ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

محبوبہ مفتی کی تاجپوشی 4 اپریل کو، بی جے پی نے محبوبہ کو بتایا تجربہ کار لیڈر

سری نگر : جموں وکشمیر کی پہلی خاتون وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی اور اُن کی کابینہ کے وزراء کی تقریب حلف برداری 4 اپریل کو جموں یونیورسٹی کے جنرل زور آور سنگھ آڈیٹوریم میں منعقد ہونے جارہی ہے

  • UNI
  • Last Updated: Apr 01, 2016 08:34 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
محبوبہ مفتی کی تاجپوشی 4 اپریل کو، بی جے پی نے محبوبہ کو بتایا تجربہ کار لیڈر
محبوبہ مفتی: فائل فوٹو

سری نگر : جموں وکشمیر کی پہلی خاتون وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی اور اُن کی کابینہ کے وزراء کی تقریب حلف برداری 4 اپریل کو جموں یونیورسٹی کے جنرل زور آور سنگھ آڈیٹوریم میں منعقد ہونے جارہی ہے ، جس کے ساتھ ہی پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی وساطت سے بھارتیہ جنتا پارٹی جموں وکشمیر کی انتخابی تاریخ میں دوسری مرتبہ ملک کی واحد مسلم اکثریت والی اس ریاست میں حکومت کا حصہ بنے گی۔

ریاست میں سابق وزیر اعلیٰ مفتی محمد سعید کے انتقال کے ایک روز بعد یعنی 8 جنوری کو گورنر راج نافذ کردیا گیا تھا جس کو مکمل ہوئے آج قریب دو ماہ اور 24 دن ہوگئے ہیں۔ ذرائع نے بتایا کہ پی ڈی پی اور بی جے پی نے ریاست میں نئی حکومت کی تشکیل میں کسی بھی قسم کی مزید تاخیر کو ٹالنے کے لئے تقریب حلف برداری کے لئے 4 اپریل کی تاریخ مقرر کرلی ہے جس کے بارے میں ریاستی گورنر این این ووہرا کو بھی آگاہ کردیا گیا ہے۔

بی جے پی کی طرف سے نامزد نائب وزیر اعلیٰ ڈاکٹر نرمل سنگھ نے یو این آئی کو بتایا کہ تقریب حلف برداری 4 اپریل کی صبح منعقد ہوگی۔ تاہم انہوں نے بتایا ’ایجنڈا آف الائنس ہماری رہنما کتاب ہے اور یہ پی ڈی پی کے لئے بھی مقدس ہے‘۔ انہوں نے بتایا کہ سابق مخلوط حکومت کے وزیر اعلیٰ مفتی محمد سعید کا 7 جنوری کو انتقال کرجانے کے بعد سے پی ڈی پی اور بی جے پی لیڈرشپ مسلسل رابطے میں تھی۔

ڈاکٹر سنگھ نے بتایا کہ دونوں جماعتوں نے معاملات کو نپٹایا ہے اور فی الوقت دونوں جماعتوں کے درمیان کوئی اختلافات نہیں ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ بی جے پی کا پی ڈی پی کے ساتھ اتحاد بہتر حکمرانی کے لئے کیا گیا ہے اور ہم اسے ریاست کے مفاد اور فلاح وبہبود کے لئے آگے بڑھائیں گے۔ محبوبہ مفتی کی تعریف کرتے ہوئے ڈاکٹر سنگھ نے کہا کہ وہ ایک تجربہ کار لیڈر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’اگرچہ محترمہ مفتی انتظامی تجربہ نہیں رکھتی ہیں لیکن اُن کا سیاسی کیریئر مثالی رہا ہے‘۔

بی جے پی لیڈر نے کہا کہ جوں ہی نئی مخلوط حکومت اپنا کام شروع کرے گی تو سابقہ مخلوط حکومت کے دس ماہ بھی ثمرآور ثابت ہوں گے اور سب کچھ ٹریک پر واپس آئے گا۔ انہوں نے بتایا کہ سال 2014 کے اسمبلی انتخابات میں ریاستی عوام نے پی ڈی پی اور بی جے پی کو منڈیٹ دیا تھا اور مخلوط حکومت کے ’ایجنڈا آف الائنس‘ کو مرتب کرنے میں تین ماہ کا عرصہ لگا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ ایجنڈا آف الائنس میں تمام معاملات کا ذکر کیا گیا تھالیکن بدقسمتی سے مفتی صاحب کا بے وقت انتقال کرجانے سے چیزیں رک گئی تھیں۔

ڈاکٹر سنگھ نے بتایا کہ ایک بار پھر موقع ملا ہے اور ایجنڈا آف الائنس میں شامل رفوجیوں، کشمیری پنڈتوں، سرحد پار سے ہونے والی فائرنگ کے متاثرین اور سیلاب متاثرین کے مسائل کو حل کیا جائے گا۔ پی ڈی پی کے باوثوق ذرائع نے یو این آئی کو بتایا ’ہاں تقریب حلف برداری 4 اپریل کو منعقد ہونے جارہی ہے۔ یہ تقریب 11 یا 4 بجے دن منعقد ہوگی۔ اس کا انعقاد جموں یونیورسٹی کے جنرل زور آور سنگھ آڈیٹوریم میں ہوگا‘۔
انہوں نے بتایا کہ تقریب حلف برداری سادگی کے ساتھ سرانجام پائے گی۔ یہ پوچھے جانے پر کہ مرکزی حکومت اور بی جے پی کے قومی سطح کے لیڈران میں سے کون کون اس تقریب میں شریک ہوگا، تو انہوں نے جواب میں بتایا کہ مرکزی وزیر خزانہ ارون جیٹلی ، مرکزی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ، بی جے پی ممبر پارلیمنٹ اور جموں وکشمیر امور کے انچارج اویناش رائے کھنہ اور بی جے پی کے قومی جنرل سکریٹری رام مادھو کی شرکت متوقع ہے۔
انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم نریندر مودی کو بھی شرکت کا دعوت نامہ ارسال کردیا گیا ہے، چونکہ وہ بیرون ممالک دورے پر ہیں، اس لئے اُن کی شرکت کا امکان بہت ہی کم ہے۔ اس نئی حکومت کی نئی کابینہ میں تبدیلی سے متعلق پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں پی ڈی پی ذرائع نے بتایا ’پی ڈی پی کی طرف سے کوئی تبدیلی نہیں لائی گئی ہے اور جن لیڈران کوگذشتہ پی ڈی پی۔ بی جے پی مخلوط حکومت کی کابینہ میں شامل کیا گیا تھا، کو اس بار بھی اپنے گذشتہ قلمدانوں کے ساتھ شامل کیا جائے گا‘۔
پی ڈی پی لیڈر پروفیسر امیتاب مٹو جو سابقہ مخلوط حکومت میں وزیر اعلیٰ مرحوم مفتی محمد سعید کے مشیر تھے، نے مائیکرو بلاگنگ کی ویب سائٹ ٹویٹر پر لکھا ’محبوبہ مفتی صاحبہ 4 اپریل کو جموں وکشمیر کے وزیر اعلیٰ کی حیثیت سے حلف اٹھائیں گی۔ میں دعا کرتا ہوں کہ اُن کا دورِ حکومت خطے میں امن اور خوشحالی کا موجب بنے‘۔ ذرائع نے بتایا کہ پی ڈی پی کی اتحادی جماعت بی جے پی کی طرف سے نئی کابینہ میں شامل کی جانے والی ٹیم میں کچھ تبدیلیاں دیکھنے کو مل سکتی ہیں۔ اِن ذرائع کا کہنا ہے کہ بی پی جے اس کی طرف سے شامل کئے جانے والی وزراء کے ناموں کی فہرست تیار کررہی ہے۔
بتایا جارہا تھا کہ بی جے پی کابینہ میں برابر کا حصہ اور وزارتِ داخلہ ، خزانہ و منصوبہ بندی کے قلمدانوں کا مطالبہ کررہی تھی جس کی وجہ سے تقریب حلف برداری تعطل کا شکار ہوگئی تھی، تاہم بی جے پی پارٹی ہائی کمان بشمول مسٹر مادھو کے کہنے پر اس مطالبے کی تکمیل کے بغیر آگے بڑھنے کے لئے تیار ہوگئی ہے۔
رپورٹوں کے مطابق محبوبہ مفتی کی دو بہنیں اور دو بیٹیاں تقریب حلف برداری میں موجود رہیں گی۔ دریں اثنا ذرائع نے بتایا کہ تقریب حلف برداری کے سلسلے میں انتظامات کو حتمی شکل دی جارہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جنرل زور آور سنگھ آڈیٹوریم میں کل جموں یونیوسٹی کا 16 واں جلسہ تقسیم اسناد منعقد ہورہا ہے جس میں نائب صدر جمہوریہ محمد حامد انصاری بحیثیت مہمان خصوصی شرکت کررہے ہیں اور اس کے پیش نظر کیمپس کے گردونواح میں سیکورٹی اہلکاروں کی موجودگی پہلے ہی بڑھا دی گئی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ تقریب حلف برداری کے پیش نظر کیمپس کے گردونواح میں سیکورٹی اہلکاروں کا پہرہ جاری رکھے جائے گا۔ محبوبہ مفتی نے 26 مارچ کو ریاستی گورنر این این ووہرا سے ملاقات کرکے ریاست میں نئی حکومت بنانے کا دعویٰ پیش کیا تھا۔ وہ ریاست کی 13 ویں وزیر اعلیٰ ہوں گی جبکہ بی جے پی لیڈر ڈاکٹر نرمل سنگھ اُن کے نائب ہوں گے۔ محترمہ مفتی نے 22 مارچ کی صبح نئی دہلی میں وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ اُن کی سرکاری رہائش گاہ واقع 7 ریس کورس روڑ پر ملاقات کی تھی جس کے ساتھ ہی ریاست میں حکومت سازی کی راہ ہموار ہوگئی تھی۔
اگرچہ انہوں نے اس میٹنگ کی تفصیلات کو تاحال صیغہ راز ہی رکھا ہے ، تاہم بی جے پی جنرل سکریٹری رام مادھو کے مطابق ملاقات کے دوران مسٹر مودی نے محبوبہ مفتی کو آشرواد دینے کے ساتھ ساتھ ہر ممکن تعاون، حمایت اور مدد کی یقین دہانی کرائی۔ اس ملاقات کے دو روز بعد یعنی 24 مارچ کو پی ڈی پی نے محبوبہ مفتی کو لیجسلیچر پارٹی کا لیڈر اور وزیر اعلیٰ کے عہدے کا امیدوار نامزد کیا تھا۔
بی جے پی پہلے ہی واضح کرچکی ہے کہ حکومت تشکیل دینے کے لئے پی ڈی پی کی کسی بھی نئی مانگ کو پورا کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اور نئی حکومت کا قیام پہلے سے طے شدہ ایجنڈا آف الائنس پر ہی ہوگا۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ مرحوم مفتی سعید نے گذشتہ سال کے 13 نومبر کو اپنی بیٹی محبوبہ مفتی کو ریاست کی اگلی وزیر اعلیٰ بنائے جانے کی خواہش کا بلواسطہ طور پر اظہار کیا تھا۔ انہوں نے جموں میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ جمہوریت کے حصے کے طور پر محبوبہ مفتی ریاست کی نئی وزیر اعلیٰ ہوسکتی ہیں۔
انہوں نے کہا تھا کہ محبوبہ مفتی نے پارٹی صدر کی حیثیت سے اسمبلی انتخابات کے دوران بہت ہی اچھا کام کیا اور اُن کی کوششوں کی وجہ سے ہی پارٹی انتخابات میں سب سے بڑی جماعت کے طور پر ابھر کر سامنے آئی جس کے بعد پارٹی نے ریاست میں بی جے پی کے ساتھ ملکر حکومت تشکیل دی۔ مرحوم مفتی سعید کی جانب سے اپنی بیٹی کو ریاست کی اگلی وزیر اعلیٰ بنائے جانے کی خواہش کے اظہار پر بی جے پی کے صرف ایک لیڈر پروفیسر ہری اوم نے اعتراض ظاہر کیا تھا۔
انہوں نے کہا تھا کہ جموں واسیوں اور بی جے پی کیلئے محبوبہ مفتی کا وزیر اعلیٰ بننا ناقابل قبول ہے۔ انہوں نے بی جے پی کے قومی صدر امت شاہ کے نام 13 نومبر کو بھیجے گئے ایک مکتوب میں لکھا تھا کہ وزیر اعلیٰ مفتی محمد سعید کے اعلان سے جموں خطے کے لوگ اور بی جے پی کے کارکنان مایوس اور تشویش میں مبتلا ہوگئے ہیں۔  انہوں نے اپنے مکتوب میں لکھا تھا کہ جموں واسیوں نے ایک آواز میں کہا ہے کہ محبوبہ مفتی کا وزیر اعلیٰ بننا انہیں ناقابل قبول ہے۔ تاہم مسٹر ہری اوم کو بعدازاں بی جے پی کی بنیادی رکنیت سے چھ ماہ کے لئے بے دخل کیا گیا تھا۔

First published: Apr 01, 2016 08:34 PM IST