ہوم » نیوز » No Category

بی جے پی کو آفس کے لئے دی گئی اسکول کی زمین، لیفٹیننٹ گورنر پر سسودیا کا تیکھا نشانہ

نئی دہلی : دہلی کے لیفٹیننٹ گورنر نجیب جنگ اور کیجریوال حکومت کے درمیان تلخیاں بڑھ جانے کا امکان ہے۔

  • News18
  • Last Updated: Nov 03, 2015 10:40 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
بی جے پی کو آفس کے لئے دی گئی اسکول کی زمین، لیفٹیننٹ گورنر پر سسودیا کا تیکھا نشانہ
نئی دہلی : دہلی کے لیفٹیننٹ گورنر نجیب جنگ اور کیجریوال حکومت کے درمیان تلخیاں بڑھ جانے کا امکان ہے۔

نئی دہلی : دہلی کے لیفٹیننٹ گورنر نجیب جنگ اور کیجریوال حکومت کے درمیان تلخیاں بڑھ جانے کا امکان ہے۔ اسکول کی ایک زمین کو نجیب جنگ نے پارٹی کا دفتر بنانے کے لئے بی جے پی کو الاٹ کر دیا ہے، جس کو لے کر جہاں نائب وزیر اعلی منیش سسودیا نے جنگ کو خط لکھا ہے، وہیں وزیر اعلی اروند کیجریوال نے بھی اسے لیفٹیننٹ گورنر کا بچوں کی فکر چھوڑکر اپنے سیاسی آقاؤں کو خوش کرنے والا قدم بتایا ہے۔


نائب وزیر اعلی منیش سسودیا نے ایل جی نجیب جنگ کو خط لکھ کر پوچھا ہے کہ آخر انہوں نے دین دیال اپادھیائے مارگ پر اسکول کے لئے مقرر زمین بی جے پی کو دفتر بنانے کے لئے کیوں دے دی۔ سسودیا نے لیفٹیننٹ گورنر سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے فیصلے کو واپس لیں۔


خط میں لکھا ہے کہ جس شہر میں ایک ایک کلاس میں 150-200 بچے پڑھنے پر مجبور ہیں، اس شہر میں مزید اسکول کھولنے کی ضرورت ہے تو ایسے میں ایل جی آخر ایسا فیصلہ کس طرح کر سکتے ہیں جو بچوں کے مستقبل سے وابستہ ہو۔


سسودیا نے سوال کھڑا کیا ہے کہ جس ڈی ڈی اے کے سربراہ خود ایل جی ہیں ، وہاں تو تعلیم سے وابستہ تجاویز طویل مدت تک زیر التوا رہتی ہیں ، آخر اسکول کی زمین کا لینڈ یوز بدل کر اس پر بی جے پی کو دفتر بنانے کی اجازت دینے میں اتنی جلدی کیوں دکھائی گئی ۔


سسودیا کے اس خط کی وزیر اعلی اروند کیجریوال نے زوردار طریقے سے حمایت کی ہے۔کیجریوال نے ٹویٹ کرکے ایل جی پر حملہ بولتے ہوئے کہا کہ ڈی ڈی اے کے چیئرمین کے طور پر ایل جی نجیب جنگ کے کیا بچوں کے تئیں کوئی فرض ہیں یا پھر ان سے امید کی جائے کہ وہ اپنے سیاسی آقاؤں کو خوش کرنے کے لئے ہیں۔


ادھر بی جے پی نے سسودیا کے خط کے جواب میں ان پر ہی حملہ بولا ہے۔ پارٹی کے لیڈر آر پی سنگھ نے کہا کہ سسودیا اور کیجریوال کو روزانہ کچھ نہ کچھ من گھڑت باتیں کہنے کی عادت ہو گئی ہے۔ اس بارے میں گزشتہ یو پی اے حکومت جواب دے۔ سب نے درخواست کی ، تو ہم نے بھی کر دیا۔کس کی زمین تھی، کس کے کہنے پر دی گئی، یہ یو پی اے حکومت جانے، ہمیں نہیں معلوم۔

First published: Nov 03, 2015 10:40 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading