ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

لکھنئو نگر نگم پر متعصبانہ کارروائی کا الزام، ناجائز قبضے ہٹانے کے نام پر مدرسے کو بنایا نشانہ

معاملہ لکھنئو چڑیا گھر کے نزدیک مدرسہ جامعہ علوم دین نسواں کا ہے ۔ یہ سڑک کے کنارے صدیوں سے آباد قدیم مدرسہ ہے جہاں مسلم لڑکیوں کو دینی تعلیم فراہم کی جاتی ہے۔

  • Share this:
لکھنئو نگر نگم پر متعصبانہ کارروائی کا الزام، ناجائز قبضے ہٹانے کے نام پر مدرسے کو بنایا نشانہ
نگر نگم پر متعصبانہ کارروائی کا الزام، ناجائز قبضے ہٹانے کے نام پر مدرسے کو بنایا نشانہ

لکھنئو۔ نگر نگم لکھنئو پر ایک بار پھر یہ الزام لگا ہے کہ ناجائز قبضے ہٹانے کے نام پر میونسپل کارپوریشن کے لوگ فرقہ پرست عناصر اور متعصب ذہنیتیں رکھنے والے سیاست دانوں کے اشارے پر کام کر رہے ہیں اور ایک مخصوص طبقے کے لوگوں اور ان سے متعلق اداروں اور درسگاہوں اور صنعتی مراکز کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ واضح رہے کہ گزشتہ دنوں یہ شکایت مت داتا جاگروک سنگھ اور رہائی منچ کی جانب سے بھی کی گئی تھی اور اب لڑکیوں کے ایک مدرسے کے خلاف کارروائی کئے جانے کی پاداش میں معروف تنظیم کورڈ نے یہ کہا ہے کہ مسلم طبقے کے لوگوں کو خاص طور پر نشانہ بنا کر نگر نگم یہ پیغام دینا چاہتی ہے کہ اس اقتدار میں مسلمانوں کے لئے ذہنیتیں اور زمینیں  پوری طرح تنگ ہو چکی ہیں۔


معاملہ لکھنئو چڑیا گھر کے نزدیک مدرسہ جامعہ علوم دین نسواں کا ہے ۔ یہ سڑک کے کنارے صدیوں سے آباد قدیم مدرسہ ہے جہاں مسلم لڑکیوں کو دینی تعلیم فراہم کی جاتی ہے۔ مدرسے کی ذمہ دار خواتین کے مطابق جن لوگوں نے باقاعدہ ناجائز قبضے کر رکھے ہیں، گھروں کے آگے پختہ پارکنگ بنا رکھی ہیں خوانچے لگانے کے لئے بند وبست کر لئے ہیں ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں اور جامعہ علوم دین نسواں کے خلاف اس لئے کارروائی کی گئی کہ یہ مسلم ادارہ ہے، یہاں غریب مسلم بچیاں پڑھتی ہیں۔


معروف سماجی کارکن اور سنٹر فار آبجیکٹو ریسرچ اینڈ ڈولپمنٹ کے ڈائرکٹر اطہر حسین نے بھی نگر نگم کے متعصبانہ عمل کو غیر قانونی اور نفرت و تعصب پر مبنی عمل قرار دیتے ہوئے صاف طور پر کہا کہ ایک ہی لائن میں بنی عمارتوں میں صرف مدرسے کی حد بندی کو ہی کیوں توڑا گیا اور دوسری عمارات کو کیوں چھوڑا گیا۔ یہاں یہ بات بھی خاص اور قابل غور ہے کہ گزشتہ کافی دنوں سے ایک مخصوص طبقے کے لوگوں کے خلاف کارروائیاں کئے جانے کی شکایات عام ہیں اور اقلیت کے لوگ عدم تحفظ کے احساس میں مبتلا ہیں۔ مختلف سطحوں اور محاذوں پر یکطرفہ کارروائیاں کی جارہی ہیں لیکن کہیں کوئی سنوائی نہیں ، پولس شکایت سننے کے بجائے وصولی شروع کر دیتی ہے۔ ایسے حالات میں کمزور اور دبے کچلے لوگ کیا کریں، کس سے انصاف کی گہار لگائیں ، اپوزیشن گونگی بہری بنی ریاست کی تباہی کا تماشہ دیکھ رہی ہے، حق و انصاف کی آواز اٹھانے والوں کے خلاف ہی قانونی کارروائیاں کی جارہی ہیں جس کی وجہ سے سماجی اراکین میں بھی خوف دیکھا جارہا ہے۔


ایسے حالات میں مظلوموں کو انصاف کون دلائے گا۔ کورڈ نے اس نا انصافی اور ظلم و زیادتی کے خلاف عدلیہ کا رخ کرنے کا فیصلہ کیا ہے جہاں ثبوت کے بطور یک طرفہ کارروائی کی تصاویر، ویڈیو گرافی اور نگر نگم کے ملازمین کی غیر آئینی اور غیر دستوری کارروائیوں کی نقل و حرکات پیش کی جائیں گی۔ بڑا سوال یہی ہے کہ ایک علاقے میں صرف مدرسے کے خلاف ہی کارروائی کیوں اور دوسرے گھروں، دکانوں اور صنعتی مراکز کے خلاف کارروائی کیوں نہیں؟
Published by: Nadeem Ahmad
First published: Jul 28, 2020 01:34 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading