ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

لکھنئو: کسانوں کے مسائل اور سیاسی محاذ

معروف سیاست داں اور اہم سماجی کارکن صلاح الدین صدیقی کہتے ہیں کہ ہندوستان ایک ایسا ملک ہے جہاں کسانوں کے مسائل کو حل کئے بغیر عوامی بہبود کا تصور نا ممکن ہے۔

  • Share this:
لکھنئو: کسانوں کے مسائل اور سیاسی محاذ
معروف سیاست داں اور اہم سماجی کارکن صلاح الدین صدیقی کہتے ہیں کہ ہندوستان ایک ایسا ملک ہے جہاں کسانوں کے مسائل کو حل کئے بغیر عوامی بہبود کا تصور نا ممکن ہے۔

لکھنئو ۔ جس انداز سے کسانوں کے مسائل پرسیاسی رسہ کشی کی جارہی ہے ، آئین و قانون کے نام پر کاشتکاروں اور کھیت کھلیانوں میں کام کرنے والے لوگوں کو خواب تقسیم کیے جارہے ہیں، ان کے مستقبل کے حوالے سے دعوے کئے جارہے ہیں، ایک عجیب سے صورت حال پیدا ہو گئی ہے۔ ایک طرف حکومت کے دعوے، پنچایتیں اور عوامی تاثر جاننے کے لئے مخصوص نوعیت کے سروے ہیں تو دوسری جناب کسان اور ان کے ساتھ کھڑے ہونے والے لاکھوں لوگوں ، سیاسی جماعتوں سماجی تنظیموں کے وہ احتجاج اور مظاہرے ہیں جو حکومت کی کسان مخالف اور عوام مخالف پالیسیوں کو بے نقاب کررہے ہیں۔


معروف سیاست داں اور اہم سماجی کارکن صلاح الدین صدیقی کہتے ہیں کہ ہندوستان ایک ایسا ملک ہے جہاں کسانوں کے مسائل کو حل کئے بغیر عوامی بہبود کا تصور نا ممکن ہے۔ کسانوں کے مسائل پر مختلف طبقوں اور شعبوں کے لوگوں پر مشتمل اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے صلاح الدین صدیقی نے کہا کہ پورا ملک مظاہروں اور احتجاجوں کی گرفت میں ہے۔کسانوں کی حمایت میں بلند ہونے والی آوازیں شدید ہوتی جارہی ہیں، بھارتیہ کسان یونین کے لیڈروں کو جس انداز سے نوٹس بھیجے جارہے ہیں ان سے ثابت ہورہا ہے کہ بر سرِ اقتدار لوگ ایک منصوبہ بند حکمت عملی کے سبب ملک کے کاشتکاروں کو نشانہ بنا کر ملک کے عوام کا استحصال کررہے ہیں۔


معروف وکیل شعیب ایڈوکیٹ کہتے ہیں کہ دستوری اور جمہوری قدروں کی پامالی نے آئین و دستور میں یقین رکھنے والے لوگوں کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ فکر کی بات یہ ہے کہ اگر  آئین و دستور پر ہی لوگوں کا یقین نہیں رہے گا تو ملک کے سیکولر نظام کا تحفظ مشکل ہوجائے گا۔ شعیب کہتے ہیں  کہ با اثر بر سر اقتدار لوگ جب چاہیں جتنی جلدی چاہیں قانون بنا لیتے ہیں لیکن عوامی مفاد مر مشتمل کچھ ایسے مسائل ہیں جن کو حل کرنے کے لئے قوانین بہت پہلے بن جانے چاہئے تھے لیکن نہیں بنے۔


صلاح الدین صدیقی کے مطابق  تاریخ شاہد ہے کہ جب جب لوگوں نے غلط رہنما اور غلط پارٹیوں کا انتخاب کیا ہے انہیں مصیبتیں جھیلنی پڑی ہیں اور موجودہ حالات بھی یہی شہادت پیش کر رہے ہیں۔ جمہوری حق کا صحیح استعمال ہے جمہوری قدروں کو بچا کر عوامی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنا سکتا ہے۔ دلتوں، مسلمانوں، کسانوں، غریبوں اور سماج کے سبھی دبے کچلے لوگوں کے لئے کام کرنے والی بی ایس پی  کی سربراہ نے پہلے بھی یہ اشارہ دیا تھا کہ جمہوریت کو بچانے کے لئے ملک کے کسانوں اور مزدوروں کے ساتھ انصاف کو فوقیت دینی چاہئے۔حکومت کو چاہئے کہ وہ جھوٹے پروپیگنڈے کے بجائے ایسے حقیقی اور عملی اقدامات کرے جس سے کسانوں کے مسائل حل ہوں اور ملک کی ترقی کی راہیں ہموار ہو سکیں۔ ملک کے زرعئی نظام کو بہتر بنا کر اور کسانوں کو راحت پہنچا کر ہی ملک سے بھوک اور غربت کا خاتمہ کیا جاسکتا ہے۔
Published by: Nadeem Ahmad
First published: Dec 19, 2020 12:06 PM IST