ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

مدھیہ پردیش : گیس میموریل کی تعمیر کو لے کر حکومت اور گیس متاثرین کے درمیان بڑھا ٹکراو ، جانئے کیوں

بھوپال گیس متاثرین کے لئے کام کرنے والی سماجی تنظیم بھوپال گروپ فارایکشن اینڈ انفارمیشن کی سکریٹری رچنا ڈھنگرا کہتی ہیں کہ حکومت گیس سانحہ کے سیتنس سال بعد میموریل کی تعمیر اور گیس متاثرین کو روزگار دینے کی بات کہہ رہی ہے ، جو گیس متاثرین کے ساتھ گھنونا مذاق ہے ۔

  • Share this:
مدھیہ پردیش : گیس میموریل کی تعمیر کو لے کر حکومت اور گیس متاثرین کے درمیان بڑھا ٹکراو ، جانئے کیوں
مدھیہ پردیش : گیس میموریل کی تعمیر کو لے کر حکومت اور گیس متاثرین کے درمیان بڑھا ٹکراو ، جانئے کیوں

بھوپال : بھوپال گیس سانحہ کے سینتیس سال بعد شیوراج سنگھ حکومت نے گیس سانحہ کی یاد میں میموریل بنانے کا بھلے ہی بڑا فیصلہ کیا ہو لیکن گیس متاثرین حکومت کے فیصلہ کو گیس متاثرین کے مفاد پر کاری ضرب تصور کرتے ہیں ۔ حکومت گیس میموریل کے ذریعہ گیس متاثرین کو روزگار کے مواقع فراہم کرنے کی جہاں بات کر رہی ہے ۔ گیس متاثرین میموریل کی تعمیر کو ملٹی نیشنل کمپنیوں کے دباؤ میں اٹھایا گیا ایک قدم مانتے ہیں ۔ حالانکہ میموریل کی تعمیر کو لے کر پہلے جاری کئے گئے ٹینڈر کو کینسل کرتے ہوئے پھر سے ٹینڈر جاری کرنے کا حکومت نے اعلان کردیا ہے ، مگر گیس متاثرین حکومت کے فیصلہ کے خلاف سڑک پر اتر کراحتجاج کرنے کا اعلان کر رہے ہیں ۔


بھوپال گیس متاثرین کے لئے کام کرنے والی سماجی تنظیم بھوپال گروپ فارایکشن اینڈ انفارمیشن کی سکریٹری رچنا ڈھنگرا کہتی ہیں کہ حکومت گیس سانحہ کے سیتنس سال بعد میموریل کی تعمیر اور گیس متاثرین کو روزگار دینے کی بات کہہ رہی ہے ، جو گیس متاثرین کے ساتھ گھنونا مذاق ہے ۔ سینتس سالوں میں سرکاریں بدلتی رہیں ، لیکن کسی بھی گیس متاثرین کو آج تک روزگار نہیں دیا گیا ۔ یہی نہیں جس زمین پر میموریل بنانے کی بات کی جا رہی ہے ، یہاں پر تین سو سینتس میٹرک ٹن زہریلا کچرا پڑا ہونے کے ساتھ یہاں کی بیالیس بستیوں میں زیر زمین پانی آلودہ ہوچکاہے ، جس کی وجہ سے یونین کاربائیڈ کارخانہ کے آس پاس کی بیالیس بستیوں کے لوگ نہ صرف آلودہ پانی پینے کو مجبور ہیں بلکہ اس کے مضر اثرات اب چوتھی پیڑھی تک پہنچ گئے ہیں ۔ حکومت میموریل بنانے کی بات کر رہی ہے اور ہم کہہ رہے ہیں کہ پہلے گیس متاثرین کو علاج ، معاوضہ دینے کے ساتھ زہریلے کچرے کو صاف کیا جائے اور جب تک یہ نہیں کیا جاتا ہے ، میموریل کی تعمیر لا حاصل ہوگی ۔


وہیں مدھیہ پردیش کے وزیر برائے گیس راحت وشواس سارنگ کہتے ہیں کہ حکومت کے ذریعہ یونین کاربائیڈ کارخانہ کیمپس میں پڑے زہریلے کچرے کو ہٹانے کا خاکہ تیار کیا گیا ہے ۔ پہلے جس کمپنی کو میموریل کی تعمیر کو لے کر ٹینڈر جاری کیا گیا تھا ، اس نے شرائط عمل نہیں کیا ، اس لئے اب میموریل کی تعمیر کو لے کر دوبارہ ٹینڈر جاری ہوگا ۔ گیس متاثرین کو میموریل کی تعمیر سے روزگار کے مواقع فراہم ہوں گے ۔ حکومت کی نظر گیس متاثرین کا علاج پہلے ہے اور اس سمت میں حکومت مستعدی سے کام کر رہی ہے ۔


یہاں یہ بتانا ضروری ہے کہ بھوپال میں دو اور تین دسمبر کی درمیانی رات کو یونین کاربائیڈ کارخانہ سے نکلنے والی ایم آئی سی گیس سے پندرہ ہزارلوگوں کی موت ہوئی تھی اور لاکھوں لوگ آج بھی اس کے مضر اثرات سے متاثر ہیں ۔ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ حادثہ کے سینتس سال بعد گیس سانحہ کے کسی بھی ذمہ دارکو حکومتیں ایک دن کی بھی سزا دلوانے میں ناکام رہی ہیں ۔

یہی نہیں گیس متاثرہ بیواؤں کے لئے حکومت کی جانب سے جو پینشن جاری کی گئی تھی اسے بھی حکومت نے بند کردیا ہے ۔ حالانکہ وزیر اعلی شیوراج سنگھ نے تین دسمبر  دوہزار بیس کو بیوہ پینشن جاری کرنے کا اعلان کیا تھا ، مگر یہ اعلان آج تک وفا نہیں ہو سکے ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Jul 08, 2021 11:00 PM IST