اپنا ضلع منتخب کریں۔

    لوجہاد کا مرڈر ماڈیول: لکھنؤ میں ہندو لڑکی کو چوتھی منزل سے پھینکا، مذہب تبدیل کرنے کا بنا رہا تھا دباؤ

    الزام ہے کہ سفیان نے 18 سالہ لڑکی کو چوتھی منزل سے دھکا دے دیا۔ اس کے بعد اہل خانہ پڑوسیوں کی مدد سے لڑکی کو ٹراما سینٹر لے گئے جہاں ڈاکٹروں نے اسے مردہ قرار دے دیا۔

    الزام ہے کہ سفیان نے 18 سالہ لڑکی کو چوتھی منزل سے دھکا دے دیا۔ اس کے بعد اہل خانہ پڑوسیوں کی مدد سے لڑکی کو ٹراما سینٹر لے گئے جہاں ڈاکٹروں نے اسے مردہ قرار دے دیا۔

    الزام ہے کہ سفیان نے 18 سالہ لڑکی کو چوتھی منزل سے دھکا دے دیا۔ اس کے بعد اہل خانہ پڑوسیوں کی مدد سے لڑکی کو ٹراما سینٹر لے گئے جہاں ڈاکٹروں نے اسے مردہ قرار دے دیا۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Lucknow, India
    • Share this:
      لکھنؤ۔ راجدھانی لکھنؤ کے ڈوبگہ میں واقع ڈوڈا کالونی سے لو جہاد کا 'قتل ماڈیول' سامنے آیا ہے۔ یہاں ایک ہندو لڑکی کو مذہب تبدیل کر شادی سے انکار کرنے پر چوتھی منزل سے دھکیل کر موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ الزام ہے کہ سفیان نے 18 سالہ لڑکی کو چوتھی منزل سے دھکا دے دیا۔ اس کے بعد اہل خانہ پڑوسیوں کی مدد سے لڑکی کو ٹراما سینٹر لے گئے جہاں ڈاکٹروں نے اسے مردہ قرار دے دیا۔

      اس معاملے میں پولیس نے سفیان اور اس کے اہل خانہ کے خلاف قتل اور مذہب کی تبدیلی سمیت سنگین دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا ہے۔ فی الحال پولیس نے سفیان کے اہل خانہ کو حراست میں لے لیا ہے اور ان سے پوچھ گچھ کر رہی ہے۔ لڑکی کی والدہ کا الزام ہے کہ سفیان مقتول کو کافی عرصے سے ہراساں کر رہا تھا۔




      مقتول کی والدہ کے مطابق دوڈا کالونی میں رہنے والا سفیان کافی عرصے سے اس کی بیٹی کو ہراساں کر رہا تھا۔ وہ اس پر مذہب تبدیل کرنے اور اس سے شادی کرنے کے لیے دباؤ ڈال رہا تھا۔ اس حوالے سے سفیان کے والد کو بھی شکایت کی گئی لیکن اہل خانہ نے کوئی ایکشن نہیں لیا۔ اس کی بیٹی کا محلے سے باہر جانا مشکل ہو گیا تھا۔ اس کے بعد منگل کو مقتولہ کی والدہ نے اپنے بھائی کو فون کیا اور شکایت کرنے سفیان کے گھر گئی۔ تبھی سفیان وہاں پہنچا اور گالیاں دینے کے ساتھ جان سے مارنے کی دھمکیاں دینے لگا۔ اس کے بعد مقتولہ سفیان کے گھر شکایت کرنے چلی گئی۔ سفیان بھی اس کے پیچھے پہنچ گیا اور اسے چوتھی منزل سے دھکا دے کر موت کے گھاٹ اتار کر دیا۔
      Published by:Sana Naeem
      First published: