உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    لکھنؤ کے ہوٹل میں لیوانہ میں لگی بھیانک آگ، 2لوگوں کی موت کئی لوگوں کے اندر پھنسے ہونے کا اندیشہ

    اس حادثے میں ایک خاتون اور ایک مرد کی موت ہو گئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی سول اسپتال کے برن یونٹ میں 9 زخمیوں کا علاج جاری ہے۔ ہوٹل کے اندر کئی افراد کے پھنسے ہونے کا اندیشہ ہے۔

    اس حادثے میں ایک خاتون اور ایک مرد کی موت ہو گئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی سول اسپتال کے برن یونٹ میں 9 زخمیوں کا علاج جاری ہے۔ ہوٹل کے اندر کئی افراد کے پھنسے ہونے کا اندیشہ ہے۔

    اس حادثے میں ایک خاتون اور ایک مرد کی موت ہو گئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی سول اسپتال کے برن یونٹ میں 9 زخمیوں کا علاج جاری ہے۔ ہوٹل کے اندر کئی افراد کے پھنسے ہونے کا اندیشہ ہے۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Lucknow, India
    • Share this:
      لکھنؤ۔ راجدھانی لکھنؤ کے ہوٹل لیوانہ میں پیر کی صبح زبردست آگ لگ گئی۔ اس حادثے میں ایک خاتون اور ایک مرد کی موت ہو گئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی سول اسپتال کے برن یونٹ میں 9 زخمیوں کا علاج جاری ہے۔ ہوٹل کے اندر کئی افراد کے پھنسے ہونے کا اندیشہ ہے۔ ہوٹل میں آگ لگنے سے علاقے میں کہرام مچ گیا۔ کئی فائر ٹینڈرز موقع پر پہنچ گئے ہیں اور آگ پر قابو پانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ ہوٹل شہر کے VIP علاقے حضرت گنج میں واقع ہے۔

      ہوٹل کے باہر موجود ایک عینی شاہد نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ 20 سے زائد افراد اب بھی اندر پھنسے ہوئے ہیں۔ فائر بریگیڈ کی 15 سے 20 گاڑیاں موقع پر آگ بجھانے میں مصروف ہیں۔ ابھی تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ آگ کیسے لگی۔



      بتایا جا رہا ہے کہ حادثے کی اطلاع ملتے ہی پولیس اور ضلع کے اعلیٰ حکام موقع پر پہنچ گئے۔ فائر بریگیڈ کی ٹیمیں آگ پر قابو پانے کی کوشش کر رہی ہیں۔ آگ لگنے کی وجہ تاحال معلوم نہیں ہو سکی۔

      شروعاتی طور پر آگ لگنے کی وجہ شارٹ سرکٹ بتائی جا رہی ہے۔ اس معاملے میں مزید تفتیش جاری ہے۔

      لائیو شو کے دوران بولتے۔بولتے اینکر نےنگل لی مکھی، مزیدار ردعمل دیکھ نہیں روک پائیں گےہنسی

      Pakistan flood: سیلاب سے بے حال اپنے ملک کیلئے مدد کی گہار لگا رہے ہیں پاکستانی فلمی ستارے

      بتایا جا رہا ہے کہ ہوٹل کے عملے نے فوری طور پر فائر ڈیپارٹمنٹ کو اس کی اطلاع دی۔ آتشزدگی میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ہے۔ فی الحال آگ لگنے کی وجہ معلوم کی جارہی ہے۔ آگ اتنی زیادہ کیوں لگی اس کی تحقیقات جاری ہیں۔ معاملے کی تصویر تحقیقات کے بعد ہی واضح ہو گی۔
      Published by:Sana Naeem
      First published: