உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    لدھیانہ کورٹ کی تیسری منزل پرIED دھماکہ، دو لوگوں کی موت، جانچ میں مصروف ہوئی پولیس

    Youtube Video

    ذرائع کے مطابق عدالت میں آئی ای ڈی دھماکہ ہوا ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ اس کے لیے بہت بھاری دھماکہ خیز مواد استعمال کیا گیا تھا۔ دھماکہ ہوتے ہی عدالت کے احاطے میں بھگدڑ مچ گئی تھی۔

    • Share this:
      لدھیانہ۔ جمعرات کو پنجاب کے لدھیانہ میں کورٹ کمپلیکس میں دھماکہ ہوگیا۔ اس دھماکے میں کچھ لوگوں کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ دھماکہ دوسری منزل پر ہوا۔ اس حادثے میں گراؤنڈ فلور پر موجود گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ واقعہ کی اطلاع ملتے ہی پولیس بھی موقع پر پہنچ گئی ہے۔ حادثے میں دو افراد کی موت ہو گئی ہے۔ ساتھ ہی زخمیوں کو اسپتال لے جایا گیا ہے۔

      اس واقعہ میں دو لوگوں کے مارے جانے کی خبر ہے۔ اس کے علاوہ کئی لوگ زخمی بھی ہوئے ہیں۔ دھماکہ اتنا زوردار تھا کہ جس جگہ پر دھماکہ ہوا وہاں کی کھڑکی بھی اکھڑ گئی۔ بتایا جا رہا ہے کہ جہاں دھماکہ ہوا وہیں ججوں کا کمرہ بھی ہے۔ یہ بم عمارت کے باتھ روم میں نصب کیا گیا تھا۔ خوش قسمتی سے عدالت میں ہجوم کم تھا کیونکہ آج عدالت میں وکلاء کی ہڑتال تھی ورنہ کئی لوگ جان سے ہاتھ دھو سکتے تھے۔
      ذرائع کے مطابق عدالت میں آئی ای ڈی دھماکہ ہوا ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ اس کے لیے بہت بھاری دھماکہ خیز مواد استعمال کیا گیا تھا۔ دھماکہ ہوتے ہی عدالت کے احاطے میں بھگدڑ مچ گئی تھی۔ عینی شاہدین کے مطابق دھماکہ عدالت کے باتھ روم میں ہوا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ کسی شخص نے آکر یہ دھماکہ کیا ہے۔ فی الحال، زخمیوں کو موقع سے اسپتال لے جایا جا رہا ہے۔ حادثہ دوپہر 12.45 بجے کے قریب پیش آیا۔ فی الحال بم اسکواڈ ٹیم موقع پر پہنچ گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق جمعرات کو وکلاء ہڑتال پر تھے جس کی وجہ سے احاطے میں بھیڑ کم تھی۔
      یہ دھماکہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب مرکزی انٹیلی جنس ایجنسیاں انتخابات کے دوران ملک دشمن عناصر کی جانب سے پنجاب میں ماحول خراب کرنے کے لیے الرٹ جاری کر رہی ہیں۔  قابل ذکر ہے کہ پنجاب کا ماحول خراب کرنے کی نیت سے بے ادبی کی کوشش کی گئی ہے۔ جس کی پولیس ابھی تفتیش بھی نہیں کر سکی ہے۔
      قومی، بین الاقوامی اور جموں وکشمیر کی تازہ ترین خبروں کےعلاوہ تعلیم و روزگار اور بزنس کی خبروں کے لیے نیوز18 اردو کو ٹویٹر اور فیس بک پر فالو کریں ۔
      Published by:Sana Naeem
      First published: