ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

کیا سنیٹائزر لگاکر نماز ادا کرنا حرام ہے؟ علماء کے درمیان اختلاف: یہاں جانیں کیا کہتے ہیں علماء

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بیشتر سنیٹائزر بنانے میں الکوہل Alcohol کا استعمال ہوتا ہے تو کیا مساجد میں الکوہل والے سنیٹائزر کا استعمال جائز ہے؟ اس پر علماء کے درمیان اختلاف ہے۔

  • Share this:
کیا سنیٹائزر لگاکر نماز ادا کرنا حرام ہے؟  علماء کے درمیان اختلاف: یہاں جانیں کیا کہتے ہیں علماء
کیا سنیٹائزر لگاکر نماز ادا کرنا حرام ہے؟ تو یہاں جانیں کیا کہتے ہیں علماء

حکومت کی جانب سے آٹھ  8 جون سے عابدوں کے لئے عبادت گاہیں کھولنے کی اجازت دے دی گئی  حالانکہ اجازت مشروط ہے تاہم یہ خبر ان سبھی لوگوں کے لئے باعث سکون و اطمینان ہے جو مساجد میں نماز پنجگانہ ادا کرنے سے محروم ہونے پر افسردہ و مایوس تھے۔ اس مشروط اجازت نامے میں جو ہدایات تحریر کی گئی ہیں ان میں یہ بھی ایک اہم ہدایت ہے کہ لوگ سنیٹائزر کے استعمال کو یقینی بنائیں۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بیشتر سنیٹائزر بنانے میں  الکوہل Alcohol کا استعمال ہوتا ہے تو کیا مساجد میں الکوہل والے سنیٹائزر کا استعمال جائز ہے؟ مفتی شہر مولانا ابوالعرفان فرنگی محلی کہتے ہیں کہ الکوہل والے سنیٹائزر کے استعمال کے بعد نماز جائز نہیں الکوہل حرام ہے۔ لہٰذا نماز ہونے کا سوال ہی نہیں۔مفتی ابو العرفان فرنگی محلی جواز و دلیل یہ پیش کرتے ہیں کہ غسل وضوع کرنے کے بعد انسان خدا کے سامنے حاضری کے لیے پاک و صاف ہوتا ہے لہٰذا جب گھر سے وضو کرکے نمازکے لئے جانا ہے تو کسی الکوہالک سنیٹائزر کا استعمال جائز نہیں۔ اگر الکوہل بیس سنیٹائزر استعمال کیا گیا تو نماز نہیں ہوگی۔

یہاں یہ بات بھی قابل غور ہے کہ عام حالات میں  الکوہل بیس  پرفیومس لگاکر نمازیوں کے مسجد میں داخلے کو ممنوع قرار دیا گیا ہے۔ اسلامک سینٹر اور دار العلوم فرنگی محل سے منسلک معروف اسلامک اسکالر اور عالم دین مولانا سفیان نظامی کہتے ہیں کہ اگر دوا کے بطور انسانی جانوں کے تحفظ کے پیش نظر الکوہالک سنیٹائزر استعمال کیا جارہا ہے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ شرعی نقطہ ءنظر سے اس کا استعمال جائز بھی ہے اور نماز کی ادائیگی میں بھی کوئی قباحت نہیں۔


الکوہالک سنیٹائزر کے استعمال کے تعلق سے علماء کرام اور دانشوروں کی مختلف آراء سامنے آرہی ہیں۔بات شریعت کی ہے تو اس باب میں ذاتی طور پر زیادہ کچھ کہنا مناسب نہیں تاہم کچھ اہم دانشور یہ بھی کہتے ہیں کہ اسلامک شریعت میں جان کے تحفظ کی بڑی اہمیت ہے اس لحاظ سے وبا سے بچنے کے لئے سنیٹائزر کے استعمال میں کوئی قباحت نہیں اور جب مسجد نبوی اور خانہ  کعبہ میں سنیٹائزر کا استعمال کیا جارہا ہے پوری پوری مساجد سنیٹائز کی جارہی ہیں تو  یہاں استعمال کرنے میں بھی کوئی دشواری نہیں ہونی چاہئے۔

First published: Jun 07, 2020 06:50 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading