உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    اے ٹی ایم کے باہر لمبی قطار کے لئے مودی کو ذمہ دار ٹھہرانے والے شخص کی وحشیانہ پٹائی

    علامتی تصویر

    نوٹ بندی کے بعد کیش کو لے کر مارا ماری کے درمیان اے ٹی ایم کے باہر طویل قطار کے لئے وزیر اعظم نریندر مودی کو قصوروار کہنا ایک شخص کو بہت مہنگا پڑگیا۔

    • Pradesh18
    • Last Updated :
    • Share this:
      نئی دہلی۔ نوٹ بندی کے بعد کیش کو لے کر مارا ماری کے درمیان اے ٹی ایم کے باہر طویل قطار کے لئے وزیر اعظم نریندر مودی کو قصوروار کہنا ایک شخص کو بہت مہنگا پڑگیا۔ جنوبی دہلی کے جیت پور علاقے میں 45 سالہ للن سنگھ کشواہا کو مبینہ طور پر ایک نوجوان نے بیٹ-بال سے بے رحمی سے پیٹا۔ اس واقعہ میں کشواہا بری طرح زخمی ہو گئے۔ پولیس تھانے میں درج شکایت میں للن سنگھ کشواہا نے بتایا کہ 15 دسمبر کو وہ ٹیلی ویژن خریدنے بازار جا رہے تھے۔ اسی وقت وہ اے ٹی ایم کے پاس سے گزرے۔ وہاں اے ٹی ایم سے پیسے نکالنے والوں کی لمبی قطار تھی۔

      میں نے بس اتنا ہی کہا کہ مودی جی کی وجہ سے یہ قطار لگی ہے۔ بس اتنا سنتے ہی بھیڑ میں سے انکت نامی شخص باہر آیا اور مجھے پیٹنے لگا۔ کشواہا نے الزام لگایا کہ انکت نے مارپیٹ کے علاوہ اس سے 6000 روپے بھی چھین لئے۔ اب پولیس اس معاملے کی تحقیقات کر رہی ہے۔ واضح رہے کہ 8 نومبر کو وزیر اعظم نریندر مودی نے نوٹ بندی کا اعلان کیا تھا۔ اس کے بعد 500 اور 1000 روپے کے پرانے نوٹ مارکیٹ میں ناقابل قبول ہو گئے تھے۔ ان نوٹوں کو بینک میں جمع یا پھر ایکسچینج کرایا جا سکتا تھا۔

      حکومت کے اس فیصلے کے بعد بینکوں اور اے ٹی ایم کے باہر لوگوں کی لمبی قطاریں تھمنے کا نام ہی نہیں لے رہی ہیں۔ مارکیٹ پر بھی اس کا اثر پڑا ہے۔ دکانوں میں خریداری کم ہو گئی ہے اور لوگوں کے درمیان اب بھی کیش کی قلت برقرار ہے۔
      First published: