உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    کیامدھیہ پردیش میں کووڈ۔19سے ہونے والی اموات کوچھپایاجارہاہے؟ آخر معاملہ کیا ہے؟

    علامتی تصویر

    علامتی تصویر

    اپنے بھائی کی آخری رسومات ادا کرنے آئے 54 سالہ بی این پانڈے (BN Pandey) نے بتایا کہ ’’میں بھوپال گیس سانحہ کے وقت نویں جماعت میں تھا۔ ہم نے ایسی تصاویر دیکھی تھیں، جو دل دھلانے والی ہے اور آج میں نے صرف چار گھنٹوں میں یہاں 30 تا 40 لاشیں دیکھیں ہیں‘‘۔

    • Share this:
      مدھیہ پردیش میں عالمی وبا کورونا وائرس (Covid-19) کے کیسوں میں اضافے کے ساتھ ہی ریاست بھر میں قبرستانوں اور شمشان گھاٹوں میں میتوں کی بے انتہا بہتات ہوگئی ہے۔اس دوران یہ بات عوام میں عام ہوچکی ہے کہ یہاں عالمی وبا کورونا وائرس (کووڈ۔19) سے مرنے والے کی تعداد کو چھپایا جا رہا ہے۔ اس کے برعکس حکومت کے اعداد و شمار کے تحت اموات کا انکشاف قبرستان اور شمشان گھاٹ سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے۔

      بھوپال کیس سانحہ کی یاد آگئی:

      تاہم سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ہونے والی اموات کی تعداد اور آخری رسومات میں لاشوں کی تعداد کے درمیان واضح فرق ہے اور لاشوں کے تعداد سرکاری اعداد و شمار سے بھی بڑھ کر ہے۔لوگوں نے کہا کہ انہوں نے 1984 میں بھوپال گیس سانحہ (Bhopal Gas Disaster) کے بعد سے ایسے مناظر نہیں دیکھے جیسے وہ بھوپال کے شمشان گھاٹ میں مشاہدہ کررہے ہیں۔اپنے بھائی کی آخری رسومات ادا کرنے آئے 54 سالہ بی این پانڈے (BN Pandey) نے بتایا کہ ’’میں بھوپال گیس سانحہ کے وقت نویں جماعت میں تھا۔ ہم نے ایسی تصاویر دیکھی تھیں، جو دل دھلانے والی ہے اور آج میں نے صرف چار گھنٹوں میں یہاں 30-40 لاشیں دیکھیں ہیں‘‘۔

      لوگ آخری رسومات کی ادائیگی کے لیے منتظر:

      ایمبولینسوں کو لاشوں سے کھڑے دیکھا جاسکتا تھا کیونکہ بہت سے افراد آخری رسومات کی ادائیگی کے لئے سڑک کے کنارے انتظار کر رہے تھے۔

      یہاں لوگ تین سے چار گھنٹوں تک آخری رسومات کی ادائیگی کے منتظر ہیں۔ کیونکہ شمشان گھاٹ میں جگہ ہی نہیں ہے۔

      بھوپال کے بھڈبھڈا شمشان گھاٹ (Bhadbhada crematorium) میں پیر کو کووڈ سے فوت ہونے والے لوگوں کی 37 لاشیں تھیں۔ تاہم ریاستی صحت کے بلیٹن میں پوری ریاست میں مجموعی طور پر 37 کووڈ اموات کا تذکرہ کیا گیا۔ جب کہ یہاں تو اس سے بھی زائد اموات ہیں۔

      مدھیہ پردیش میں پچھلے پانچ دنوں سے اموات کے اعدادوشمار بھی متضاد پایا جارہا ہے۔آٹھ اپریل کو بھوپال میں کووڈ۔19 کے پروٹوکول کے تحت مجموعی طور پر 41 کووڈ لاشوں کی آخری رسومات ادا کی گئی۔ اس دن کے میڈیکل بلیٹن میں پوری ریاست میں صرف 27 اموات کا ذکر کیا گیا۔

      اس بارے میں ریاستی حکومت کا کیا کہنا ہے؟

      نو اپریل کو بھوپال میں 35 لاشوں کی آخری رسومات ادا کی گئی، لیکن پوری ریاست کے سرکاری اعداد و شمار میں (medical bulletin) کووڈ سے متعلق صرف 23 اموات سامنے آئیں۔

      ملک میں کورونا وائرس (کووڈ ۔19) کی وبا کی وجہ سے گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ریاست مہاراشٹر ، پنجاب ، کیرالہ اور چھتیس گڑھ میں سب سے زیادہ ہلاکتیں ہوئی ہیں۔
      ملک میں کورونا وائرس (کووڈ ۔19) کی وبا کی وجہ سے گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ریاست مہاراشٹر ، پنجاب ، کیرالہ اور چھتیس گڑھ میں سب سے زیادہ ہلاکتیں ہوئی ہیں۔


      اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 10 اپریل کو بھوپال میں 56 اموات ہوئیں لیکن سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ریاست میں کورونا وائرس کی وجہ سے 24 افراد کی موت ہوئی ہے۔ اسی طرح 11 اپریل کو شہر میں 68 لاشوں کی آخری رسومات ادا کی گئی اور حکومت نے ریاست میں مجموعی طور پر 24 اموات کی اطلاع دی۔ریاست میں اموات کی گنتی کی اطلاع کے تحت حکومت نے انکار کیا۔ میڈیکل ایجوکیشن کے وزیر وشواس سارنگ (Vishwas Sarang) نے کہا ہے کہ ’حکومت کا اموات کی گنتی کو چھپانے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ ایسا کرکے ہمیں کوئی ایوارڈ نہیں ملے گا‘۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: