ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

عوامی تحفظ کی باب میں مختلف تنظیموں کی آواز احتجاج

مختلف سماجی ملی اور تعلیمی تنظیمیں بھی اب کسانوں کی حمایت میں آواز بلند کرکے نہ صرف اپنا احتجاج درج کرر رہی ہیں بلکہ حکومت کی کسان مخالف پالیسیوں پر شدید تنقید بھی کررہی ہیں ۔

  • Share this:
عوامی تحفظ کی باب میں مختلف تنظیموں کی آواز احتجاج
مختلف سماجی ملی اور تعلیمی تنظیمیں بھی اب کسانوں کی حمایت میں آواز بلند کرکے نہ صرف اپنا احتجاج درج کرر رہی ہیں بلکہ حکومت کی کسان مخالف پالیسیوں پر شدید تنقید بھی کررہی ہیں ۔

لکھنؤ۔ مختلف سماجی ملی اور تعلیمی تنظیمیں بھی اب کسانوں کی حمایت میں آواز بلند کرکے نہ صرف اپنا احتجاج درج کرر رہی ہیں بلکہ حکومت کی کسان مخالف پالیسیوں پر شدید تنقید بھی کررہی ہیں ۔ مختلف سطحوں اور محاذوں پر کام کرنے والے امامیہ ایجوکیشنل ٹرسٹ کے بانی مولانا علی حسین قمی نے نے لکھنئو کے تاریخی چھوٹے امام باڑے میں دانشوروں کے ساتھ تبادلۂ خیال کے بعد یہ اعلان کیا کی موجودہ مرکزی حکومت کسان غریب اور مزدور مخالف حکومت ہے اور جس وقت سے اس حکومت نے ملک کا نظام سنبھالا ہے تب سے غریب لوگ کسی نہ کسی حوالے سے اذیت و مصیبت کا شکار ہورہے ہیں ۔


ملک کے ان داتا یعنی کسانوں کے ساتھ حکومت کا موجودہ رویہ اور جبر و تشدد یہ بتانے کے لئے کافی ہے کہ اقتدار میں بیٹھے لوگوں کو صرف اپنے ایوانوں اور کرسیوں سے سروکار ہے اور دوسری کسی چیز سے نہیں مولانا قمی نے اپنی تقریر میں کہا کہ مودی و یوگی کی سیاست سے سماج کے کمزور اور دبے کچلے طبقوں کے لوگ پریشان ہوئے ہیں کورونا میں مزدوروں کی ہجرت اور اب کسانوں پر ظلم اور اندھے قانون کی مار ملک کو بہت پیچھے لے جارہی ہے۔


اس موقع پر معروف دانشور نواب جعفر میر عبداللہ نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں آئین و دستور کے ساتھ جو کھلواڑ اس عہد میں کیا جارہا ہے اس کی کوئی دوسری نظیر  نہیں اگر سبھی طبقوں اور مذاہب کے لوگ متحد ہوکر ہم آواز نہیں ہوئے تو ملک کا سیکولر وجود بکھر جائے گا ۔معروف لیڈر ایس این کریل نے کہا کہ بی جے پی حکومت ہندو تو کے نظریے کو لوگوں پر جبراً تھوپ ہی رہی ہے ساتھ ہی عوام مخالف پالیسیوں ک ذریعے معاشی و سماجی نظام کو بھی برباد کر رہی ہے ۔


مولانا علی حسین قمی کی قیادت میں امامیہ ٹرسٹ کی جانب سے منعقد کیے گئے اس اہم اجلاس میں کسانوں کی حمایت کے اعلان کے ساتھ ملک کے آئین و دستور کو بچانے کی بات بھی بار بار دہرائی گئی ۔ اتر پردیش میں اقلیتوں با لخصوس مسلم طبقے پر ہورہے مظالم پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا  ساتھ ہی رواں سال کی ساؤتھ ایشیا اسٹیٹ آف مائنارٹی رپورٹ  کے تناظر میں بھی اقلیتی صورت حال پر بھی سنجیدہ غور و خوص کیا گیا۔
Published by: sana Naeem
First published: Dec 17, 2020 05:05 PM IST