உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    دہشت گردانہ حملے کے خلاف پورا ملک متحد، پورااپوزیشن ملک اورحکومت کے ساتھ ہیں: کانگریس

    سابق وزیراعظم منموہن سنگھ اورکانگریس صدر راہل گاندھی نے کہا ہے کہ ہم حکومت اورفوج کے ساتھ کھڑے ہیں۔

    سابق وزیراعظم منموہن سنگھ اورکانگریس صدر راہل گاندھی نے کہا ہے کہ ہم حکومت اورفوج کے ساتھ کھڑے ہیں۔

    سابق وزیراعظم منموہن سنگھ اورراہل گاندھی نے پریس کانفرنس کرکے کہا ہے کہ ہم کبھی بھی دہشت گردانہ طاقتوں سے کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے اورہماری پوری طاقت ملک کے ساتھ ہے۔

    • Share this:
      جموں وکشمیرکے پلوامہ ضلع میں سی آرپی ایف پرہوئے بڑے دہشت گردانہ حملے پرسابق وزیراعظم منموہن سنگھ نے کہا ہے کہ کانگریس پارٹی ہمارے جوانوں اوران کے اہل خانہ کے ساتھ پوری طرح سے کھڑی ہے۔ ہم قوم کومتحد رکھنے کے لئے ہرممکن کوشش کریں گے۔

      منموہن سنگھ نے کہا کہ آج سوگ کا دن ہے۔ ہمارے ملک نے تقریباً 40 جوانوں کوکھودیا ہے اورہمارا سب سے بڑا فرض ہے کہ ہم ان کے اہل خانہ کو بتائیں کہ ہم ان کے ساتھ ہیں۔ ہم کبھی بھی دہشت گردانہ طاقتوں سے کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ سابق وزیراعظم منموہن سنگھ، کانگریس صدرراہل گاندھی اورراجیہ سبھا میں اپوزیشن لیڈرغلام نبی آزاد نے مشترکہ کانفرنس میں دہشت گردوں کے خلاف متحد ہونے کا عزم کیا۔

      کانگریس صدرراہل گاندھی نے کہا کہ جن لوگوں نے یہ کیا ہے، ان کو یہ نہیں لگنا چاہئے کہ وہ اس ملک کو تھوڑی سی بھی چوٹ پہنچا سکتے ہیں۔ ان کو معلوم ہونا چاہئے کہ یہ ملک ان چیزوں کو بھولتا نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی ملک کو تقسیم کرنے اورتوڑنے کی کوشش کرتی ہے، لیکن ہم متحد ہیں اورمتحد رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ملک پردہشت گردانہ حملہ ملک کی آتما پرحملہ ہے۔

      راہل گاندھی نے کہا کہ پورا اپوزیشن اورملک حکومت کے ساتھ ہے۔ پلوامہ کا دہشت گردانہ حملہ انتہائی تکلیف دہ ہے۔ اس ملک کو کوئی تقسیم نہیں کرسکتا۔ راہل نے کہا کہ ہندوستان کوکوئی تقسیم نہیں کرسکتا ہے۔ 





      راہل گاندھی نے کہا کہ یہ بہت خوفناک سانحہ ہے۔ دہشت گردوں کا ایک ہی مقصد ہوتا ہے کہ ملک کوتقسیم کیا جائے۔ ہمارے سیکورٹی اہلکاروں کے خلاف اس طرح کا تشدد انتہائی گھناونا اورقابل مذمت ہے۔ راہل گاندھی نے کہا کہ ہمارے دل میں چوٹ پہنچی ہے، میں سیکورٹی اہلکاروں سے کہنا چاہتا ہوں کہ ہم ان کے ساتھ کھڑے ہیں اورہماری پوری طاقت ان کے ساتھ ہے۔
      First published: