ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

من کی بات میں بولے وزیر اعظم مودی۔ ہمارے کسان آتم نربھر بھارت کی بنیاد ہیں

زرعی اصلاحات سے متعلق بلوں کو لے کر وزیر اعظم مودی نے کہا ' ہمارے پیارے ہم وطنو، ہمارے یہاں کہا جاتا ہے، جو زمین سے جتنا جڑ جاتا ہے، وہ بڑے سے بڑے طوفان میں بھی اٹل رہتا ہے۔ کورونا کے اس مشکل وقت میں ہمارا زرعی شعبہ، ہمارا کسان اس کی زندہ مثال ہیں۔ بحران کے اس دور میں بھی ہمارے ملک کے زرعی شعبے نے پھر اپنا دم خم دکھایا ہے'۔

  • Share this:
من کی بات میں بولے وزیر اعظم مودی۔ ہمارے کسان آتم نربھر بھارت کی بنیاد ہیں
فائل فوٹو

 نئی دہلی۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے آج اپنے ماہانہ ریڈیو پروگرام من کی بات میں ہم وطنوں سے خطاب کیا۔ اس دوران وزیر اعظم مودی نے کورونا انفیکشن کے اس بحران کے درمیان کہانیوں کی اہمیت کا ذکر کیا۔ اس دوران وزیر اعظم مودی نے کہا ' کہانیوں کی تاریخ اتنی ہی پرانی ہے جتنی کہ انسانی تہذیب۔ کہانیوں کی طاقت محسوس کرنی ہو تو کسی ماں کو اپنے بچوں کو کھانا کھلاتے وقت کہانیاں سناتے ہوئے سنیں۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ہندستان میں قصہ گوئی کی روایت رہی ہے۔ ہمیں فخر ہے کہ ہم اس ملک کے باشندے ہیں جہاں کہانیوں میں جانوروں۔ پرندوں اور پریوں کی تصوراتی دنیا گڑھی گئی تاکہ عقلمندی اور ذہانت کی باتوں کو آسانی سے سمجھایا جا سکے۔


وہیں، زرعی اصلاحات سے متعلق بلوں کو لے کر وزیر اعظم مودی نے کہا ' ہمارے پیارے ہم وطنو، ہمارے یہاں کہا جاتا ہے، جو زمین سے جتنا جڑ جاتا ہے، وہ بڑے سے بڑے طوفان میں بھی اٹل رہتا ہے۔ کورونا کے اس مشکل وقت میں ہمارا زرعی شعبہ، ہمارا کسان اس کی زندہ مثال ہیں۔ بحران کے اس دور میں بھی ہمارے ملک کے زرعی شعبے نے پھر اپنا دم خم دکھایا ہے'۔



انہوں نے کہا کہ' ساتھیو، ملک کا زرعی شعبہ، ہمارے کسان، ہمارے گاوں آتم نربھر بھارت کی بنیاد ہیں۔ یہ مضبوط ہوں گے تو آتم نربھر بھارت کی بنیاد مضبوط ہو گی۔ بیتے کچھ وقتوں میں ان شعبوں نے خود کو کئی بندشوں سے آزاد کیا ہے۔

پنجاب، ہریانہ اور ملک کے دیگر حصوں میں زرعی بل کی مخالفت کے درمیان وزیر اعظم نریندر مودی نے اتوار کے روز کہا کہ زرعی پیداوار مارکیٹنگ کمیٹی منڈی سے باہر اپنی فصلیں فروخت کرنے پر کسانوں کو فائدہ ہورہاہے اور وہ لاکھوں روپے کی آمدنی حاصل کررہے ہیں۔ وزیراعظم نریندر مودی نے آکاشوانی پر اپنے ماہانہ ریڈیو پروگرام من کی بات میں ملک کو خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کورونا کے اس دور میں ملک کے زرعی شعبے نے ایک بار پھر طاقت کا مظاہرہ کیا ہے۔ ملک کا زرعی شعبہ، کاشتکار، گاؤں، خود کفیل ہندوستان کی بنیاد ہیں۔ اگر یہ مضبوط ہوں گے تو پھر خود کفیل ہندوستان کی بنیاد مضبوط ہوگی۔ ماضی قریب میں ان شعبوں نے خود کو بہت سی پابندیوں سے آزاد کیا ہے اور کئی غلط تصورات کو ختم کرنے کی کوشش کی ہے۔

مودی نے ہریانہ کے سونی پت کے کسان کنور چوہان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہیں منڈی کے باہر اپنے پھل اور سبزیاں فروخت کرنے میں دشواری پیش آتی تھی۔ اگر وہ بازار سے باہر اپنے پھل اور سبزیاں فروخت کرتے تھے تو کئی بار اس کے پھل، سبزیاں اور گاڑیاں ضبط ہوجاتی تھیں۔ لیکن 2014 میں پھلوں اور سبزیوں کو اے پی ایم سی قانون سے باہر کردیا گیا جس سے انہیں اور اس کے آس پاس کے ساتھی کسان کو فائدہ ہوا۔ چار سال پہلے انہوں نے اپنے گاؤں میں ساتھی کسانوں کے ساتھ مل کر ایک کسان پروڈیوسر گروپ تشکیل دیا تھا۔ آج گاؤں کے کسان سوئٹ کارن اور بیبی کارن کی کاشت کرتے ہیں۔ ان کی مصنوعات آج براہ راست دہلی کی آزاد پور منڈی، بڑی دکانوں اور ہوٹلوں میں جا رہی ہیں۔ آج گاؤں کے کسان اپنی کاشت سے سالانہ ڈھائی سے تین لاکھ فی ایکڑ کمائی کررہے ہیں۔ صرف یہی نہیں، اسی گاؤں کے 60 سے زیادہ کاشتکار نیٹ ہاؤس اور پالی ہاؤس بناکر ٹماٹر، ککڑی، شملہ مرچ، اس کی مختلف اقسام تیار کرکے ہر سال فی ایکڑ 10 سے 12 لاکھ روپے آمدنی حاصل کررہے ہیں۔

وزیر اعظم نے کہا کہ ان کاشت کاروں کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ اپنے پھل اور سبزیاں کہیں بھی کسی کو بھی فروخت کر سکتےہیں اور یہی طاقت ہی ان کی ترقی کی بنیاد ہے۔ اب ملک کے دوسرے کسانوں کو بھی وہی طاقت ملی ہے۔ پھلوں اور سبزیوں کے لئے ہی نہیں اپنے کھیتوں میں وہ جو پیداوار کر رہے ہیں۔ وہ دھان، گندم، سرسوں، گنے، جو پیدا کر رہے ہیں، ان کی خواہش کے مطابق، جہاں انہیں زیادہ قیمت ملے وہیں فروخت کرنے کی اب انہیں آزادی ملی ہے۔

یو این آئی، اردو کے ان پٹ کے ساتھ
Published by: Nadeem Ahmad
First published: Sep 27, 2020 12:51 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading