உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    وی کے سنگھ پر منیش تیواری کے بیان سے کانگریس نے پلہ جھاڑا ، کہا: وہ نہیں ہیں پارٹی ترجمان

    کانگریس لیڈر منیش تیواری: فائل فوٹو

    کانگریس لیڈر منیش تیواری: فائل فوٹو

    نئی دہلی۔ سابق مرکزی وزیر اور کانگریس لیڈر منیش تیواری کے تازہ بیان سے وزیر مملکت برائے خارجہ امور وی کے سنگھ کے لئے مشکلات کھڑی ہو سکتی ہیں۔

    • IBN7
    • Last Updated :
    • Share this:

      نئی دہلي: سابق مرکزی وزیر منیش تیواری کے تازہ بیان سے تنازع کھڑا ہو گیا ہے۔ منیش تیواری نے 2012 میں فوج کے دہلی کوچ کرنے کی خبر کو صحیح بتایا تھا۔ کانگریس نے منیش تیواری کے اس بیان سے پلہ جھاڑتے ہوئے کہا کہ وہ پارٹی کے ترجمان نہیں ہیں۔ کانگریس نے ایک بار پھر انڈین ایکسپریس اخبار میں شائع خبر کو غلط قرار دیا ۔ کانگریس کے ترجمان ابھیشیک منو سنگھوی نے کہا کہ کانگریس کا منیش تیواری کے بیان سے کوئی لینا دینا نہیں۔ یہ ان کا ذاتی بیان ہے ۔ منیش تیواری کو ایسے بیانات سے گریز کرنا چاہیے۔


      قابل ذکر ہے کہ سابق مرکزی وزیر اور کانگریس لیڈر منیش تیواری کے تازہ بیان سے وزیر مملکت برائے خارجہ امور وی کے سنگھ کے لئے مشکلات کھڑی ہو سکتی ہیں۔ منیش تیواری نے 2012 میں فوج کی ٹکڑی کے دہلی کوچ کرنے کی خبر کو درست بتایا۔ اس وقت وی کے سنگھ آرمی سربراہ تھے اور عمر کے تنازعہ کو لے کر ان کی حکومت سے کشمکش چل رہی تھی اور وہ اس وقت حکومت کے خلاف سپریم کورٹ تک گئے تھے۔ وہیں وی کے سنگھ نے اس کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ آج کل منیش تیواری کے پاس کوئی کام نہیں ہے۔ میری کتاب پڑھ لیں منیش تیواری، ظاہر ہو جائے گا۔


      ہفتہ کو ایک کتاب کی اجرا کے دوران جب تیواری سے 2012 میں ایک انگریزی اخبار کی خبر اور سچائی کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے جواب دیا اس وقت میں وزارت دفاع کی اسٹینڈنگ کمیٹی کا رکن تھا اور مجھے دکھ کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ وہ خبر صحیح تھی۔  ایسا واقعی میں ہوا تھا۔ انہوں نے کہا کہ میں کسی تنازعہ میں نہیں پڑنا چاہتا لیکن اپنی معلومات کی بنیاد پر کہہ سکتا ہوں کہ وہ خبر سچ تھی۔


      غور طلب ہے کہ 2012 میں ایک انگریزی اخبار نے دعوی کیا تھا کہ حکومت کی بغیر اجازت کے فوج کی دو ٹکڑیاں دہلی کی طرف بڑھی تھیں۔ اس وقت حکومت نے ایسی خبروں کو مسترد کیا تھا اور اس وقت کے وزیر اعظم منموہن سنگھ نے کہا تھا کہ اگر ایسا ہے تو یہ سنگین مسئلہ ہے۔

      First published: