ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

مدھیہ پردیش میں گئو تحفظ کے نام پر مسلم خواتین کی پٹائی کے معاملہ کی راجیہ سبھا میں گونج

وقفہ صفر میں جب بی ایس پی صدرکی محترمہ مایاوتی نے بڑے غصےکے ساتھ یہ مسئلہ اٹھایا تو کانگریس، ایس پی، جد (یو) سمیت تمام اپوزیشن جماعتوں نے اس واقعہ کی ایک آواز میں اور زوردار انداز میں مذمت کی

  • UNI
  • Last Updated: Jul 27, 2016 10:51 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
مدھیہ پردیش میں گئو تحفظ کے نام پر مسلم خواتین کی پٹائی کے معاملہ کی راجیہ سبھا میں گونج
وقفہ صفر میں جب بی ایس پی صدرکی محترمہ مایاوتی نے بڑے غصےکے ساتھ یہ مسئلہ اٹھایا تو کانگریس، ایس پی، جد (یو) سمیت تمام اپوزیشن جماعتوں نے اس واقعہ کی ایک آواز میں اور زوردار انداز میں مذمت کی

نئی دہلی : مدھیہ پردیش میں گئو تحفظ کے نام پر مسلم خواتین کی سربازار پر پٹائی کا معاملہ آج راجیہ سبھا میں زبردست انداز میں اٹھایا گیا۔ وقفہ صفر میں جب بی ایس پی صدرکی محترمہ مایاوتی نے بڑے غصےکے ساتھ یہ مسئلہ اٹھایا تو کانگریس، ایس پی، جد (یو) سمیت تمام اپوزیشن جماعتوں نے اس واقعہ کی ایک آواز میں اور زوردار انداز میں مذمت کی۔ کانگریس اور بی ایس پی کے رکن اتنے غصہ میں آ گئے کہ وہ نعرے بازی کرتے ہوئے چیئرمین کی کرسی کے پاس جا پہنچے اور تقریبا دس منٹ تک ہنگامہ کرتے رہے اور ایوان کی کاروائی کو چلنے نہیں دیا۔

محترمہ مایاوتی نے کہا کہ حال ہی میں بی جے پی کی حکومت والی ریاست گجرات میں دلت سانحہ ہوا جو کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔ پھر مدھیہ پردیش میں گئو تحفظ کے نام پر خواتین کو مارا پیٹا گیا، ان پر ظلم و ستم کیا گیا اور بھیڑ تماشا دیکھتی رہی اور پولیس بھی خاموشی سے یہ سب دیکھتی رہی۔

انہوں نے کہا کہ ایک طرف تو بیٹی کے اعزاز میں بی جے پی میدان میں نعرے لگا رہی ہے تو دوسری طرف مسلم خواتین کی سر عام پٹائی کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہریانہ میں بھی گئو تحفظ کے نام پر یہی ہوا۔ حکومت اس پر جواب دے۔

محترمہ مایاوتی کے یہ کہتے ہی اپوزیشن اراکین اپنے غصے کا اظہار کرتے ہوئے ہنگامہ کرنے لگے۔ ہنگامہ آرائی کے جواب میں پارلیمانی امور کے وزیر مملکت مختار عباس نقوی نے کہا کہ خواتین پر ظلم و ستم کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی گئی ہے اور دلتوں کے ساتھ ظلم کرنے والے نوجوانوں کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔ اس طرح کا واقعہ قابل مذمت ہے۔

لیکن اپوزیشن کے اراکین ان کے بیان سے مطمئن نہیں ہوئے۔ ان کا کہنا تھا کہ مدھیہ پردیش پیش آئے واقعے پرکسی طرح کی کارروائی نہیں کی گئی۔ تبھی بی ایس پی کے رکن شور مچاتے ہوئے چیئرمین کی کرسی کے پاس آ گئے اور نعرے بازی کرنے لگے۔ اس کے بعد کانگریس کے رکن بھی آسن کے پاس آ گئے اور وہ بھی نعرے بازی میں ساتھ دینے لگے۔ اپوزیشن رکن ’شرم کرو، شرم کرو‘ اور خواتین مخالف حکومت نہیں چلے گی، نہیں چلے گی کے نعرے لگاتے رہے۔تقریبا 25 ارکان نے آسن کو دونوں طرف سے گھیر لیا۔

مسٹر کورین نے انہیں اپنی سیٹ پر جانے کو کہا تب ایوان میں اپوزیشن کے لیڈر غلام نبی آزاد اٹھے اور کہنے لگے ہم گئو تحفظ کی مخالفت میں نہیں ہیں۔ ہم بھی گائے کی حفاظت کرنا چاہتے ہیں، پر گئو تحفظ کی آڑ میں دلت اور مسلمانوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
اس معاملے پرمسٹر نقوی نے کہا کہ ملک کا آئین قانون سے چلتا ہے، ڈنڈوں سے نہیں۔ ہم اس طرح کے رجحان کو جائز نہیں ٹھہرا سکتے۔ یہ ایک حساس مسئلہ ہے۔ اس طرح کے معاملے پر سیاست سے اوپر اٹھ کر اتحاد اور ہم آہنگی کا ماحول قائم کرنا چاہئے۔ سیاست کی شطرنج نہیں بچھاني چاہئے۔
تب ایوان میں کانگریس کے ڈپٹی لیڈر آنند شرما نے کہا کہ وزیر اعظم من کی بات اور دیگر موضوعات پر بڑی بڑی باتیں کرتے رہتے ہیں، لیکن ایسے واقعات پر خاموش رہتے ہیں۔ انہوں نے مسٹرنقوی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ وزیر اعظم کو ایوان میں لے کر آئیں۔ مسٹر كورين نے کہا کہ وہ اس معاملے پر بحث کے لئے تیارہیں۔
مسٹر نقوی نے کہا کہ آپ وزیر اعظم کو ایوان میں لانے کے سلسلے میں نوٹس دیں۔ ہم بحث کے لئے تیار ہیں۔ کچھ دیر کے بعد اپوزیشن رکن پرسکون ہو گئے۔
First published: Jul 27, 2016 10:51 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading