ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

اترپردیش : اردو اداروں میں چیئرمینوں کی تقرریاں، کیا ٹوٹ سکے گا اداروں پر طاری جمود ؟

سیاسی مبصرین اور کئی سینئر صحافی مانتے ہیں کہ اردو کی فلاح و بہبود کے اداروں کو ایک لمبے عرصے تک نظر انداز کیا جانا اور الیکشن سے پہلے چئرمینوں اور ممبروں کا اعلان کرنا ، صاف ظاہر کرتا ہے کہ موجودہ حکومت اردو اور اہل اردو کے لیے کتنی سنجیدہ ہے ، حکومت کی نیت اور منشا کا اندازہ لگانا کسی کے لیے بھی مشکل نہیں ۔

  • Share this:
اترپردیش : اردو اداروں میں چیئرمینوں کی تقرریاں، کیا ٹوٹ سکے گا اداروں پر طاری جمود ؟
اترپردیش : اردو اداروں میں چیئرمینوں کی تقرریاں، کیا ٹوٹ سکے گا اداروں پر طاری جمود ؟

لکھنو : طویل عرصے سے جمود کی شکار اتر پردیش اردو اکادمی اور فخرالدین علی احمد میموریل کمیٹی کے چئرمینوں نے آج اپنی ذمہ داریوں کو سنبھال لیا ۔ واضح رہے کہ عنقریب ہی حکومت اترپردیش نے ، اتر پردیش اردو اکادمی ، فخرالدین علی احمد میموریل کمیٹی، مدرسہ پریشد کے صدور اور ممبران کا اعلان کرکے ایک مدت سے اس ضمن میں مطالبہ کرنے والی آوازوں کو خاموش کرنے کی کوشش کی ہے۔ واضح رہے کہ ایک طویل مدت سے مذکورہ اکادمیوں میں چئرمین نہ ہونے کے سبب جمود طاری ہے اورنئے چئرمینوں کا انتخاب اس وقت کیا گیا ہے ، جب الیکشن کی سرگرمیاں تیز ہوچکی ہیں ۔ سیاسی مبصرین اور کئی سینئر صحافی مانتے ہیں کہ اردو کی فلاح و بہبود کے اداروں کو ایک لمبے عرصے تک نظر انداز کیا جانا اور الیکشن سے پہلے چئرمینوں اور ممبروں کا اعلان کرنا ، صاف ظاہر کرتا ہے کہ موجودہ حکومت اردو اور اہل اردو کے لیے کتنی سنجیدہ ہے ، حکومت کی نیت اور منشا کا اندازہ لگانا کسی کے لیے بھی مشکل نہیں ۔ ساتھ ہی کچھ لوگ یہ سوال بھی اٹھا رہے ہیں کہ جن لوگوں کا انتخاب ان اہم اردو اداروں کے لیے کیا گیا ہے ، کیا وہ اس اہلیت کو پورا کرتے ہیں جو اتر پردیش اردو اکادمی اور فخرالدین علی احمد میموریل کمیٹی کے دستور میں درج کی گئی ہیں؟  بہر کیف سوال اٹھتے رہے ہیں اور اٹھتے رہیں گے ۔ ماضی میں دوسری جماعتوں کے اقتدار والی حکومتوں میں بھی ایسے لوگوں کا انتخاب چئرمین کے لئے ہوتا رہا ہے ، جو اکادمی اور کمیٹی کے دستوری تقاضوں کو پورا نہیں کرتے تھے ۔


فخرالدین علی احمد میموریل کمیٹی کے نو منتخب چئرمین اطہر صغیر زیدی کہتے ہیں کہ انہیں جو ذمہ داری اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ نے سونپی ہے ، اسے وہ پورا کریں گے۔ اور وزیر اعلیٰ کی توقعات پر پورا اترنے کے ساتھ ساتھ اردو اور اہل اردو کی ترقی کے لئے کام کریں گے ۔ فخرالدین علی احمد میموریل کمیٹی کے سکریٹری محمد کلیم بھی یہی کہتے ہیں کہ ماضی میں جو کچھ ہوا ، اس سے کوئی سروکار نہیں تاہم اب ہم سب لوگ مل کر اردو اور اہل اردو کے لئے کام کریں گے ۔


اتر پردیش اردو اکادمی کے سکریٹری معروف آئی اے ایس ظہیر بن صغیر نے اپنی گفتگو کے دوران اکادمی کی موجودہ صورت حال پر بھی اظہار کیا ۔ ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا کہ اب اہل اردو کی ان تمام شکایتوں کو دور کیا جائے گا ، جو انہیں ماضی میں رہی ہیں ، ظہیر بن صغیر مانتے ہیں کہ وسائل کی کی کمی اور مسائل کی زیادتی کہیں نہ کہیں ترقی کی راہ میں رخنے ضرور ڈالتی ہے ، لیکن اگر لوگ اپنی اپنی ذمہ داریوں کو ایمانداری اور دیانت داری سے پورا کریں ، تو محدود وسائل اور کم بجٹ میں بھی زبان و ادب اور اہل زبان کو استحکام بخشا جاسکتا ہے ۔


ابن صغیر کہتے ہیں کہ نو منتخب چیئر پرسن اردو اور اہل اردو کے تعلق سے مثبت نظریات اور روشن خیالات رکھتے ہیں ۔ لہٰذا اب بہتر طریقے سے کام کیا جائے گا ۔ ایسا کام جس سے اردو اور اہل اردو  کے حقوق کی بازیابی کو بھی یقینی بنایا جاسکے اور زبان و ادب اور اردو تہذیب کو بھی بچایا جا سکے ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Sep 14, 2021 05:11 PM IST