ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

حکومت کےترقی کے دعوؤں کی حقیقت بیان کررہا ہے رُدولی کایہ فلائی اوور

اتر پردیش ضلع ایودھیا کے قصبے ردولی میں دس سال کے عرصے میں مکمل نہیں ہو پائی ہے ایک پُل کی تعمیر لوگوں کا مانناہے کہ اقلیتی اکثریتی اس علاقے کو حکومت جان بوجھ کر نظر انداز کررہی ہے۔

  • Share this:
حکومت کےترقی کے دعوؤں کی حقیقت بیان کررہا ہے رُدولی کایہ فلائی اوور
اتر پردیش ضلع ایودھیا کے قصبے ردولی میں دس سال کے عرصے میں مکمل نہیں ہو پائی ہے ایک پُل کی تعمیر لوگوں کا مانناہے کہ اقلیتی اکثریتی اس علاقے کو حکومت جان بوجھ کر نظر انداز کررہی ہے۔

ضلع ایودھیا کا اہم قصبہ رُدولی حکومت کی عدم توجہی اور سرکاری افسران کی لاپرواہی کے سبب بدحالی کی گرفت میں ہے۔ دس سال قبل بھِلسر ردولی روڈ پر بننے والے پُل کے تعمیری کام کو  ابھی تک مکمل نہیں کیا جاسکاہے۔ ایک طرف تو حکومت اتر پردیش  رام نگری  ایودھیا کی ترقی کو اس حد تک یقینی بنانے کے منصوبے بنارہی ہے کہ اسے پوری دنیا کے نقشے پر اہم مقام دلوایا جاسکے اور مرکز سیاحت بنایا جاسکے اور دوسری جانب صوفیوں اور شاعروں کی سرزمین  کو اس قدر نظر انداز کیاجارہاہے کہ ردولی قصبے میں نہ ڈھنگ کے اسکول ہیں نہ علاج کے لئے  مناسب اسپتال اور نہ بجلی پانی اور  سڑکیں۔ پہلے یہ قصبہ  ضلع بارہ بنکی میں آتا تھا اور جب فیض آباد ضلعے کا نام بدل کر ایودھیا کیاگیا تو اسے ایودھیا میں شامل کردیاگیا۔اب ردولی کے باشندے اس احساس میں مبتل ہیں کہ وہ پہلے ہی بہتر تھے ضلع بدلنے سے ان کے حالات بہتر ہونے کے بجائے مزید ابتر ہوگئے۔

ریلوے کراسنگ پر زیر تعمیر فلائی اوور کی تعمیر مکمل نہ ہونے کی کیاوجہ ہے یہ ایک اہم سوال ہے جب ہم نےوہاں موجود سائٹ انجینئر  سے بات کرنے کی کوشش کی تو انجینئر  نے صاف انکار کردیا اور وہاں سے فرار ہوگئے۔ انتہا تو یہ ہے کہ بار بار پوچھنے کے بعد بھی  انجینئر نے نام تک بتانا گوارا نہیں کیا۔ ترقی اور وکاس کے نعرے دینے والی حکومت دس سال میں ایک پُل نہیں بناسکی ہے۔ کام آج بھی رُکا ہوا ہے صرف دوچار بیلدا ر کام کرتے نظر آرہے ہیں کوئی افسر اور ٹھیکیدار سائٹ پر موجود نہیں۔

ردولی کے باشندے  شاہ مسعود حیات غزالی کہتے ہیں کہ ردولی کو حکومت جان بوجھ کر نظر انداز کررہی ہے  اس قصبے کے لئے ترقی کا کوئی منصوبہ بنانے کی تو بات ہی کیا جو سڑکیں اور راستے پہلے سے بنے تھے ان کی مرمت تک نہیں کی جارہی ہے۔ غزالی کہتے ہیں کہ یہ اقلیتی اکثریتی آبادی والا قصبہ ہے اس لئے موجودہ حکومت اسے مکمل طور پر نظر انداز کررہی ہے اور پُل تعمیر نہ ہونے کا ایک اہم سبب یہ بھی ہے کہ اس پُل کی تعمیر کا کام کانگریس کے اقتدار میں شروع ہو اتھا اس لئے مرکزی اور ریاستی حکومتیں اسے جان بوجھ کر نظرانداز کئے ہوئے ہیں،یہاں یہ بات بھی قابل غور ہے کہ حکومت کے متعصبانہ رویوں کی شکایت ردولی کے ان تمام باشندوں نے کی ہے جو زندگی کی بنیادی سہولیات کے فقدان میں تکلیفیں جھیل رہے  ہیں اور  مسائل سے دوچار ہیں۔


دس سال سے نہ چلنے کے لئے  صحیح سڑکیں ہیں نہ زندگی کی دیگر بنیادی سہلویات۔ راستوں کا عالم یہ ہے کہ مریضوں کو ضلع ہسپتال تک لے جانادشوار ہے۔ جن راستوں پر لوگ ٹھیک طرح پیدل نہیں چل پارہے ہیں وہاں گاڑیاں کیسے دوڑ سکتی ہیں۔ ہندو کالج کے پیچھے رہنے والے نو سال کے رمیش اور سات سال کی روپ متی کو چار کلومیٹر پیدل چل کر اسکول پہنچنا پڑتا ہے۔ خیرن پور کے ایاز اور ادریس کہتے ہیں کہ اب لوگ ٹھوکرے کھاکر چلنے کے عادی ہوگئے  ہیں کیونکہ انہیں یقین ہے کہ یوگی جی یہاں نہ کبھی آئیں گے اور نہ یہ پل بنوائیں گے انہیں تو بس رام مندر کی تعمیر اور رام نگری کی فکر ہے یہاں رہنے والے رام لکشمن کا جو ہو سو ہو۔ خیرن پور ردولی کے للوا کے مطابق اب چار قدم چلنا مشکل ہے پُل تو نہ بنا لیکن  دن بھر دھول اڑنے سے سانس کامرض اور ہوگیا۔واہ رے یوگی جی۔ واہ رے مودی جی۔


یہ احساس ہیں ان لوگوں کے جنہیں موجودہ حکومت سے بڑی امید تھی اور یہ لوگ بھی سوچ رہے تھے کہ سب کے ساتھ اور وکاس میں یہ بھی شامل ہیں لیکن انہیں شاید معلوم نہیں کہ سب کا مطلب وہ نہیں جو یہ لوگ سمجھ رہے ہیں بلکہ سب کا مطلب وہ ہے جو حکومت سمجھ رہی  ہے۔

اہم اور خاص بات یہ ہے کہ لوگوں کی امیدیں ٹوٹتی جارہی ہیں حکومت کے نعروں سے یقین اٹھتا جارہاہے۔۔۔بہتر تو یہ ہے کہ پریشان حال لوگوں کی بات سنی جائے انکی پریشانیوں کا احساس کرتے ہئے مسائل حل کئے جائیں۔لیکن کب نو من تیل ہوگا کب رادھا ناچے گی کسی کو نہیں معلوم۔
First published: Feb 12, 2020 03:55 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading