ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

عورتوں کے خلاف بڑھتے جرائم پر خواتین تنظیموں نے اٹھائی آواز

طاہرہ کہتی ہیں کہ اتر پردیش میں جرائم کے بڑھتے گراف نے سابقہ تمام ریکارڈ توڑ دئے ہیں۔ خواتین عدم تحفظ کے احساس میں مبتلا ہیں۔ لڑکیوں کی آبروریزی اور اغوا کے معاملے عام ہیں۔ شہروں کے ساتھ ساتھ مضافات و دیہات میں بھی صورتحال نہایت تشویش ناک ہے۔

  • Share this:
عورتوں کے خلاف بڑھتے جرائم پر خواتین تنظیموں  نے اٹھائی آواز
عورتوں کے خلاف بڑھتے جرائم پر خواتین تنظیموں نے اٹھائی آواز

لکھنئو۔ مختلف شعبہ ہائے حیات کی خواتین پر مشتمل معروف تنظیم تحریک نسواں نے کہا ہے کہ ہمیں خوف و قید نہیں تحفظ چاہئے۔ عورتوں کی حفاظت کے لئے ان کے طرز زندگی پر تنقید کرنے اور گھروں میں مقید رہنے کی بات کرنے والوں کو حکومت، پولس اور عدلیہ سے ضروری بندوبست کرنے کے لئے آواز اٹھانی چاہئے۔ تحریکِ نسواں کی قومی صدر معروف سماجی کارکن طاہرہ حسن کہتی ہیں کہ یوں تو ریاست اتر پردیش میں مجموعی طور پر بڑھتے جرائم نے یہ بتا دیا ہے کہ جرائم پیشہ لوگ بے لگام ہوکر من مانی کررہے ہیں اور پولس تماشائی بنی ہوئی ہے۔ بات اگر خواتین کے خلاف ہونے والے جرائم کی ہو تو اس حوالے سے ریاست کا منظر نامہ نہایت افسوس ناک ہے۔


طاہرہ کہتی ہیں کہ اتر پردیش میں جرائم کے بڑھتے گراف نے سابقہ تمام ریکارڈ توڑ دئے ہیں۔ خواتین عدم تحفظ کے احساس میں مبتلا ہیں۔ لڑکیوں کی آبروریزی اور اغوا کے معاملے عام ہیں۔ شہروں کے ساتھ ساتھ مضافات و دیہات میں بھی صورتحال نہایت تشویش ناک ہے۔ خواتین کی تنظیم بزم ادب کی سرپرست اور غریب لڑکیوں کی تعلیم کے میدان میں نمایاں خدمات انجام دینے والی سماجی کارکن طاہرہ رضوی کہتی ہیں کہ خواتین کے خلاف چہار دیواری اور چہار دیواری سے باہر جو ظلم و تشدد برپا کیا جارہا ہے اس سے پہلے اتنے بڑے پیمانے پر ایسا کبھی نہیں ہوا۔ معلوم ہوتا ہے جیسے شر پسند اور غیر سماجی عناصر کو آئین و قانون اور پولس کا خوف ہی نہیں رہا ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ کچھ لوگ عورتوں کو گھر وں میں قید رہنے کا مشورہ دیتے ہیں۔ شام کے وقت گھروں سے باہر نہ نکلنے کی بات کرتے ہیں لیکن پولس کی کار کردگی ، حکومت کے انتظامات اور  آئین و قانون کی ابتر صورت حال کے خلاف زبان نہیں کھولتے۔


اہم بات یہ بھی ہے کہ خواتین سماجی کارکن خواہ کچھ بھی کہیں کسی انداز کی بیان بازی کریں، حقائق سے کتنے ہی پردے کیوں نہ ہٹائیں لیکن حکومت اور پولس محکموں کے کاغذوں میں سب کچھ درست ہے۔ پولس ریکارڈ اور اعداد و شمار کے مطابق ہر طرح کے جرائم میں پہلے کی بنسبت خاصی کمی آئی ہے۔ ریاست اتر پردیش میں لوگ امن و سکون کی زندگی بسر کررہے ہیں۔ تحریک نسواں کے سروے کے مطابق جرائم نے اپنے سابقہ ریکارڈ توڑ دئے ہیں۔ اچھے دن صرف کاغذوں پر آئے ہیں۔ عملی زندگی میں جرائم بھوک، غربت، بے روزگاری اور بیماری سے لوگ بری طرح پریشان ہیں۔


تحریک نسواں، بزم ادب اور کنزیٰ سوسائٹی کے ساتھ ساتھ کئی اور اہم تنظیموں نے بھی اس حوالے سے تشویش کا اظہار کیا ہے۔ آل انڈیا مسلم خواتین پرسنل لا بورڈ کی صدر شائستہ عنبر بھی خواتین کے خلاف بڑھتے جرائم کو لے کر کئی مکتوب حکومت، محکمہ پولس اور خواتین کمیشن کے ذمہ داران کو روانہ کر چکی ہیں لیکن مثبت کارروائی تو کیا تحریروں کے جوابات بھی نہیں ملے ہیں۔
Published by: Nadeem Ahmad
First published: Sep 07, 2020 01:47 PM IST