ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

نئی عمارت کے ساتھ پارلیمنٹ کی عمارت بھی ہو سکتی ہے ڈیجیٹل، جانیں کس طرح

نئی دہلی۔ ہندستان کو جدید ٹیکنالوجی سے لیس پارلیمنٹ کی عمارت کے لئے ایک نئی عمارت مل سکتی ہے، جس کی تجویز لوک سبھا اسپیکر سمترا مہاجن نے بھیجی ہے۔

  • IBN7
  • Last Updated: Dec 28, 2015 08:31 AM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
نئی عمارت کے ساتھ پارلیمنٹ کی عمارت بھی ہو سکتی ہے ڈیجیٹل، جانیں کس طرح
نئی دہلی۔ ہندستان کو جدید ٹیکنالوجی سے لیس پارلیمنٹ کی عمارت کے لئے ایک نئی عمارت مل سکتی ہے، جس کی تجویز لوک سبھا اسپیکر سمترا مہاجن نے بھیجی ہے۔

نئی دہلی۔ ہندستان کو جدید ٹیکنالوجی سے لیس پارلیمنٹ کی عمارت کے لئے ایک نئی عمارت مل سکتی ہے، جس کی تجویز لوک سبھا اسپیکر سمترا مہاجن نے بھیجی ہے۔ صدر نے کہا ہے کہ موجودہ 88 سال پرانی عمارت پر بڑھتی ہوئی عمر کا اثر نظر آنے لگا ہے اور یہ زیادہ جگہ کی بڑھتی ہوئی مانگ کو پورا کرنے میں اب قابل نہیں ہے۔


ذرائع نے بتایا کہ مہاجن نے اس بارے میں شہری ترقی کے وزیر ایم وینکیا نائیڈو کو خط لکھا ہے اور ان سے نئے پارلیمنٹ کی عمارت احاطے کی تعمیر کے کام کو شروع کرنے پر غور کرنے کو کہا ہے۔ اس کے لئے دو متبادل مقامات بتائے ہیں۔ ایک پارلیمنٹ کی عمارت کے احاطے میں ہی اور دوسرا قریب ہی راج پتھ کے اس مقام پر جہاں سیکورٹی اور دہلی پولیس کے کچھ بیرک واقع ہیں۔ ذرائع نے بتایا کہ شہری ترقی کی وزارت کو لکھے گئے خط کے مطابق ایسا امکان ہے کہ وزارت کابینہ کے لئے ایک نوٹ تیار کرے گی جہاں اس پر غور کیا جا سکتا ہے۔


اپنے خط میں سمترا مہاجن نے لکھا ہے کہ سال 2026 کے بعد لوک سبھا کی سیٹوں کی تعداد بڑھنے کا امکان ہے اور یہ آئین کے آرٹیکل 81 کے 3 کے تحت ہو سکتا ہے۔ ابھی لوک سبھا میں بیٹھنے کی گنجائش 550 نشستوں کی ہے اور اسے بڑھایا نہیں جا سکتا ہے۔ اس آرٹیکل کے تحت 2026 میں 2021 کی ممکنہ مردم شماری کے مطابق نمائندگی کی تعداد کو دوبارہ طے کیا جا سکتا ہے۔


پارلیمنٹ کے لئے نئی عمارت کی ضرورت کو مناسب قرار دیتے ہوئے سمترا مہاجن نے کہا کہ جب 1927 میں موجودہ عمارت کو سروس میں لیا گیا تھا، تب ملازمین، سکیورٹی، میڈیا اور پارلیمنٹ میں کام کاج دیکھنے آنے والے لوگوں کی تعداد محدود تھی، لیکن ان سالوں میں یہاں آنے والے لوگوں کی تعداد کئی گنا بڑھ گئی ہے۔

لوک سبھا اسپیکر نے کہا کہ پہلے یہ عمارت صرف ممبران پارلیمنٹ اور سیکرٹریٹ کے ملازمین کے لئے تھی۔ لیکن پارلیمانی کام کاج بڑھنے، کمیٹیوں اور سیکورٹی ضرورتیں بڑھنے کی وجہ سے جگہ کی مانگ کئی گنا بڑھ گئی ہے۔ صدر نے کہا کہ چونکہ پارلیمنٹ کی عمارت کو 'ثقافتی ورثہ سائٹس گریڈ 1' قرار دیا گیا ہے، اس کے ڈھانچے کی مرمت، اس میں توسیع اور تبدیلی میں کئی طرح کے حدود ہیں۔ لوک سبھا اسپیکر نے لکھا کہ اگر پارلیمنٹ کی عمارت کے مرکزی کمرے کو بھی لوک سبھا چیمبر کے طور پر بدلا جائے تب بھی 550 ارکان سے زیادہ اس میں نہیں آ سکیں گے۔ ابھی مرکزی کمرے کی گنجائش 398 سیٹوں کی ہے۔

 
First published: Dec 28, 2015 08:30 AM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading