ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

مرکز اور دہلی حکومت کا رشتہ ساس۔بہو کا، دونوں مل کر کام کریں: سمترا

لوک سبھا اسپیکر سمترا مہاجن نے آج وزیر اعلی اروند کیجری وال حکومت کو نصیحت دی کہ مرکز اور دہلی کی حکومت کا رشتہ ساس۔بہو کا ہے

  • UNI
  • Last Updated: Aug 25, 2015 06:53 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
مرکز اور دہلی حکومت کا رشتہ ساس۔بہو کا، دونوں مل کر کام کریں: سمترا
لوک سبھا اسپیکر سمترا مہاجن نے آج وزیر اعلی اروند کیجری وال حکومت کو نصیحت دی کہ مرکز اور دہلی کی حکومت کا رشتہ ساس۔بہو کا ہے

نئی دہلی : لوک سبھا اسپیکر سمترا مہاجن نے آج وزیر اعلی اروند کیجری وال حکومت کو نصیحت دی کہ مرکز اور دہلی کی حکومت کا رشتہ ساس۔بہو کا ہے اور دونوں کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ محترمہ مہاجن نے دہلی کے اراکین اسمبلی کے دو روزہ تربیتی کیمپ کا افتتاح کرتے ہوئے کہا کہ یہ درست ہے کہ اب تک آپ احتجاج کرتے رہے ہیں، لیکن چوراہے پر کی گئی تقریر اور اسمبلی میں کہی گئی باتوں میں فرق سمجھنا چاہئے۔


انہوں نے کہا کہ ایسا اتفاق ہے کہ بدلی ہوئی سیاست میں وزیر اعظم پہلی بار ممبر پارلیمنٹ بنے ہیں تو وزیر اعلی بھی پہلی بار رکن اسمبلی منتخب ہوئے ہیں، اس لئے دونوں کو توازن قائم کرکے چلنے کی ضرورت ہے۔ احتجاج کنندگان کو یہ سمجھنا چاہئے کہ وہ انگریزوں کے خلاف نہیں بلکہ اپنی حکومت کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں اور سرکاری اثاثہ کو نقصان پہنچانا غلط ہے۔ اس موقع پر دہلی اسمبلی کے اسپیکر رام نواس گوئل، وزیر اعلی اروند کیجری وال اور نائب وزیر اعلی منیش سسودیا کے علاوہ دیگر اراکین اسمبلی موجود تھے۔ واضح رہے کہ دہلی حکومت اور لیفٹننٹ گورنر کے مابین مختلف امور پر تنازعہ بڑھتا ہی جا رہا ہے۔


اسمبلی کی کارروائی بحسن و خوبی چلانے کا درس دیتے ہوئے محترمہ مہاجن نے کہا کہ دہلی اسمبلی کے تقریباً تمام اراکین نئے ہیں۔قانون بناتے وقت انہیں احتیاط برتنے کی ضرورت ہے کیوں کہ یہ قانون کچھ عرصہ کیلئے نہیں ہوتے، طویل مدت کیلئے بنائے جاتے ہیں۔ اس لئے انہیں اس بات کا خیال رکھنا ہوگا کہ وہ جو بھی کہہ رہے ہیں یا کر رہے ہیں، اس کے دور رس اثرات مرتب ہوں گے۔ اراکین اسمبلی کہیں پر نہیں بلکہ اسمبلی میں اپنی بات پیش کر رہے ہیں۔


دہلی اسمبلی کی خصوصی اہمیت کا ذکر کرتےہوئے کہا کہ ملک کی راجدھانی کا یہ ایوان ’مثالی ایوان‘ کے طور پر تصور کیا جا تا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہلی اسمبلی ’بہو‘ ہے تو یہاں ساس سسر کا پورا کنبہ موجود ہے۔ اراکین اسمبلی کو اس بات کو سمجھنا ہوگا۔اپوزیشن کو بھی نصیحت دیتے ہوئے محترمہ مہاجن نے کہا کہ اسے بھی ایوان میں کہی گئی باتوں کے لئے یاد کیا جاتا ہے اس لئے اسے بھی اس بات کا خیال رکھنا چاہئےکہ وہ ہر بات کو بہتر طریقے سے ایوان میں پیش کرے۔ انہوں نے حزب اقتدار کے لیڈروں سے بھی کہا کہ انہیں حکومت سے الگ الگ مسائل پر سوال پوچھنے چاہئیں۔ اراکین کو اپنی دلچسپی کےموضوع کا انتخاب کرنا چاہئے جس سے وہ اپنی علیحدہ شناخت قائم کرسکیں اور عوام انہیں یاد رکھیں۔

First published: Aug 25, 2015 06:53 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading