ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

حکومت بنے گی یا نہیں؟ آج گورنر کو بتائیں گے بی جے پی لیڈران، محبوبہ مفتی

سرینگر۔ جموں و کشمیر میں پی ڈی پی-بی جے پی اتحاد پر مسلسل غیر واضح صورت حال برقرار ہے۔

  • IBN Khabar
  • Last Updated: Feb 02, 2016 12:01 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
حکومت بنے گی یا نہیں؟ آج گورنر کو بتائیں گے بی جے پی لیڈران، محبوبہ مفتی
سرینگر۔ جموں و کشمیر میں پی ڈی پی-بی جے پی اتحاد پر مسلسل غیر واضح صورت حال برقرار ہے۔

سرینگر۔ جموں و کشمیر میں پی ڈی پی-بی جے پی اتحاد پر مسلسل غیر واضح صورت حال برقرار ہے۔ پیر کو سری نگر میں پی ڈی پی ممبران اسمبلی کی میٹنگ کے بعد آج پارٹی صدر محبوبہ مفتی گورنر این این ووہرا سے ملاقات کر کے انہیں پارٹی کے موقف سے آگاہ کرائیں گی۔ وہیں گورنر نے ریاست میں حکومت کے قیام کے لیے بی جے پی کو بھی مدعو کیا ہے۔ ایک طرف جہاں محبوبہ مفتی شام 4.30 بجے گورنر سے ملیں گی وہیں بی جے پی کے ملنے کا وقت 6 بجے ہے۔


گورنر نے کہا ہے کہ گزشتہ 10 ماہ سے ریاست میں مل کر حکومت چلا رہی دونوں جماعتوں کو آج یہ واضح کرنا ہوگا کہ وہ ریاست میں دوبارہ حکومت بنائیں گی یا نہیں۔ بی جے پی کے اعلیٰ رہنماؤں کی میٹنگ کے بعد یہ فیصلہ لیا گیا ہے کہ بی جے پی اتحاد کو اپنی حمایت دیتی رہے گی۔ یہ فیصلہ پارٹی صدر امت شاہ اور جنرل سکریٹری رام مادھو کی موجودگی میں ہوا۔ یہ میٹنگ گورنر کے سمن کے بعد بلائی گئی تھی۔


سری نگر میں پیر کو پی ڈی پی ممبران اسمبلی کی میٹنگ کے بعد پی ڈی پی کے سینئر لیڈر نعیم اختر نے کہا کہ پارٹی ممبران اسمبلی نے صدر محبوبہ مفتی کو اس بات کے لئے اختیار دیا ہے کہ وہ ریاست میں حکومت کے قیام کے معاملے میں پارٹی کے ارکان اسمبلی کے موقف سے گورنر کو آگاہ کرائیں۔ وہیں میٹنگ کے بعد محبوبہ نے یہ بات دو ٹوک انداز میں صاف کر دی ہے کہ وزیر اعلی عہدہ سنبھالنے سے پہلے وہ مودی حکومت سے اس بات کی واضح یقین دہانی چاہتی ہیں کہ پی ڈی پی-بی جے پی اتحاد کے ایجنڈے پر مخصوص وقت کی حد کے اندر عمل کیا جائے گا۔


بتا دیں کہ سابق وزیر اعلی مفتی محمد سعید کے انتقال کے بعد ہی حکومت کی تشکیل میں جس طرح سے تاخیر ہو رہی ہے اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ محبوبہ مفتی اتحاد کو جاری رکھنے کی خواہش مند نہیں لگ رہی ہیں۔ اس درمیان خبر یہ بھی اٹھتی رہی ہے کہ وہ بی جے پی کو چھوڑ کر کانگریس اور دیگر چھوٹی جماعتوں سے ہاتھ ملا سکتی ہیں۔ اب دیکھنا ہوگا کہ آج گورنر سے مل کر دونوں پارٹیوں کے لیڈران حکومت کی تشکیل کو لے کر کیا رخ اختیار کرتے ہیں۔

 

 
First published: Feb 02, 2016 11:59 AM IST