உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    مہاراشٹر میں پی ایف آئی کے خلاف بڑے پیمانہ پر کارروائی، جائیدادیں ضبط کرنے کا حکم

    اس طرح ملک کی سلامتی اور امن عامہ کو خطرہ ہے۔

    اس طرح ملک کی سلامتی اور امن عامہ کو خطرہ ہے۔

    Popular Front of India: مرکزی وزارت داخلہ نے کہا کہ پی ایف آئی اور اس کی ذیلی تنظیم یا محاذ ملک میں دہشت کا راج قائم کرنے کے ارادے سے پرتشدد دہشت گردانہ سرگرمیوں میں ملوث رہے ہیں، اس طرح ملک کی سلامتی اور امن عامہ کو خطرہ ہے۔ جس کے خلاف یہ کارروائی کی گئی ہے۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Delhi | Mahapoli | Jammu | Hyderabad | Lucknow
    • Share this:
      پاپولر فرنٹ آف انڈیا (PFI) کے خلاف ملک گیر چھاپوں، گرفتاریوں اور وزارت داخلہ کی جانب سے 28 ستمبر بروز بدھ کو 8 ذیلی تنظمیوں سمیت پی ایف آئی پر 5 سال کی پابندی کا اعلان کیا گیا۔ اس کے فوری بعد مہاراشٹر حکومت نے پی ایف آئی کے خلاف مزید کریک ڈاؤن کا حکم دیا ہے، جس میں پی ایف آئی سے وابستہ افراد کے کی جائیدادیں ضبط کرنا شامل ہے۔

      ذرائع کے مطابق جائیدادوں کو ضبط کرنے اور پی ایف آئی کے خلاف دیگر مناسب اقدامات شروع کرنے کی ہدایات دی گئی ہیں۔ ریاستی حکومت کا حکم غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ یا UAPA کے سیکشن 42 کے تحت جاری کیا گیا ہے۔ پی ایف آئی کے علاوہ جن تنظیموں کو مرکز کے ذریعہ سخت انسداد دہشت گردی قانون یو اے پی اے کے تحت کالعدم قرار دیا گیا تھا، ان میں ریحاب انڈیا فاؤنڈیشن، کیمپس فرنٹ آف انڈیا، آل انڈیا امامس کونسل، نیشنل کنفیڈریشن آف ہیومن رائٹس آرگنائزیشن، نیشنل ویمنس فرنٹ، جونیئر فرنٹ اور ایمپاور انڈیا فاؤنڈیشن شامل ہیں۔

      ذرائع کے مطابق ریاست کے محکمہ داخلہ نے پولیس کمشنروں اور ضلع مجسٹریٹوں کو بااختیار بنانے کے احکامات جاری کیے ہیں کہ وہ عالمی دہشت گرد تنظیموں جیسے اسلامک اسٹیٹ (ISIS) کے ساتھ روابط رکھنے کے الزام میں تنظیم کے خلاف کارروائی کریں۔ مہاراشٹر حکومت کے حکم نامے میں پی ایف آئی اور آٹھ وابستہ تنظیموں کا نام ہے۔

      یہ بھی پڑھیں: 

      کیا ہے پاپولر فرنٹ آف انڈیا(پی ایف آئی)، کیسے ڈالی گئی اس کی بنیاد؟ جانیے مکمل تفصیل

      مرکزی وزارت داخلہ نے کہا کہ پی ایف آئی اور اس کی ذیلی تنظیم یا محاذ ملک میں دہشت کا راج قائم کرنے کے ارادے سے پرتشدد دہشت گردانہ سرگرمیوں میں ملوث رہے ہیں، اس طرح ملک کی سلامتی اور امن عامہ کو خطرہ ہے۔ جس کے خلاف یہ کارروائی کی گئی ہے۔

      یہ بھی پڑھیں: 

      دہشت گردی کےخلاف حکومت کاایک اورقدم، 2016 کےسرجیکل اسٹرائیک کی طرح پی ایف آئی پر پابندی!


      پی ایف آئی سے مبینہ طور پر منسلک 150 سے زیادہ لوگوں کو منگل کے روز سات ریاستوں میں چھاپوں میں حراست میں لیا گیا یا گرفتار کیا گیا، 16 سال پرانے گروپ کے خلاف اسی طرح کے پین انڈیا کریک ڈاؤن کے پانچ دن بعد اس کے سو سے زیادہ کارکنوں کی گرفتاری اور ضبطی کی گئی۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: