உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    دشرتھ کے محل میں 10 ہزار کمرے تھے، کس میں پیدا ہوئے تھے بھگوان رام: منی شنکر ائیر

    کانگریس کے سینئر لیڈر منی شنکر ائیر: فائل فوٹو۔

    کانگریس کے سینئر لیڈر منی شنکر ائیر: فائل فوٹو۔

    رام مندر بنائے جانے کے سلسلہ میں منی شنکر ائیر کہتے ہیں کہ یہ بات سمجھ سے باہر ہے کہ مندر وہیں بنانے کی ضد کیوں کی جا رہی ہے

    • Share this:
      کانگریس کے سینئر لیڈر منی شنکر ائیر نے ایک بار پھر متنازعہ بیان دیا ہے۔ اس بار رام مندر معاملہ پر بولتے ہوئے انہوں نے ہندو وادی تنظیموں کے بھگوان رام کے جنم لینے کی جگہ کے دعووں پر سوال کھڑے کر دئیے۔

      رام مندر بنائے جانے کے سلسلہ میں وہ کہتے ہیں کہ یہ بات سمجھ سے باہر ہے کہ مندر وہیں بنانے کی ضد کیوں ہے۔ مندر آپ اس جگہ کے علاوہ کہیں اور بنا سکتے ہیں۔ ائیر نے کہا کہ ’’ دشرتھ کے محل میں بہت سارے کمرے تھے۔ کہا جاتا ہے کہ ان کے محل میں دس ہزار کمرے تھے۔ آپ کیسے یقینی طور پر کہہ سکتے ہیں کہ بھگوان رام کس کمرے میں پیدا ہوئے تھے‘‘۔

      چھ دسمبر، 1992 کو ایودھیا میں بابری مسجد گرائے جانے کے معاملہ پر کانگریس کے قدآور لیڈروں میں سے ایک منی شنکر ائیر نے اپنی ہی پارٹی اور اس وقت کی نرسمہا راو حکومت پر سوال کھڑے کر دئیے۔ دلی میں منعقد ’ ایک شام بابری مسجد کے نام‘ پروگرام میں ائیر نے اس واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے اسے روکنے میں ناکام رہنے پر اس وقت کی نرسمہا راو حکومت کی تنقید کی۔



      منی شنکر ائیر کا متنازعہ بیانات سے پرانا ناطہ رہا ہے۔ گجرات انتخابات کے دوران وزیر اعظم مودی کے خلاف منی شنکر ائیر نے متنازعہ بیان بازی کی تھی۔ اس کی مذمت خود کانگریس صدر راہل گاندھی نے کی تھی۔ اس کے لئے کانگریس نے انہیں پارٹی سے نکال دیا تھا۔ تاہم، بعد میں کانگریس نے ان کی معطلی کو واپس لے لیا تھا۔

      یہ بھی پڑھیں: ہندوستان کا تصور مسلمانوں کے بغیر نہیں کیا جاسکتا: منی شنکر ایر
      First published: