ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

ادب سے انقلاب تک: CAA اور NRC کو لیکر منور رانا کی بیٹیوں نے حکومت کے خلاف بلند کی آواز

اہم بات یہ ہے کہ حکومت اور پولس انتظامیہ کی تمام تر کوششوں کے باوجود بھی احتجاج رُک نہیں سکاہے۔ سو سے دیگر مظاہرین کے ساتھ معروف شاعر منور رانا کی دو بیٹیوں سمیہ رانا اور فوزیہ رانا کے نام لکھنئو کے تھانہ ٹھاکر گنج میں ایف آئی آر درج ہونے کے بعد احتجاج کے ذریعے اٹھنے والی آوازوں نے مزید شدت اختیار کرلی ہے۔

  • Share this:
ادب سے انقلاب تک: CAA اور NRC کو لیکر منور رانا کی بیٹیوں نے حکومت کے خلاف بلند کی آواز
اہم بات یہ ہے کہ حکومت اور پولس انتظامیہ کی تمام تر کوششوں کے باوجود بھی احتجاج رُک نہیں سکاہے۔ سو سے دیگر مظاہرین کے ساتھ معروف شاعر منور رانا کی دو بیٹیوں سمیہ رانا اور فوزیہ رانا کے نام لکھنئو کے تھانہ ٹھاکر گنج میں ایف آئی آر درج ہونے کے بعد احتجاج کے ذریعے اٹھنے والی آوازوں نے مزید شدت اختیار کرلی ہے۔

گزشتہ چھ روز سے لکھنئو کے تاریخی گھنٹہ گھرپر این آر سی(NRC ) این پی آر (NPR) اور سی اے اے (CAA ) کے خلاف احتجاج جاری ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ حکومت اور پولس انتظامیہ کی تمام تر کوششوں کے باوجود بھی احتجاج رُک نہیں سکاہے۔ سو سے دیگر مظاہرین کے ساتھ معروف شاعر منور رانا کی دو بیٹیوں سمیہ رانا اور فوزیہ رانا کے نام لکھنئو کے تھانہ ٹھاکر گنج میں ایف آئی آر درج ہونے کے بعد احتجاج کے ذریعے اٹھنے والی آوازوں نے مزید شدت اختیار کرلی ہے۔ سمجھا تو یہی جارہاتھا کہ ایف آئی آر کے بعد خواتین کے حوصلے پست ہوجائیں گے اور وہ اس احتجاج  ومظاہرے کو انجام اور خاتمے کی طرف لے جائیں گی۔ لیکن ہوا اس کے بالکل برعکس بلکہ یوں کہاجائے کہ اب لکھنئو اور قرب وجوار کی خواتین نے اپنی آوازوں اور تحریکات کو مزید مستحکم کرنے کی کوشش کی ہے۔ مختلف شعبہ ہائے حیات سے تعلق رکھنے والے معززین شہر کے مطابق حکومت کا طرز عمل غیر انسانی بھی ہے اور غیر جمہوری وغیر دستوری بھی۔ وزیر داخلہ امت شاہ کی لکھنئو آمد پر منور رانا نے واضح طور پر کہا کہ جب جب کوئی شاہ شہر کی طرف  آتا ہے تو  فقیر اور اس کے  بچوں پر ظلم ہوتا ہے۔ میرے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا ہے اور موجودہ اقتدار میں تو لڑکیوں کو بھی نہیں بخشا جارہاہے۔ منور رانا نے یہ بھی کہاکہ بہتر ہوتا کہ پولس بچیوں کے خلاف ایف آئی آر نہ کرکے مجھے گرفتار کرلیتی۔

ایک آنسو ہی حکومت کے لئے کافی ہے

تم نے دیکھا نہیں آنکھوں کا سمندر ہونا۔۔۔۔


منور رانا کی بڑی بیٹی سمیہ رانا کہتی ہیں کہ ان کے خلاف ایف آئی آر بالکل غیر مناسب اور غیر منصفانہ اس لئے ہے کہ انہوں صرف  ملک کے امن ودستور میں یقین رکھنے والے لوگوں کے ساتھ شامل ہوکر  سی اے اے اور این آر سی کے خلاف آواز بلند کی ہے۔ ایک طرف تو حکومتِ اتر پردیش غریب وبے سہارا خواتین کو خاموش احتجاج بھی نہیں کرنے دے رہی ہے۔ گھریلو عورتوں  کو بھی جمع نہیں ہونے دے رہی ہے۔ دوسری طرف وزیر  داخلہ کی ریلی  میں لوگوں کی تعددا بڑھانے اور دکھانے کے لئے دیہات ومضافات تک سے لوگوں کو لاکر جمعہ کیاجارہاہے۔ کیا یہی یوگی جی کا انصاف اور قانون ہے۔



منور رانا کی چھوٹی بیٹی فوزیہ رانا کے نام بھی لکھنئوکی پولیس نے ایف آئی آر درج کی ہے فوزیہ حکومت اور پولس کے اس عمل پر افسوس کا اظہار تو کرتی ہیں لیکن انہیں حیرت بالکل نہیں وہ کہتی ہیں کہ موجودہ دورِ حکومت میں بے گناہوں غریبوں اور حق کے لئے آواز اٹھانے والوں کے خلاف ایف آئی آر، گرفتاری اور ان پر مظالم  عام ہیں۔ اب سماج کے سبھی طبقوں کے لوگوں کو یہ احساس ہوچکاہے کہ یہ حکومت عوام مخالف ہے غریب اور حق کے لئے آواز اٹھانے والے لوگ اس حکومت کو پسند نہیں۔ ساتھ ہی فوزیہ رانا نے یہ بھی کہاکہ یوگی حکومت کو یاد رکھنا چاہئے کہ اب احتجاج اور مظاہرہ کرنے والی ہر لڑکی ہر عورت سمیہ رانا اور فوزیہ رانا ہے جسے ملک  اور ملک کے آئین ودستور کو بچانے کا مکمل حق اور آزادی ملنی چاہئے۔
یہاں یہ بات بھی قابل غور ہے کہ ایک طرف تو وزیر داخلہ بار بار یہی کہہ رہے ہیں کہ آپ کچھ بھی کیجئے لیکن سی اے اے کے تعلق سے کوئی سمجھوتہ نہیں کیاجائے گا۔ ایک قدم بھی پیچھے نہیں ہٹا جائے گا۔ دوسری جانب دستور وجمہور کے اپنے تقاضے ہیں اب احتجاج کرنے والے لوگ بھی یہ کہنے لگے ہیں کہ اس لڑائی کو آخری دم تک لڑیں گےکاغذ نہیں دکھائیں گے قدم پیچھے نہیں ہٹائیں گے۔ منور رانا نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ محسوس ہوتا ہے کہ مودی جی کی نہیں بلکہ ہٹلر کی حکومت ہے۔ اور خاص بات یہ بھی ہے کہ منور رانا  اور ان کی بیٹیوں کے بیانات کے بعد لکھنئو کے گھنٹہ گھر پر احتجاج کررہی ہزاروں خواتین بھی انہیں احساسات وخیالات کی ترجمانی کررہی ہیں۔
First published: Jan 22, 2020 07:09 PM IST