ہوم » نیوز » No Category

سرکاری کمیونٹی کچن اور بھوکی بستیاں: جانیں کیا ہے معاملہ

لکھنئولاک ڈاؤن کے نہایت افسوس ناک اور کر بناک دور میں بھی کہیں نہ کہیں منفی سیاست اور غیر انسانی رویے جاری ہیں۔راشن کی تقسیم سے لے کر کمیونٹی کچن کی سیواوں اور سپلائی تک ایسی بہت شکایتیں سامنے آئی ہیں جب لوگوں کے ساتھ مذہب کے بنیاد پر تفریق برتی گئی ہے۔

  • Share this:
سرکاری کمیونٹی کچن اور بھوکی بستیاں: جانیں کیا ہے معاملہ
لکھنئولاک ڈاؤن کے نہایت افسوس ناک اور کر بناک دور میں بھی کہیں نہ کہیں منفی سیاست اور غیر انسانی رویے جاری ہیں۔راشن کی تقسیم سے لے کر کمیونٹی کچن کی سیواوں اور سپلائی تک ایسی بہت شکایتیں سامنے آئی ہیں جب لوگوں کے ساتھ مذہب کے بنیاد پر تفریق برتی گئی ہے۔

لکھنئو: لاک ڈاؤن کے نہایت افسوس ناک  اور کر بناک دور میں بھی کہیں نہ کہیں منفی سیاست اور غیر انسانی رویے جاری ہیں۔راشن کی تقسیم سے لے کر کمیونٹی کچن کی سیواوں اور سپلائی تک ایسی بہت شکایتیں سامنے آئی ہیں جب لوگوں کے ساتھ مذہب کے بنیاد پر تفریق برتی گئی ہے۔ حکومت اتر پردیش کے ذریعے  غریبی اور بے روزگاری  کی وجہ سے بھکمری کی زد میں آئے لوگوں کے لئے کمیونٹی کچن کا آغاز کیا گیا تھا جو ایک نہایت عمدہ قدم ہے  اور اس کی تعریف کی جانی چاہئے لیکن اس کچن کے تقسیم کاروں کی جانب سے جو حکمت عملی وضع کی گئی ہے وہ کچھ متعصبانہ ذہنیتوں اور فرقہ پرست نظریوں کی وجہ سے ناکام و منفی ثابت تو ہو ہی رہی ہے۔ ساتھ ہی حکومت کی بدنامی کا سبب بھی بن رہی ہے۔

پریشر گروپ آف مائنارٹیز اور مت داتا جاگروک سنگھ کے سروے اور زمینی جائزے کے مطابق کھانا کچن میں تیار بھی کیا جاتا ہے اور کھانا تقسیم بھی کیا جاتا ہے لیکن کھانا صرف مخصوص علاقوں میں تقسیم کیا جارہاہے۔ پریشر گروپ آف مائنارٹیز کے صدر سید بلال نورانیکہتے ہیں کہ یہ حقیقت دیکھ کر اور بھوکے لوگوں کے بیانات سن کر دکھ ہوتا ہے کہ متعصب لوگوں نے بھوک اور  تنگ دستی کو بھی مذہب کے خانوں میں قید کردیاہے۔

بلال نورانی کی ذاتی کوششوں سے  ان کے گروپ نے بغیر کسی تفریق کے ہندوؤں مسلمانوں اور سبھی مذاہب کے  ہزاروں غریب خاندانوں تک خوردنی اشیاء کی فراہمی کو یقینی بنا کر اپنے سماجی فرائض ادا کئے ہیں۔


جب لکھنئوکے گھنٹہ گھر کے پیچھے غریب اور بے حال لوگوں کی بستی کا جائزہ لیا گیا تو معلوم ہو کہ یہ لوگ کسی بھی طرح کی سرکاری امداد اور کچّے پکّے کھانے سے محروم ہیں۔یہاں یہ بات بھی خاص ہے کہ حکومت اتر پردیش کے ذمہدار وزیر اور کمیونٹی کچن کے نگراں سریش کمار کھنّا کی ٹیم کی جانب سے بار بار عمدہ کھانے کی تیاری اور دس گاڑیوں کے ذریعے اس کی تقسیم کی بات کی جاتی ہے۔ اشتہار جاری کئے جاتے ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ اگر اتنی بڑی مقدار میں کھانا تیار ہو رہاہے تو غریبوں کا ایک بڑا طبقہ اس سے محروم کیوں ہے۔۔ بلال نورانی نے ایسے  دس سے زیادہ محلوں۔ اور بستیوں کے جائزے لئے ہیں جہاں غریب لوگ دو وقت کے کھانے کے لئے روز سماجی خدمتگاروں کی راہ دیکھتے ہیں لیکن انہیں کمیونٹی کچن کی خدمات کا علم تک نہیں۔۔بلال نورانی نے یہ بھی کہا ہے کہ مکمل رپورٹ اور لوگوں کے بیانات کے ساتھ جلد ہی شریش کمار کھنّا سے ملاقات کی جائے گی جس سے انہیں لکھنئو اور قرب وجوار کی صحیح تصویر سے آگاہ کیا جائے۔ اور ش غریبوں تک بھی کمیونٹی کچن کی خدمات پہنچ سکیں ،ہم چاہتے ہیں کہ حکومت کی اسکیموں اور خدمات کا۔ فائدہ صرف کاغذوں پر ہی نظر نہ آئے بلکہ ان لوگوں تک  بھی پہنچ جائے جن کے لئے یہ اسکیمیں شروع کی گئی ہیں۔

First published: May 09, 2020 07:20 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading