உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Russia Ukraine war: علی گڑھ کی غوثیہ اور شافیہ چھٹیاں ختم کرکے 25 دن قبل ہی گئی تھیں یوکرین، والدین نے حکومت سے کی یہ اپیل

    Russia Ukraine war : روس اور یوکرین کے درمیان چھڑی جنگ میں ایسے متعدد بچے بچیاں ہیں ، جو یوکرین میں زیر تعلیم ہیں اورآج ان کے والدین اپنے بچوں کی بحفاظت واپسی کی دعائیں کر رہے ہیں۔

    Russia Ukraine war : روس اور یوکرین کے درمیان چھڑی جنگ میں ایسے متعدد بچے بچیاں ہیں ، جو یوکرین میں زیر تعلیم ہیں اورآج ان کے والدین اپنے بچوں کی بحفاظت واپسی کی دعائیں کر رہے ہیں۔

    Russia Ukraine war : روس اور یوکرین کے درمیان چھڑی جنگ میں ایسے متعدد بچے بچیاں ہیں ، جو یوکرین میں زیر تعلیم ہیں اورآج ان کے والدین اپنے بچوں کی بحفاظت واپسی کی دعائیں کر رہے ہیں۔

    • Share this:
    علی گڑھ : روس اور یوکرین کے درمیان چھڑی جنگ میں ایسے متعدد بچے بچیاں ہیں ، جو یوکرین میں زیر تعلیم ہیں اورآج ان کے والدین اپنے بچوں کی بحفاظت واپسی کی دعائیں کر رہے ہیں۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں غیرتدریسی عملہ سے تعلق رکھنے والے عقیل احمد کی ایک بیٹی اور ایک بھتیجی دونوں ہی گزشتہ چار سال سے یوکرین میں زیر تعلیم ہیں اور ابھی چھٹیاں ختم کرکے 25 دن قبل ہی وہ یوکرین گئی ہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ آج بچیاں بہت ڈری سہمی ہیں ، ہم چاہتے ہیں کہ ہماری بچیوں کو بحفاظت واپس لایا جائے ۔

    ایم بی بی ایس کی تعلیم حاصل کررہی غوثیہ پروین اور شافیہ شکیل نے اے ایم یو سے بارہویں جماعت کی ہے دونوں ساتھ ہی میں یوکرین گئی تھیں ۔ غوثیہ اور شافیہ کی والدہ روشن شکیل اور شائستہ پروین اپنی بچیوں کے لئے کافی فکر مند ہیں اور ان کی سلامتی کی دعائیں کررہی ہیں ۔

    روس اور یوکرین میں شروع ہوئی جنگ کے درمیان علی گڑھ سے میڈیکل کی تعلیم حاصل کرنے یوکرین گئے ہوئے طلبہ کے والدین سخت پریشان ہیں اور انہوں نے ایک اجتماعی دعا کا اہتمام کیا ۔ ساتھ ہی ساتھ مرکزی حکومت سے بھی مطالبہ کیا کہ یوکرین میں پھنسے ہوئے ان کے بچوں کو بحفاظت واپس لایا جائے ، جو تعلیم حاصل کرنے کے لئے گئے ہوئے ہیں ۔ اہل خانہ دن بھر موبائل اور ٹی وی کے ذریعہ لمحہ لمحہ کی خبریں لیتے رہتے ہیں ۔ علی گڑھ سے میڈیکل کی تعلیم حاصل کرنے یوکرین گئے ہوئے طلبہ کے اہل خانہ یوکرین پر روسی فوج کے حملے کے بعد سخت پریشانی میں مبتلا ہیں۔

    طلبہ کے لواحقین نے پہلے ہی وزیر اعظم کے نام انتظامیہ کو میمورنڈم دے کر طلبہ کی واپسی کی درخواست کی تھی ، لیکن اب تک طلبہ واپس نہیں آئے ہیں ، جس کی وجہ سے اہل خانہ میں خوف و ہراس پایا جاتا ہے۔ یوکرین میں ان کے بچوں کی موجودہ صورتحال پر سرپرست حکومت کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں اور مودی سرکار سے بچوں کی بحفاظت واپسی کی فریاد کررہے ہیں ۔

    یوکرین میں میڈیکل کی تعلیم حاصل کرنے والے طالب علم کے والد پنکج دھیرج نے بتایا کہ علی گڑھ ڈویژن کے تقریباً 45 بچے یوکرین میں زیر تعلیم ہیں ۔ بچوں کی واپسی کیلئے یوکرین کی صورتحال کے پیش نظر ہم ایک ہفتہ قبل ضلعی انتظامیہ کے ذریعہ وزیر اعظم کوایک عرضداشت بھی دے چکے ہیں ، لیکن تاحال کوئی راحت نہیں ملی ہے ۔
    Published by:Imtiyaz Saqibe
    First published: