உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Loudspeaker Controversy: مذہبی آزادی کے نام پر نہ ہو من مانی، مذہب دوسروں کو تکلیف دینے کیلئے نہیں، سپریم کورٹ

     اگر کسی چیز سے دوسروں کو تکلیف پہنچتی ہے تو ہمیں اس طرف توجہ دینی چاہیے اور اسے حل کرنا چاہیے نہ کہ ایسا ضدی رویہ اختیار کیا جائے کہ تنازع کھڑا ہو اور حکومت اور عدالت کو اس کا نوٹس لینا پڑے۔

    اگر کسی چیز سے دوسروں کو تکلیف پہنچتی ہے تو ہمیں اس طرف توجہ دینی چاہیے اور اسے حل کرنا چاہیے نہ کہ ایسا ضدی رویہ اختیار کیا جائے کہ تنازع کھڑا ہو اور حکومت اور عدالت کو اس کا نوٹس لینا پڑے۔

    Loudspeaker Controversy: سپریم کورٹ (supreme court of india) نے کہا ہے کہ مذہب کی آزادی کسی کے بنیادی حق کی خلاف ورزی نہیں کر سکتی۔ جو لوگ آواز نہیں سننا چاہتے انہیں سننے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا ہے۔ مذہبی آزادی کے نام پر من مانی کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔ کوئی مذہب یا مذہب دوسروں کو تکلیف دینے کے لیے نہیں بنایا گیا۔ اپنی روایات پر عمل کرتے ہوئے اس بات کا خیال رکھنا ضروری ہے کہ ہماری باہمی محبت اور ہم آہنگی برقرار رہے۔

    • Share this:
      Loudspeaker Controversy: ملک میں آئے روز نئے نئے تنازعات جنم لے رہے ہیں۔ اس وقت مذہبی مقامات پر لگے لاؤڈ اسپیکر زیر بحث ہیں۔ سپریم کورٹ (supreme court of india) نے کہا ہے کہ مذہب کی آزادی کسی کے بنیادی حق کی خلاف ورزی نہیں کر سکتی۔ جو لوگ آواز نہیں سننا چاہتے انہیں سننے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا ہے۔ گزشتہ سال مئی میں الہ آباد ہائی کورٹ نے فیصلہ دیا تھا کہ اذان دینا مذہبی آزادی کا حق ہے لیکن لاؤڈ اسپیکر کے ذریعے اذان دینا نہیں ۔ شور کو محدود کرنے کے لیے کچھ اصول بنائے گئے ہیں جن کے مطابق رہائشی علاقوں میں لاؤڈ اسپیکر loudspeakers کی آواز دن کے وقت 55 ڈیسیبل اور رات کے وقت 45 ڈیسیبل ہونی چاہیے۔

      Every state has different laws governing sound: ہر ریاست میں آواز sound کو کنٹرول کرنے کیلئے مختلف قوانین ہوتے ہیں۔ یہاں تک کہ ریاست کے اندر، مختلف علاقوں کے لیے شور کنٹرول کے لیے مختلف اصول ہیں۔ ان اصولوں پر صحیح طریقے سے عمل نہیں کیا جاتا۔ ان کے بارے میں معلومات بھی عام لوگوں کو کم ہی ہے۔ مذہب میں لاؤڈ اسپیکر کی ضرورت نہیں۔ مذہب کوئی بھی ہو اس پر اس طرح عمل کیا جائے کہ دوسروں کو اس سے تکلیف نہ ہو۔ لاؤڈ اسپیکر کی آواز سے صوتی آلودگی پیدا ہوتی ہے جو کہ صحت کے لیے بہت نقصان دہ ہے۔ اس لیے اس پر پابندی ضروری ہے۔ اس کا اطلاق تمام مذاہب پر یکساں ہونا چاہیے۔

      ضرور پڑھیں: Summer Diet: گرمی کے موسم میں اپنی صحت کا اس طرح رکھیں خیال، Diet میں شامل کریں یہ چیزیں

      یہ بھی پڑھیں: Ramazan: رمضان المبارک اﷲ تعالیٰ کی رحمت و بخشش اور مغفرت کا مہینہ، دوسرا عشرہ، آیئے۔ گناہوں کو بخشوانے میں جلدی کریں

      لاؤڈ اسپیکر سے آنے والی آوازیں sound گھر میں موجود بیمار اور پڑھنے والے بچوں کو بہت نقصان پہنچاتی ہیں۔ اس لیے مذہبی آزادی کے نام پر من مانی کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔ کوئی مذہب یا مذہب دوسروں کو تکلیف دینے کے لیے نہیں بنایا گیا۔ اپنی روایات پر عمل کرتے ہوئے اس بات کا خیال رکھنا ضروری ہے کہ ہماری باہمی محبت اور ہم آہنگی برقرار رہے۔ اگر کسی چیز سے دوسروں کو تکلیف پہنچتی ہے تو ہمیں اس طرف توجہ دینی چاہیے اور اسے حل کرنا چاہیے نہ کہ ایسا ضدی رویہ اختیار کیا جائے کہ تنازع کھڑا ہو اور حکومت اور عدالت کو اس کا نوٹس لینا پڑے۔ اس سے ہمارا باہمی بھائی چارہ خطرے میں پڑ جاتا ہے۔

      مدارس میں CCTV CAMERA لگانے وپولیس کے ذریعہ نگرانی کے مطالبے پر مسلم تنظیموں سمیت کانگریس نے بھی کی BJPکی مخالفت



      کچھ لوگ ہمارے باہمی جھگڑے کا فائدہ اپنے مفاد کے لیے اٹھاتے ہیں۔ انہیں اپنے فائدے سے مطلب ہوتا ہے نہ کہ عام شہریوں کے دکھ سے۔ ان جھگڑوں کا نقصان صرف ملک کے عام آدمی کو ہی اٹھانا پڑتا ہے۔ جب جھگڑے کی صورتحال فسادات کی شکل اختیار کر لیتی ہے تو لوگوں کی جان و مال بھی خطرے میں پڑ جاتا ہے۔ ایسے میں ہمیں اپنی صبر اور سمجھ سے کام لینا چاہیے۔ دوسروں کی باتوں میں نہ الجھیں۔ اگر ہمیں اس ملک میں مل جل کر رہنا ہے تو آپس میں محبت اور بھائی چارہ برقرار رکھنا ہو گا، تب ہی امن قائم ہو سکتا ہے۔ جھگڑوں سے ہونے والے فسادات میں قومی املاک کا نقصان بھی ہوتا ہے اور قوم کا نقصان ہر شہری کا  نقصان ہے۔
      Published by:Sana Naeem
      First published: