உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    بھاری ہنگامے کی وجہ سے لوک سبھا کی کارروائی دن بھر کے لئے ملتوی

    لوک سبھا میں احتجاج کرتے ارکان

    لوک سبھا میں احتجاج کرتے ارکان

    کاویری پانی کے مینجمنٹ بورڈ کے قیام کی مانگ کو لے کر اے آئی ڈی ایم کے کے ارکان کے بھاری ہنگامے کی وجہ سے لوک سبھا میں آج 21 ویں دن بھی کوئی كام کاج نہیں ہوسکا اور ایوان کی کارروائی دن بھر کے لئے ملتوی کر دی گئی۔

    • UNI
    • Last Updated :
    • Share this:

      نئی دہلی۔ کاویری پانی کے مینجمنٹ بورڈ کے قیام کی مانگ کو لے کر اے آئی ڈی ایم کے کے ارکان کے بھاری ہنگامے کی وجہ سے لوک سبھا میں آج 21 ویں دن بھی کوئی كام کاج نہیں ہوسکا اور ایوان کی کارروائی دن بھر کے لئے ملتوی کر دی گئی۔ ایوان کی کارروائی ایک بار ملتوی ہونے کے بعد دوپہر 12 بجے جیسے ہی کارروائی دوبارہ شروع ہوئی پہلے ہی سے چیئر کے قریب موجود اے آئی ڈی ایم کے کے ارکان نے زور زور سے نعرے لگانے شروع کر دیئے۔ وہ ہاتھوں میں تختیاں لئے ہوئے تھے، جن پر کاویری مینجمنٹ بورڈ کے قیام کا مطالبہ لکھا تھا۔ وہ ’ہمیں انصاف چاہیے‘ کے نعرے بھی لگا رہے تھے۔


      شور شرابے کے درمیان ہی اسپیکر سمترا مہاجن نے ضروری دستاویزات ایوان میں ركھوائے۔ اس کے بعد انہوں نے ایوان کو بتایا کہ کانگریس کے ملكا ارجن كھڑگے، تیلگودیشم پارٹی کے تھوٹا نرسمہن، وائی ایس آر کانگریس کے وائی وي سبا ریڈی، روليوشنري سوشلسٹ پارٹی کے این پریم چندرن اور کچھ دیگر ارکان کی جانب سے ان کو عدم اعتماد کی تحریک کے نوٹس ملے ہیں۔ انہوں نے ہنگامہ کر رہے اے آئی اے ڈی ایم کے کے ارکان سے ایوان میں نظم و ضبط برقرار رکھنے کے لئے اپنی اپنی نشستوں پر جانے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وہ عدم اعتماد کی تحریک کے نوٹس کی حمایت میں کھڑے ارکان کو گن نہیں پا رہی ہیں، لیکن اے آئی اے ڈی ایم کے کے ارکان نے ان کی اپیل کو مسترد کر دیا۔


      پارلیمانی امور کے وزیر اننت کمار نے ہنگامے کے درمیان ہی کہا کہ حکومت عدم اعتماد کی تحریک پر بحث کو تیار ہے، لیکن کانگریس سمیت دوسری اپوزیشن پارٹیاں خود ہی بحث کے معاملہ سنجیدہ نہیں ہیں۔ انہوں نے کانگریس پر ایوان میں تعطل جاری رکھنے کا الزام بھی لگایا۔ ہنگامہ کو دیکھ اسپیکر نے ایوان کی کارروائی دن بھر کے لئے ملتوی کر دی۔ اس سے پہلے صبح 11 بجے بھی ہنگامے کی وجہ سے ایوان کی کارروائی ایک منٹ کے اندر ہی ملتوی کرنی پڑ گئی تھی۔

      First published: