ برہمن، تین لاکھ سے زیادہ مسلمان، ڈیڑھ لاکھ بھومیہار، ایک لاکھ راجپوت، دو لاکھ پٹیل، اسی ہزار چورسیا کو ملا کر تقریبا ساڑھے تین لاکھ او بی سی ووٹر اور تقریبا ایک لاکھ دلت ووٹر ہیں۔ واضح ہے کہ فی الحال ذات پات کے اعدادوشمار یہاں تو بی جے پی اور وزیر اعظم مودی کے حق میں ہی دکھائی دے رہے ہیں۔

انل رائے کی رپورٹ
First published: Jan 24, 2019 03:30 PM IST