உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    ممتا - نائیڈو کو ایل جی ہاوس میں وزیر اعلی سے ملنے کی اجازت نہیں ملی ، کیجریوال نے کہا : یہ پی ایم او کا کام

    کیجریوال کی اہلیہ سے ملاقات کیلئے پہنچے چاروں وزرائے اعلی۔

    کیجریوال کی اہلیہ سے ملاقات کیلئے پہنچے چاروں وزرائے اعلی۔

    دہلی کے لیفٹیننٹ گورنر انل بیجل کی رہائش گاہ پر وزیر اعلی اروند کیجریوال سمیت عام آدمی پارٹی کے لیڈروں کا دھرنا جاری ہے۔

    • Share this:
      نئی دہلی : دہلی کے لیفٹیننٹ گورنر انل بیجل کی رہائش گاہ پر وزیر اعلی اروند کیجریوال سمیت عام آدمی پارٹی کے لیڈروں کا دھرنا جاری ہے۔ مغربی بنگال کی وزیر اعلی اور ٹی ایم سی سربراہ ممتا بنرجی سمیت کئی ریاستوں کے وزرائے اعلی کیجریوال کی حمایت میں آگئے ہیں۔ کیجریوال کے دھرنا کی حمایت کرنے کیلئے مغربی بنگال کی وزیر اعلی ممتا بنرجی ، کیرالہ کے وزیر اعلی پنارائی وجین ، کرناٹک کے وزیر اعلی ایچ ڈی کمار سوامی اور آندھرا پردیش کے وزیر اعلی چندرا بابو نائیڈو دہلی پہنچے ہیں ، لیکن بتایا جارہا ہے کہ دہلی کے ایل جی انل بیجل نے ممتا بنرجی کو کیجریوال سے ملاقات کرنے کی اجازت نہیں دی ہے۔
      اطلاعات کے مطابق چاروں وزرائے اعلی پہلے کیجریوال کی رہائش گاہ پہنچے ، جہاں انہوں نے کیجریوال کی اہلیہ اور اہل خانہ سے ملاقات کی ۔ کیجریوال سے ملاقات کے بعد چاروں وزرائے اعلی نے مشترکہ طور پر ایک پریس کانفرنس کی۔ چندرا بابو نائیڈو نے کہا کہ مرکز کو ریاست کے ساتھ کام کرنا چاہئے ۔ ممتا بنرجی نے ایل جی سے اجازت مانگی ، مگر نہیں دی گئی۔
      وہیں ممتا بنرجی نے کہا کہ یہی حال رہا تو منتخب حکومتوں کا کیا مستقبل ہوگا ؟ ہم نے تین چار گھنٹے انتظار کیا ، لیکن لیفٹیننٹ گورنر نے ملنے کا جواب نہیں دیا ۔ لوک سبھا انتخابات قریب ہیں ، آپ عوام کے سامنے جائیں۔
      مغربی بنگال کی وزیر اعلی نے کہا کہ دہلی میں آئینی بحران پیدا ہوگیا ہے ، ایل جی نے ملنے کیلئے وقت نہیں دیا تو کس کے پاس جائیں ، یہ پریشانی کسی کے ساتھ بھی ہوسکتی ہے ، چار مہینوں سے دہلی کاکام بند پڑا ہے ، کل ہم لوگ نیتی آیوگ کی میٹنگ میں وزیر اعظم سے اس معاملہ پر بات کریں گے ۔ دہلی میں جو حال ہے ، اس سے غلط پیغام جارہا ہے، دہلی میں عوام کے فیصلہ کا احترام کیا جانا چاہئے۔

      خیال رہے کہ عام آدمی پارٹی کے لیڈر راگھو چڈھا نے ٹویٹ کرکے اطلاع دی ہے کہ ایل جی نے اپنی رہائش گاہ پر چاروں وزرائے اعلی کو کیجریوال سے ملنے کی اجازت نہیں دی ہے۔ راگھو کے ٹویٹ پر کیجریوال نے بھی اپنے رد عمل کا اظہار کیا ۔









      First published: