ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

مارکنڈے کاٹجو کا پھر متنازع بیان ، بابائے قوم مہاتما گاندھی کو بتایا فراڈ

اپنے متنازع بیانات کیلئے اکثر سرخیوں میں رہنے والے سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس مارکنڈے کاٹجو نے اب بابائے قوم مہاتما گاندھی سے متعلق متنازع بیان دیا ہے

  • Pradesh18
  • Last Updated: Oct 02, 2016 02:28 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
مارکنڈے کاٹجو کا پھر متنازع بیان ، بابائے قوم مہاتما گاندھی کو بتایا فراڈ
اپنے متنازع بیانات کیلئے اکثر سرخیوں میں رہنے والے سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس مارکنڈے کاٹجو نے اب بابائے قوم مہاتما گاندھی سے متعلق متنازع بیان دیا ہے

نئی دہلی : اپنے متنازع بیانات کیلئے اکثر سرخیوں میں رہنے والے سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس مارکنڈے کاٹجو نے اب بابائے قوم مہاتما گاندھی سے متعلق متنازع بیان دیا ہے۔ گاندھی جینتی کے موقع پر لکھے اپنے ایک مضمون میں مہاتما گاندھی کو فرضی قرار دیتے ہوئے بھگت سنگھ اور سوریہ سین جیسے انقلابیوں کو اصل مجاہد آزادی قرار دیا ۔ جسٹس مارکنڈے کاٹجو نے اس کو اپنے فیس بک پر بھی شیئر کیا اور اس کے کمنٹس میں انہوں نے گاندھی جی کو فراڈ اور منافق بتایا۔

کاٹجو نے لكھا کہ جب 1938 میں انگلینڈ کے وزیر اعظم جرمنی سے میونخ معاہدہ کرکے لوٹے تھے ، تو حزب اختلاف کے لیڈر وسٹن چرچل نے کہا تھا کہ آپ کے پاس جنگ یا توہین میں سے ایک کو منتخب کرنے کا آپشن ہے اور آپ نے توہین کو منتخب کیا ۔

تو ہندوستانیوں، آپ کو فرضی مہاتما گاندھی اور حقیقی مجاہدین آزادی بھگت سنگھ اور سوریہ سین میں منتخب کرنے کا آپشن دیا گیا تھا۔ آپ کو ایک حقیقی جنگ آزادی کے درمیان ایک مجاہد آزادی کو منتخب کرنے کا آپشن دیا گیا۔ ایک ایسا مجاہد آزادی جو ہمیشہ مسلح جدوجہد کی بات کرتا ہو ، کیونکہ مسلح جنگ کے بغیر کوئی اپنا سامراج نہیں چھوڑتا ۔ کوئی شک نہیں ہی اس میں لاکھوں برادران وطن شہید ہوئے، جنہوں نے ہندوستان کی حقیقی آزادی کی قیادت کی اور ایک خوشحال ملک کی تعمیر کی ۔ وہیں ایک فرضی جنگ آزادی ، جس میں خون کی ہولی سے گریز کیا گیا، جس میں ہندوستان نے شدید غربت اور شدید بے روزگاری وغیرہ کی قیادت کی۔ آپ نے (ہندوستانیوں) بھگت سنگھ اور سوریہ سین کے قابل احترام راستے کی جگہ گاندھی کے توہین آمیز راستے کو منتخب کیا۔


katju

بہت سے لوگوں کا کہنا ہے کہ جنگ آزادی کے دوران ہندوستان کی جانب سے برٹش کے خلاف اپنایا گیا تشدد کا طریقہ غلط تھا، جس کی بھگت سنگھ، سوریہ سین، چندر شیکھر آزاد، راج گرو اور رام پرساد بسمل وغیرہ نے وکالت کی تھی۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ گاندھی کا تشدد سے پاک طریقہ صحیح ہے۔ میں اس بات سے مکمل طور پر غیر متفق ہوں۔ پہلی بات کیا کوئی کسی کی بھوک ہڑتال، نمک یاترا اور رگھوپتی راگھو راجا رام گانے کی وجہ سے اپنی سلطنت چھوڑ سکتا تھا۔ ہندوستان کو آزادی گاندھی جی کی وجہ سے نہیں ملی ، بلکہ دوسری عالمی جنگ کی وجہ سے ملی، جس میں جرمنی نے انگلینڈ پر حملہ کرکے اسے کمزور کر دیا تھا، جس کے بعد انہیں امریکیوں کی مدد کی ضرورت پڑی۔ امریکہ نے مدد کے عوض میں برٹش پر ہندوستان چھوڑنے کا دباؤ ڈالا ، کیونکہ ہندوستان سرمایہ کاری کے نقطہ نظر سے کھلا بازار تھا۔ انہوں نے کہا کہ گاندھی کی وجہ سے کچھ نہیں ملا۔ اگر ان کے راستے پر ہم چلتے ، تو ہندوستان کو کبھی آزادی نہیں ملی ہوتی۔ جنگ آزادی کے لئے مسلح جدوجہد ضروری ہے۔
First published: Oct 02, 2016 02:28 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading