ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

خاتون کے ساتھ اجتماعی عصمت دری کا لائیو ویڈیو، واقعے کے 4 ماہ بعد کیس درج

معاملے کا انکشاف تب ہوا جب 4 ماہ بعد خاتون چاروں کے خلاف رپورٹ لکھوانے تھانے پہنچی۔

  • Share this:
خاتون کے ساتھ اجتماعی عصمت دری کا لائیو ویڈیو، واقعے کے 4 ماہ بعد کیس درج
معاملے کا انکشاف تب ہوا جب 4 ماہ بعد خاتون چاروں کے خلاف رپورٹ لکھوانے تھانے پہنچی۔

چھتیس گڑھ کے مہاس مند کے کوتوالی تھانہ علاقے میں ایک خاتون کےساتھ اجتماعی عصمت دری کا جرم درج کیا گیا ہے۔ 4 لوگوں کے خلاف خاتون کے گھر میں گھس کر واردات کو انجام دینے کا الزام لگا ہے۔ یہی نہیں چاروں نے ریپ کی واردات دینے کے ساتھ ہی اس کا ویڈیو بھی ریکارڈ کیا۔ معاملہ اکتوبر 2019 کا ہے۔ معاملے کا انکشاف تب ہوا جب 4 ماہ بعد خاتون چاروں کے خلاف رپورٹ لکھوانے تھانے پہنچی۔

خاتون نے جن لوگوں پر ریپ کا الزام لگایا ہے ان میں سے ایک ٹیچر، ایک سرکاری ملازم اور ایک پولیس کانسٹیبل کے ساتھ ایک دیگر شخص شامل ہے۔ بتادیں کہ جمعرات کی دوپہر مہاس مند کے ایک سرکاری محکمہ میں چپراسی کے عہدے پر فائز مہیلا تھانہ کوتوالی پہنچی۔ چاروں لوگوں کے خلاف اجتماعی عصمت دری کرنے کا الزام لگاتے ہوئے ایف آئی آر کرنے کی درخواست دی۔ گینگ ریپ کی بات سنتے ہی پولیس کے ہاتھ پاؤں پھول گئے اور خاتون سے پولیس نے بند کمرے میں بیان لیا۔

خاتون نے پولیس کو بتایا کہ اکتوبر 2019 میں ایک رات پولیس کانسٹیبل ششانک شرما، رجو بھارتی، ٹیچر کے پی پٹیل اور جے نارائن بھوئی اس کے گھر پہنچے۔ اس وقت خاتون گھر پر اکیلی تھی جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے چاروں نے اس کے ساتھ ریپ کیا اور ویڈیو بنایا۔ ساتھ ہی خاتون نے یہ بھی الزام لگایا کہ چاروں نے واقعے کی جانکاری کسی کو دینے پر ویڈیو کو وائرل کرنے اور اس کی بیٹی کے ساتھ غلط کرنے کی دھمکی دی تھی۔ اس چار ماہ میں ان لوگوں نے کئی مرتبہ اسے دھمکی دی اور کانسٹیبل ششانک شرما نے اس کے ساتھ دوبارہ ریپ بھی کیا۔ چار ماہ بعد جب وہ پریشان ہو گئی تب جاکر وہ پولیس سے مدد لینے پہنچی ہے۔ کوتوالہ تھانہ انتظامیہ راکیش کھٹیشور نے بتایا کہ خاتون کی درخواست پر ایف آئی آر 376 کا معاملہ درج کرنے اور ملزموں کی پتاساجی کے ساتھ معاملے کی جانچ کی جارہی ہے۔

First published: Mar 05, 2020 07:32 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading