ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

لکھنئو: کب حل ہوں گے دستکاروں کے مسائل، کون سنے گا فریاد، ہزاروں دستکار فاقہ کشی کے دہانے پر

اس وقت لکھنئو کے زردوز، رنگریز اور چکن و کامدانی کے کاریگر جس مصیبت سے گزر رہے ہیں ایسے حالات میں خوشحالی کے خواب دیکھنا بھی آنکھوں کو عذاب میں مبتلا کرنا ہے۔

  • Share this:
لکھنئو: کب حل ہوں گے دستکاروں کے مسائل، کون سنے گا فریاد، ہزاروں دستکار فاقہ کشی کے دہانے پر
کب حل ہوں گے دستکاروں کے مسائل، کون سنے گا فریاد، ہزاروں دستکار فاقہ کشی کے دہانے پر

لکھنئو۔ زندگی کا سورج نئی صبح  اور نئی روشنی کے ساتھ کب نمودار ہوگا، ہمارے گھروں میں سکون کب لوٹے گا، چولہے کب جلیں گے ؟ پیٹ کی آگ میں خودداری اور انا کب تک جلتی جھلستی رہے گی ؟ فیکٹریاں کب کھلیں گی، زندگی اپنے معمول پر کب آئے گی ۔ ایسے کتنے ہی سوال ہیں جو لکھنئو اور قرب و جوار میں رہنے والے  کامدانی چکن زردوزی اور رنگریزی کے کاریگروں کے ذہنوں میں ہمہ وقت کوند رہے ہیں۔ لیکن ان سوالات کی بازگشت نہ حکومت کو سنائی دے رہی ہے اور نہ ان فیکٹری مالکان کو جنہوں نے  مشکل دور میں اپنے ہاتھ پیچھے کھینچ لئے ہیں۔۔لیکن ایک آس ہے امید ہے اور  اسی آس امید پر لوگ سالوں کی طرح طویل دن گزار رہے ہیں۔


اس وقت لکھنئو کے زردوز، رنگریز  اور چکن و کامدانی کے کاریگر جس مصیبت سے گزر رہے ہیں ایسے حالات میں خوشحالی کے خواب دیکھنا بھی آنکھوں کو عذاب میں مبتلا کرنا ہے۔ بزاجہ اور نخاس کے رہنے والے شمیم اور مستقیم  کو چار کارخانے داروں نے جواب دے دیا ہے کہ کام نہیں۔۔ رکاب گنج کی رہنے والی رقیہ کو فیکٹری مالک سونو بھئیا نے ابھی تک پچھلا محنتانہ ادا نہیں کیا ہے۔ پچھلے بقایا میں سے پانچ سو روپئے دیے تھے جو ختم ہوئے بارہ دن ہو گئے ۔۔ اب نہ کام ہے نہ دام۔۔ خدا بھلا  کرے معروف سماجی کارکن سید بلال نورانی کا جنہوں نے کچھ انتظام کردیا۔ زردوزی کے ایک اور دستکار منور کا کہنا ہے کہ پہلے ہی کام نہ کے برابر تھا لیکن اس لاک ڈاون نے ہاتھ سے روکھے سوکھے نوالے بھی چھین لئے۔ کاکوری کا رہنے والا عنایت کہتا ہے اب یہ کام چھوڑ کر محنت مجوری  کرنی پڑے گی مگر ابھی وہ کام بھی  بند ہے ۔چکن اور زردوزی سے جڑے ان لاکھوں دستکاروں اور روز مرہ کے مزدوروں کے لئے زمین تنگ ہو چکی ہے ان پر کورونا بڑا عذاب بن کر نازل ہوا ہے۔


لکھنئو، ہردوئی  سیتا پور  سنڈیلا، ملیح آباد کاکوری ، مصاحب گنج، موہن لال گنج اور فضیل گنج سمیت کتنے ہی علاقوں کے دستکار و مزدور دو وقت کی روٹی کے لئے بند پڑی فیکٹریوں اور کارخانوں کی طرف منھ اٹھا کر دیکھ رہے ہیں۔ کھاتے پیتے درمیانی طبقے اور صاحب ثروت لوگوں کو مہلک بیماری سے بچنے کی فکر ہے لیکن ان غریب دستکاروں کے لئے بے روزگاری کورونا سے زیادہ خطرناک ہوتی جارہی ہے۔ عملی طور پر جائزہ لیجئے تو معلوم ہوتا ہے کہ سرکاری مراعات اور خزانوں کے منھ غریبوں کی آبادیوں کی طرف نہیں بلکہ کسی اور جانب کھل گئے ہیں۔ سب مایوس محروم و مجبور نظر آتے ہیں۔جیسے حکومت سے تو کچھ ملنے کی امید ہی نہ ہو۔۔لکھنئو اور قرب و جوار کے تقریباً ایک لاکھ پینتیس ہزار کاریگر و دستکار پوری طرح بدحالی کی گرفت میں ہیں۔سماجی سطح پر امداد کے لئے آگے بڑھنے والے ہاتھ بھی اب سست پڑنے لگے ہیں۔ آخر کوئی کب تک یہ سلسلہ جاری رکھے اور کتنے لوگوں کے لئے جاری رکھے۔۔ایک سو پچاس روپئے سے تین سو روپئے روز تک کمانے والے دستکار  اب یہ سوچنے پر مجبور ہیں کہ وہ اپنے مسائل کس سے بیان کریں۔ کس سے اور کب تک ادھار مانگیں۔ نواب  مسعود عبد اللہ کہتے ہیں ایک طرف کورونا اور دوسری طرف بھوک۔ بھوک سے مرنے سے بہتر ہے کہ ان کاریگروں کو کام مل جائے کم سے کم بھوکھے پیٹ تو نہیں مرنا پڑے گا ۔کارخانے دار بھی کیا کریں مال کی کھپت کی امید ہو تو کچھ کام آگے بڑھایا جائےحکومت کی جانب سے یقین دہانی تو کرائی گئی ہے کہ ضروری سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ کارخانے کھولے جائیں گے۔ فیکٹریوں کو کھولنے کی اجازت دی جائے گی لیکن ابھی  کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا۔ ان غریب و بے سہارا لوگوں کی اب ایک ہی آرزو اور ایک گہار ہے کہ یہ لاک ڈاون ختم ہو اور انہیں روزی روٹی نصیب ہو ۔

Published by: Nadeem Ahmad
First published: Jul 20, 2020 01:20 PM IST