اپنا ضلع منتخب کریں۔

    اردو کی شاہجہانی شخصیت پروفیسر ملک زادہ منظوراحمد کا انتقال

    دہلی /لکھنو : اردو شعر و ادب کی نامور شخصیت پروفیسر ملک زادہ منظور احمدکا آج بعد نماز جمعہ انتقال ہو گیا

    دہلی /لکھنو : اردو شعر و ادب کی نامور شخصیت پروفیسر ملک زادہ منظور احمدکا آج بعد نماز جمعہ انتقال ہو گیا

    دہلی /لکھنو : اردو شعر و ادب کی نامور شخصیت پروفیسر ملک زادہ منظور احمدکا آج بعد نماز جمعہ انتقال ہو گیا

    • ETV
    • Last Updated :
    • Share this:
      لکھنؤ : اردو زبان وادب کے بین الاقوامی سفیر پروفیسرملک زادہ منظور احمد کا آج لکھنو میں انتقال ہوگیا۔ ادب کی اس شاہجہانی شخصیت کی رحلت سے پوری اردو دنیا سوگوا رہے۔ پروفیسر ملک زادہ گزشتہ ایک ماہ سے علیل تھےاور لکھنؤکے جگ رانی اسپتال میں زیرعلاج تھے۔ مرحوم کے پسماندگان میں اہلیہ کے علاوہ4 بیٹیاں اور 2 بیٹے بھی شامل ہیں۔ ملک زادہ منظوراحمد نے آج دوپہر دو بج کر دس منٹ پرآخری سانس لی ۔ وہ 88 برس کے تھے اور گزشتہ 65 برس سے مختلف حوالوں سے زبان وادب کی غیر معمولی خدمات انجام دے رہے تھے۔ ان کی رحلت کی خبر کے ساتھ ہی لکھنؤ کی ادبی فضا مغموم ہوگئی ۔
      تراش لیتا ہوں اس سے بھی آئینے منظور
      کسی کے ہاتھ کا پتھر اگر لگے ہے مجھے
      میں ایک جام ہوں کس کس کے ہونٹ تک پہنچوں
      غضب کی پیاس لئے ہر بشر لگے ہے مجھے
      پتھروں سے آئینے تراشنے والے شاعر، دنیا کو احساس کی دولت سے مالامال کرنے والے قلم کار، منفرد لب و لہجہ کی ترجمانی کرنے والے ناظم، ادبی قدروں کے پاسدار مدیر، زبان وادب اور تہذیب وثقافت کے اہم سفیر پروفیسر ملک زادہ منظور احمد کی شناخت کے جتنے حوالے ہیں ، وہ سبھی نہایت معتبراور مستند ہیں۔ شاعری، خاکہ نگاری ، انشاپردازی، افسانہ نویسی، ناول نگاری، ادارتی مضامین، تنقیدی تبصرے اورسفرناموں سے خود نوشت رقص شرر تک پروفیسر ملک زادہ منظوراحمد کی خدمات ہزاروں صفحات پر پھیلی ہوئی ہیں۔
      جہاں جہاں اردو کے بولنے ، لکھنے ، سمجھنے اور پڑھنے والے ہیں ، وہاں وہاں ان کا نام دلوں اورذہنوں میں پورے ادب واحترام کے موجود ہے۔ ضلع فیض آباد کے قصبے کچھوچھہ شریف کے ایک چھوٹے سے گاؤں بھندہڑ میں پیدا ہونے والے پروفیسر ملک زادہ منظور نے اعظم گڑھ ، گورکھ پور، آگرہ اور لکھنؤ جیسے اہم شہروں میں رہ کر جوغیر معمولی خدمات انجام دی ہیں ، وہ ادب کی سنہری اور روشن تاریخ کا حصہ بن چکی ہیں۔
      اتر پردیش اردو اکاڈمی اور فخرالدین علی احمد میموریل کمیٹی کےصدر اور چیئرمین کی حیثیت سے طویل عرصہ تک وہ اردوکی ترقی ترویج اور بقا کے لئےجد وجہد کرتے رہے۔ وہ اردو کے ایک ایسے مجاہد تھے، جو ہرمحاذ پرزبان وادب کےاستحکام کے لئے کوششیں کرتے رہے۔
      لکھنؤ یونیورسٹی کے شعبہ اردو کے سابق صدر رہ چکے ملک زادہ نے 1949 کے بعد ملک کے مختلف حصوں کے علاوہ امریکہ، کینیڈا، ایران، متحدہ عرب امارات، بحرین، عمان، سعودی عرب، قطر، نیپال اور پاکستان سمیت کئی ملکوں میں ہزاروں مشاعروں میں شرکت کی۔ایک سے زیادہ کتابوں کے مصنف مرحوم احمد کا پہلا ناول 1954 میں کالج گرل کے نام سے شائع هوا تھا۔ اردو ادب کی بے پایاں خدمات کے اعتراف میں اتر پردیش اور مدھیہ پردیش اردو اکیڈمی ایوارڈ ، کے علاوہ وہ ہری ونش رائے بچن ایوارڈ، صوفی جمال اختر انعام اور فراق سمان سمیت ملک وو بیرون ملک متعدد ایوارڈ سے نوازا جا چکے تھے۔
      پروفیسراختر الواسع نے ملک زادہ منظور احمدکی رحلت پر اظہار تعزیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ مرحوم زبان و قلم دونوں کے دھنی تھے ۔’’شہر سخن‘‘ کے نام سے ان کا شعرا کا تذکرہ ، مولانا آزاد پر ان کا تحقیقی مقالہ ،’’ رقصِ شرر ‘‘کے نام سے ان کی خود نوشت اور’’ شہر ادب ‘‘کے نام سے ان کے مضامین کا مجموعہ ہمیں ان کی یاد دلاتے رہیں گے ۔ان کے ذریعہ نظیر اکبرآبادی کی غزلوں کا کیا گیا انتخاب اور اس پر ان کے ذریعہ لکھا گیامقدمہ ہمارے ادب میں خاصے کی چیز ہیں۔اردو کی ادبی صحافت میں بھی ان کے رسالے ’’امکان‘‘ کی بڑی اہمیت رہی ہے۔
      ملک زادہ صاحب اردو زبان کے عاشق صادق بھی تھے۔ اور اترپردیش میں اردو والوں کے حقوق کی بازیابی کے مجاہد بھی۔ ان کے انتقال سے نہ صرف ایک شاعر،نقاد اور معلم ہمارے بیچ سے اٹھ گیا بلکہ اردو زبان میں عوامی رابطے کی علامت اور مشاعروں کی آبرو اور اعتبار کا نشانِ امتیاز چلا گیا ۔
      ملک زادہ منظور احمد کے انتقال پر اردو اکادمی دہلی میں طلب کردہ ایک تعزیتی نشست میں اکادمی کے وائس چیئر مین ڈاکٹر ماجد دیوبندی نے کہا کہ ملک زادہ منظور کا اس طرح رخصت ہوجانا اردو دنیا کا وہ نقصان ہے جس کی تلافی ناممکن ہے۔انھوں نے اپنی مشاعرے کی 70سالہ زندگی میں اردو کو ہندوستان کے حوالے سے عالمی طور پر روشناس کرایا جس کے لیے اہلِ اردو ان کے احسان مند رہیں گے۔ یوں تو ان کی مختلف کتابیں ہیں لیکن انھوں نے اپنی خودنوشت میں اردو کی عالمی صورتحال اور دنیا کے بڑے اردو داں حضرات سے اپنے تعلقات اور ان کے ساتھ ہوئے ذاتی تجربات کو کتابی شکل دے کر مستقبل کے لیے ایک بڑی تاریخ مرتب کی ہے۔
      First published: