ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

اب لوحِِ مزار بھی اردو میں نہیں لکھی جارہی ہیں، نہیں فروخت ہو رہیں اردو کتابیں

اردو زبان و ادب کے اہم مرکز میں بھی اردو اپنے بد ترین دور سے گزر رہی ہے۔ اردو کتب فروش دوسرے کسی ذریعہءِ معاش کے بارے میں سوچنے لگے ہیں۔ لکھنئو کے تاریخی “دانش محل “ کے مالک محمد نعیم کی گفتگو سنُ کر احساس ہوتا ہے کہ واقعی اردو کتب فروشوں کی حالت کتنی خراب ہے۔

  • Share this:
اب لوحِِ مزار بھی اردو میں نہیں لکھی جارہی ہیں، نہیں فروخت ہو رہیں اردو کتابیں
اب لوحِِ مزار بھی اردو میں نہیں لکھی جارہی ہیں، نہیں فروخت ہو رہیں اردو کتابیں

لکھنئو۔ اردو زبان و ادب کے اہم مرکز میں بھی اردو اپنے بد ترین دور سے گزر رہی ہے۔ اردو کتب فروش دوسرے کسی ذریعہءِ معاش کے بارے میں سوچنے لگے ہیں۔ لکھنئو کے تاریخی “دانش محل “ کے مالک محمد نعیم کی گفتگو سنُ کر احساس ہوتا ہے کہ واقعی اردو کتب فروشوں کی حالت کتنی خراب ہے۔ نعیم کہتے ہیں ویسے ہی کاروبار نا کے برابر تھا اور رہی سہی  کسر کورونا کے نتیجے میں بند ہونے والے اسکول کالجوں کی وجہ سے چوپٹ ہوگئی۔ نعیم کہتے ہیں گزشتہ دس بارہ سال میں جس تیزی سے اردو کتب فروشی کا منظر نامہ تبدیل ہوا ہے اس نے کتب فروشوں کو مایوسی میں مبتلا کردیا ہے۔ ادبی کتب تو اب بکتی ہی نہیں۔ افسانوی اور شعری مجموعے خریدنے والا کوئی نہیں۔ تاہم کورس میں پڑھائی جانے والی اردو کتابیں اور کچھ مذہبی کتابیں ضرور بک جاتی تھیں لیکن کورونا کے سبب وہ بھی نہں بک پارہی ہیں۔ تمام ادبی رسائل نہ آنے کی وجہ سے ادبی رسائل کا گوشہ بھی سنسان و ویران ہے۔ مجموعی طور  پر جو حالت ہے وہ بیان سے باہر ہے۔


اہم بات یہ ہے کہ اب محمد نعیم نے بدلتے حالات کے پیش نظر اپنے کتب خانے دانش محل کے ہی ایک گوشے میں دوسرا کام بھی شروع کردیا ہے۔ اردو کتابوں کی فروخت نہ ہونے کے سبب معروف کتب خانے مکتبہءِ دین و ادب کو پہلے بند کیا گیا اور پھر دوکان فروخت کردی گئی۔ آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ لکھنئو کا دل کہلانے والے امین آباد میں جہاں کبھی ادب عالیہ پر مشتمل کتب فروخت ہوتی تھیں اب انڈے پراٹھے اور کباب بیچے جارہے ہیں۔ مکتبہ دین و ادب کے مالک جمالی آسی سے جب کتب خانہ فروخت کرنے کی بابت پوچھا گیا تو انہوں نے واضح طور پر کہا کہ جس کاروبار سے بچوں کا پیٹ نہ بھر سکے، زندگی کے ضروری اور بنیادی مسائل حل نہ ہوسکیں اس سے جذباتی طور پر جڑے رہنا مناسب نہیں۔ اگر واقعی ہمیں معقول آمدنی ہوتی تو ہم وراثت کے طور پر ملے مکتبے کو کبھی فروخت نہ کرتے۔


ہند انٹر کالج کے نزدیک صدیقی بل ڈپو کے پروپرائٹر عبد الرب صدیقی کہتے ہیں کہ پہلے اپنے ساتھ دونوں بیٹوں کو کتب فروشی کے کاروبار میں لگا رکھا تھا لیکن اردو کی تو بات ہی کیا مجموعی طور پر حالات بہت خراب ہیں۔ اب ایک فیملی کے اخراجات بھی پورے کرنے دشوار ہیں۔ ادبی کتابیں بالخصوص شعری مجموعے الماریوں میں جگہ گھیرے ہوئے ہیں کوئی پرسانِ حال نہیں ۔ اردو کتابوں کے خریداروں کی قوت خرید ویسے ہی کمزور تھی اور کورونا کے بعد تو اس پر بہت برا اثر پڑا ہے۔ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ جب اردو کے اہم مراکز میں اردو کتب فروشوں کی یہ حالت ہے تو چھوٹے شہروں اور قصبوں کا منظر نامہ کیا کچھ بیان کر رہا ہوگا۔


عبد الرب صدیقی تو یہ بھی کہتے ہیں کہ عملی طور پر یہ احساس ہونے لگا ہے کہ اردو کتابوں کا تھوڑا بہت تعلق جاتی ہوئی نسل سے باقی ہے۔ نئی نسل دور اور بہت دور ہوتی جارہی ہے۔ جب لوحِ مزار تک اردو میں نہیں لکھی جارہی ہوں تو یہی کہا جا سکتا ہے کہ ایک زندہ و تابندہ زبان و ادب کے لئے اب قبرستان میں بھی جگہ نہیں۔
Published by: Nadeem Ahmad
First published: Sep 18, 2020 03:51 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading