உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Lumpy Virus:آٹھ ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام ریاستوں میں لمپی نے لی 7300مویشیوں کی جان، 1.85 لاکھ مویشی ہوئے متاثر

    Lumpy: اب تک ہزاروں مویشی کی ہوچکی ہے موت۔

    Lumpy: اب تک ہزاروں مویشی کی ہوچکی ہے موت۔

    Lumpy Virus: ایک اہلکار کے مطابق انفیکشن کی وجہ سے اموات کی شرح ایک سے دو فیصد ہے اور یہ انسانوں کو متاثر نہیں کرتی۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Punjab | Haryana | Delhi | Amritsar | Lucknow
    • Share this:
      Lumpy Virus:ملک کی آٹھ ریاستوں اور ایک مرکز کے زیر انتظام علاقے میں لمپی اسکن ڈیسیز(LSD) کی وجہ سے اب تک 7,300 سے زیادہ مویشی مر چکے ہیں اور اس کے ساتھ ہی انفیکشن پر قابو پانے کے لیے ویکسینیشن مہم کو تیز کر دیا گیا ہے۔ ایک سینئر سرکاری افسر نے یہ اطلاع دی۔ ان کے مطابق 2019 میں ہندوستان کی مشرقی ریاستوں خاص طور پر مغربی بنگال اور اوڈیشہ میں ایل ایس ڈی کے کیسز رپورٹ ہوئے تھے لیکن اس سال یہ بیماری مغربی اور شمالی ریاستوں اور انڈمان اور نکوبار میں بھی رپورٹ ہوئی ہے۔

      اس سال کے شروع میں گجرات میں ایل ایس ڈی کا پتہ چلا تھا اور اب یہ بیماری آٹھ ریاستوں اور ایک مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں پھیل چکی ہے۔ جولائی سے اب تک 1.85 لاکھ مویشی اس سے متاثر ہو چکے ہیں۔
      اس درمیان، مرکزی ٹیموں کو ایل ایس ڈی کا جائزہ لینے کے لیے پنجاب اور گجرات بھیج دیا گیا ہے اور ریاستوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ بائیو سکیورٹی کے اقدامات پر سختی سے عمل کریں، متاثرہ جانوروں کی نقل و حرکت کو روکیں، آوارہ مویشیوں کی نگرانی کریں اور مردہ کو محفوط طریقے سے ٹھکانے لگانے کو کہا گیا ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ ہندوستان دنیا کا سب سے بڑا دودھ پیدا کرنے والا ملک ہے۔ لائیو اسٹاک کی مردم شماری رپورٹ 2019 کے مطابق ملک میں 19.25 کروڑ (192.5 ملین) مویشی ہیں۔

      یہ بھی پڑھیں:

      اذان کے مواد آرٹیکل 25 / 26 کے تحت دیگر مذاہب کے حقوق کی خلاف وزری نہیں کرتے: کرناٹک HC

      یہ بھی پڑھیں:
      Delhi News: کسان لیڈروں کی وارننگ، 15 دن میں مطالبات نہیں ہوئے تسلیم تو تیزکریں گے آندولن

      ایل ایس ڈی میں شرح اموات ایک سے دو فیصد
      ایک اہلکار کے مطابق انفیکشن کی وجہ سے اموات کی شرح ایک سے دو فیصد ہے اور یہ انسانوں کو متاثر نہیں کرتی۔ ان کے مطابق اس وقت ویکسینیشن جاری ہے اور 17.92 لاکھ مویشیوں کو ٹیکے لگائے جا چکے ہیں۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: