ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

ایگزٹ پولس : چار ریاستوں میں ہوگی اقتدار کی تبدیلی ، مگر بنگال میں جاری رہے گا ممتا کا راج

کلکتہ: پولنگ کے بعد ہوئے بیشتر ایگزٹ پول میں مغربی بنگال میں حکمراں جماعت ترنمول کانگریس کی واپسی طے بتائی جارہی ہے ۔

  • Agencies
  • Last Updated: May 16, 2016 08:44 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
ایگزٹ پولس : چار ریاستوں میں ہوگی اقتدار کی تبدیلی ، مگر بنگال میں جاری رہے گا ممتا کا راج
کلکتہ: پولنگ کے بعد ہوئے بیشتر ایگزٹ پول میں مغربی بنگال میں حکمراں جماعت ترنمول کانگریس کی واپسی طے بتائی جارہی ہے ۔

نئی دہلی : پولنگ کے بعد ہوئے بیشتر ایگزٹ پول میں مغربی بنگال میں حکمراں جماعت ترنمول کانگریس کی واپسی طے بتائی جارہی ہے ۔جبکہ آسام میں بی جے پی ، تمل ناڈو میں ڈی ایم کے ، کیرالہ میں ایل ڈی ایف اور پڈوچیری میں ڈی ایم کی سرکار بنتی ہوئی بتایا جارہا ہے ۔ کچھ سروے یہ بھی کہا گیا ہے کہ مغربی بنگال میں حکمراں جماعت ترنمول کانگریس اور بایاں محاذ کے درمیان کڑا مقابلہ ہے ۔

اے بی پی آنندو اور نیلسن کے سروے کے مطابق وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کو 2011 کے اسمبلی انتخابات کے مقابلے نقصان ہوگا مگر اس کے باوجود ان کی جماعت 163سیٹوں پر کامیابی حاصل کرے گی اور کانگریس و بایاں محاذ اتحاد کو 126سیٹوں پر کامیابی ملے گی ۔ بی جے پی ایک یا دو سیٹوں پر کامیاب ہوسکتی ہے جب کہ دارجلنگ میں گورکھا جن مکتی مورچہ کا ہی جھنڈا لہرانے کی امید ہے ۔

اے بی پی آنندا اور نیلسن نے اپنے ایگزٹ سروے یہ بھی کہا کہ 25سیٹوں پر سخت مقابلہ ہے وہاں پانچ سے 6فیصد ووٹ آگے پیچھے ہوسکتا ہے اور یہ 25حلقے ممتا بنرجی کیلئے خطرے کی گھنٹی بھی بجا سکتی ہے اور یہاں اگر 5سے 6فیصد زاید بایاں محاذ کو ووٹ مل گئے تو بایاں محاذ اور کانگریس اتحاد کی بھی حکومت بن سکتی ہے ۔ ممتا بنرجی کی پارٹی محص 138سیٹوں تک محدود ہوجائے گی ۔اور بایاں محاذ 151سیٹوں تک پہنچ جائے گا۔

جب کہ نیوز نیشن کے ایگزٹ پول کے مطابق ترنمول کانگریس کو 153سیٹیں ملیں گی ۔یعنی دو تہائی اکثریت صرف پانچ سیٹوں سے ہی ملے گی۔بایاں محاذ اور کانگریس کو 136سیٹیں ملنے کا امکان ہے جس میں بایاں محاذ کو 91اور کانگریس کو 45سیٹیں شامل ہیں ۔ ایگزٹ پول کے مطابق ترنمول کانگریس کو 44فیصد اور کانگریس و بایاں محاذ کو 42فیصد اور بی جے پی کو 7فیصد و دیگر کو 7فیصد ووٹ ملے ہیں ۔

اگر یہ انتخابی سروے صحیح رہے تو بی جے پی کیلئے یہ ایک بڑا جھٹکا ہوگا کیوں کہ لوک سبھا انتخابات میں بی جے پی کا ووٹ فیصد17فیصد تک پہنچ گیا ہے مگر اب ایک بار پھر ووٹ فیصد 2011کی طرح گھٹ کر 7فیصد تک پہنچ جائے گا۔ 2011اسمبلی انتخابات میں ممتا بنرجی کی لہر تھی اس وقت ترنمول کانگریس اور کانگریس کا اتحاد تھا ۔2011میں ترنمول کانگریس کو 184سیٹوں پر کامیابی ملی اور کانگریس 42سیٹوں پر کامیابی حاصل کی تھی جب کہ بایاں محاذ کو صرف 62سیٹوں پر ہی کامیابی حاصل کرسکی تھی۔

نيوز نیشن کے مطابق تمل ناڈو میں اے آئی اے ڈی ایم کے کو 95-99 نشستیں (35 فیصد ووٹ)، ڈی ایم کے کو 114-118 (39 فیصد ووٹ)، پی ڈبلیو یو ایف کو 14 نشستیں، بی جے پی کو 4 سیٹیں اور دیگر 9 نشستیںمل سکتی ہیں۔ جبکہ ایکسس مائی انڈیا کے مطابق تمل ناڈو میں آئی اے ڈی ایم کے کو 89-101، ڈی ایم-کانگریس کو 124-140 نشستیں، بی جے پی کو 0-3 نشستیں اور دیگر کو 4-8 نشستیں ملنے کا امکان۔
ٹوڈے اور چانکیہ کے مطابق آسام میں بی جے پی کو 90، کانگریس کو 27، اے آئی یو ڈی ایف کو 9 اور دیگر کو تین نشستیں ملنے کا امکان ہے ۔ ایکسس مائی انڈیا اور انڈیا ٹوڈے کے سروے کے مطابق کانگریس کو یہاں محض 26-33 نشستیں ملنے کا امکان ہےجبکہ بی جے پی 79-93 نشستیں جیت کر پہلی بار یہاں حکومت بنا سکتی ہیں۔ اے آئی یو ڈی ایف کو 6 سے 10 نشستیں ملنے کا امکان ہے ۔ اے بی پی نیوز کے مطابق کانگریس کو 33، بی جے پی کو 81، اےآئی یو ڈی ایف کو 10 اور دیگر کو 2 سیٹیںمل سکتی ہیں ، جبکہ سی ووٹر کے مطابق کانگریس کو 41، بی جے پی کو 57، اے آئی یو ڈی ایف کو 18 اور دیگر کو 10 نشستیں ملنے کا امکان ہے۔
ایکس مائی انڈیا کے مطابق کیرالہ میں یو ڈی ایف کو 38-48، ایل ڈی ایف کو 88-101، بی جے پی کو 0-3 اور دیگر کو 1-4 نشستیں ملنے کا امکان ہے جبکہ انڈیا ٹی وی سی ووٹر کے مطابق کیرالہ میں ایل ڈی ایف کو 74-82، یو ڈی ایف کو 54-62، این ڈی اے کو 0-4 اور دیگر کو 0-4 نشستیں ملنےکی امید ہے۔
پڈوچیری میں انڈیا ٹوڈے-ایکسس مائی انڈیا کے مطابق ڈی ایم کے کو 15-21 سیٹیں ، اے آئی این آر سی 8-12،اے آئی ڈی ایم کے 1-4 و دیگر کو 0-2 نشستیں ملنے کی توقع ہے۔
First published: May 16, 2016 08:42 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading