ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

داعش اور بغدادی کا اقدام اسلامی تعلیمات کے منافی : مولانااصغر علی امام مہدی سلفی

اسلام دین امن و سعادت ہے اور اسے دنیا کے خالق ومالک اور پروردگار نے ساری انسانیت کی فوز وفلاح اور خیر خواہی کے لیے برپا کیا ہے۔

  • Pradesh18
  • Last Updated: Dec 18, 2016 07:59 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
داعش اور بغدادی کا اقدام اسلامی تعلیمات کے منافی : مولانااصغر علی امام مہدی سلفی
اسلام دین امن و سعادت ہے اور اسے دنیا کے خالق ومالک اور پروردگار نے ساری انسانیت کی فوز وفلاح اور خیر خواہی کے لیے برپا کیا ہے۔

دہلی: اسلام دین امن و سعادت ہے اور اسے دنیا کے خالق ومالک اور پروردگار نے ساری انسانیت کی فوز وفلاح اور خیر خواہی کے لیے برپا کیا ہے۔ یہ دنیا میں رحمت و رأفت کے روحانی سائے تلے اخوت و بھائی چارہ اور انسانیت کا پیغام عام کرتا ہے اور نفرت و عداوت ، بگاڑ و فساد ، فتنہ و خون ریزی اور خوف و دہشت کو جڑ سے مٹاتا ہے۔ اسلامی تعلیمات اعتدال ووسطیت پر مبنی ہیں ۔ اس میں غلو اور افراط وتفریط کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام ہر طرح کی انتہاء پسندی اور دہشت گردی کی مذمت کرتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی ناظم عمومی مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند نے کیا۔

موصوف آج مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے زیر نگرانی اور صوبائی جمعیت اہل حدیث مغربی یوپی کے زیر اہتمام چیمبر آف کامرس، میرٹھ میں منعقدہ ایک روزہ عظیم الشان قومی کانفرنس بعنوان : ’’قوم وملت داعش اور دہشت گردی کے تعاقب میں‘‘ میں صدارتی خطاب کررہے تھے۔ ناظم عمومی نے کہا کہ داعش اور بغدادی دور حاضر میں دہشت گردی کے بدنما عناوین ہیں۔ جن کا اسلام اور مسلمانوں سے کوئی تعلق نہیں ہے بلکہ یہ اپنی غیر ذمہ دارانہ، بزدلانہ اور مذموم حرکتوں کی وجہ سے پوری دنیا میں اسلام اور مسلمانوں کی شبیہ بگاڑ رہے ہیں۔

ان کی خود ساختہ خلافت مسلمانوں اور معصوم انسانوں کے قتل و خون ریزی کے لیے وجود میں آئی ہے جو در اصل اسلام دشمن طاقتوں کی کاشتہ و پرداختہ ہے۔ اس لیے عامۃ المسلمین خصوصا نوجوانوں کو اس فتنہ سے متنبہ رہنا چاہئے ۔ ناظم عمومی نے مزید کہا کہ دہشت گردی اپنی تمام شکلوں میں قابل مذمت ہے اور عصر حاضر کا سب سے بڑا ناسور ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند 2004 سے ہی اس کو بیخ و بن سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے مسلسل جد و جہد کررہی ہے۔ مرکزی جمعیت اہل حدیث کو من جملہ دیگر امور کے اس امر میں بھی اولیت حاصل ہے کہ اس نے ہندوستان میں سب سے پہلے مارچ 2006 میں دہشت گردی کے خلاف سمپوزیم منعقد کر کے اجتماعی فتویٰ جاری کیا۔ متعدد کانفرنسوں اور سیمیناروں کے ذریعہ اور دہشت گردی مخالف فتاوے، کتابیں اور مختلف زبانوں میں رسائل و جرائد کے خصوصی نمبرات شائع کر کے دہشت گردی کے روک تھام میں اپنا بھر پور تعاون پیش کیا اور یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے۔

داعش کا فتنہ جب سامنے آیا تو مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند نے اس حوالے سے بھی پہل کر تے ہوئے فروری 2015 میں داعش کے خلاف قومی سمپوزیم منعقد کیا اور علماء کے دستخط سے اس کے خلاف اجتماعی فتویٰ جاری کیا ۔ چونکہ داعش وغیرہ نے اپنی فتنہ سامانی کے ذریعہ ملک وملت اور انسانیت کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے اس لیے اس کے خلاف متحدہ اور مسلسل جد و جہد کی ضرورت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند داعش اور بغدادی وغیرہ کے خلاف قومی سطح پر مہم چھیڑے ہوئی ہے اور اس سلسلہ میں ہریانہ، تلنگانہ، آندھرا پردیش، کرناٹک، بہار، بنگال وغیرہ صوبوں میں پریس کانفرنسوں اور سمپوزیموں کا انعقاد عمل میں آچکا ہے ۔ آج کی یہ کا نفرنس اسی سلسلہ کی اہم کڑی ہے۔

مرکزی جمعیت اہلحدیث ہند کے مفتی مولانا جمیل احمد مدنی نے داعش اور دہشت گردی کے خلاف مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کی مساعی کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ داعش اور اس کی خود ساختہ خلافت اسلام اور مسلمانوں بلکہ پوری انسانیت کے خلاف مغرب کی ایک خطرناک سازش ہے اس لیے اس سے چوکنا رہنے کی ضرورت ہے۔ ڈاکٹر عبدالرحمن فریوائی سابق پروفیسر امام محمد بن سعودا سلامک یونیورسٹی ریاض نے مملکت سعودی عرب کے خلاف پڑوسی ممالک کی سازشوں کو بے نقاب کرتے ہوئے دہشت گردی کے خلاف مملکت سعودی عرب کی مساعی جمیلہ کا ذکر کیا اور کہا کہ افسوس کی بات ہے کہ اس کی دہشت گردی کے خلاف تمام تر قربانیوں کے باوجود اسے دہشت گردی سے جوڑنے کی جی توڑ کوشش ہورہی ہے جو کہ قابل مذمت ہے۔


photo f
صوبائی جمعیت اہل حدیث مغربی یوپی کے ناظم مولانا محمد ہارون سنابلی نے داعش اور دہشت گردی کے خلاف مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کی مسلسل کوششوں کو سراہتے ہو ئے مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے ناظم عمومی کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ داعش اور بغدادی اسلام دشمن عناصرکے آلہ کار ہیں اور ان کی پیش کردہ اسلام کی تعبیر و تشریح سراسر غلط ہیں۔ صوبائی جمعیت اہل حدیث مغربی یوپی کے قائم مقام امیر مولانا محمد جرجیس سراجی نے اپنے خطاب میں دہشت گردی کے خلاف نوجوانوں کو کھڑا ہونے پر اکسایا اور کہا کہ سب مل کر دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے پیہم کوشش کریں۔
جامعہ ابوبکر صدیق الاسلامیہ کے ڈائرکٹر مولانا اظہر مدنی نے داعش اور بغدادی کی غیر اسلامی اور غیر انسانی حرکتوں سے حاضرین کو آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ سب اسلام اور مسلمانوں بلکہ ساری انسانیت کے لیے ناسور ہیں۔ اس لیے ان کا ڈٹ کر مقابلہ کیا جائے تاکہ وطن عزیز سمیت ساری دنیا امن و شانتی کا گہوارہ بنی رہے۔ کانفرنس کو مولانا عبدالمالک ریاضی امام جامع مسجد اہل حدیث میرٹھ نے بھی خطاب کیا۔
واضح رہے کہ یہ کانفرنس آج صبح دس بجے سے شروع ہوکر دو بجے دن تک جاری رہی اور اس میں سرتاج عالم، جمیل احمد، پرویز بھائی، مولانا عشرت جلال قاسمی، انجینئر قمر الزماں، غیاث احمد، حافظ سلیم محمد نوشاد، محمد انور، حاجی بابو علی وغیرہ معزز شخصیات کے علاوہ بڑی تعداد میں میرٹھ شہر ودیہات، ہاپوڑ، بجنور، بلند شہر، غازی آباد، باغپت، مظفر نگر اور دیگر اضلاع کے لوگوں نے شرکت کی۔ اس موقع پر متعدد جوانوں نے دہشت گردی کے خلاف بہترین انداز میں اپنے منظوم کلام بھی پیش کئے۔ اخیر میں کانفرنس کے موضوع کی مناسبت سے درج ذیل قرار داد پاس کی گئی جسے مولانا محمد رئیس فیضی نے پیش کیا۔
یہ کانفرنس ملک وملت اور انسانیت کی تعمیر میں اتحاد و اتفاق، خیر سگالی، یک جہتی اور رواداری کے اہم کردار کے پیش نظر وطن عزیز ہندوستان میں جہاں برادران وطن سے اپیل کرتی ہے کہ وہ ملک میں خیر سگالی ، فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور قومی یکجہتی کے روایتی ماحول کو قائم رکھیں وہاں مسلمانوں سے التماس کرتی ہے کہ وہ اپنے مسلکی و فکری امتیازات وشناخت سے اوپر اٹھ کر کلمہ طیبہ کی بنیاد پر متحد ہوجائیں اور افراد ملت کے اندر اتحاد و یکجہتی، اخوت وبھائی چارہ، و خیرسگالی اور رواداری کے پاکیزہ جذبات کوفروغ دیں۔ تاکہ وطن عزیز کے اندر امن وشانتی کی فضا قائم ہو اور اس کی ترقی کو متوقع رفتار ملے۔
یہ کانفرنس دہشت گردی کی تمام قسموں کی مذمت کرتی ہے اور اسے ملک وملت اور انسانیت کے لیے بڑا ناسور قرار دیتے ہوئے عوام وخواص سے اپیل کرتی ہے کہ وہ دہشت گردی کے خاتمہ اور روک تھام کے لیے اپنا ہر ممکن تعاون پیش کریں۔ بلاشبہ مشترکہ کوششوں سے ہی دہشت گردی کے ناسور کو بیخ و بن سے اکھاڑ پھینکنا ممکن ہے ۔ یہ کانفرنس اپنے اس ایمان ویقین کا اظہار کرتی ہے کہ دہشت گردی اسلامی عقیدہ و منہج کے یکسر منافی ہے۔
اسلام امن و شانتی کا مذہب ہے اور اس کی روشن تعلیمات الفت و محبت ، رحمت ورأفت اور عفو و درگزر پر مبنی ہیں۔ اس کی نگاہ میں ظلم و تشدد، ناحق قتل و خوں ریزی اور فتنہ انگیزی کسی بھی طرح جائز نہیں ہے۔ اس لیے بعض ناپسندیدہ و مذموم واقعات میں کسی نام نہاد مسلمان کے ملوث ہونے کی وجہ سے مذہب اسلام اور سارے مسلمانوں کو دہشت گردی سے جوڑنا کسی بھی طرح درست نہیں ہے۔ دہشت گردوں کا کوئی مذہب نہیں ہوتا۔ بنابریں یہ اجلاس حکومتی ایجنسیوں اور میڈیا سے اپیل کرتا ہے کہ وہ کسی فرد کے ذاتی عمل کو اس کے عقیدہ وفکر اور مذہب و مسلک سے جوڑ کرنہ دیکھے۔ اور نہ ہی محض شک کی بنیاد پر اس کے نوجوانوں کو ہراساں اور قید کر کے جیل رسید کرے۔ کیونکہ یہ سراسر ظلم و زیادتی بلکہ بنیادی انسانی حقوق کی پامالی ہے ۔ یہ کانفرنس اس حوالے سے نام نہاد میڈیا ٹرائل کی بھی مذمت کرتی ہے۔
یہ کانفرنس داعش اور بغدادی کی نام نہاد خلافت کو مسترد کرتے ہوئے پورے وثوق کے ساتھ اپنے موقف کا اظہار کرتی ہے کہ داعش اور بغدادی کا اقدام اسلامی تعلیمات کے منافی ہے۔ داعش اسلام دشمن طاقتوں کی کاشتہ و پرداختہ ہے۔ اور اس کا وجودہی مسلمانوں کے قتل و خوں ریزی کے لیے ہوا ہے۔ اس لیے داعش اور بغدادی کی دہشت گردانہ کارروائیوں کو اسلام اور مسلمانوں سے جوڑنا کسی بھی طرح درست نہیں ہے ۔ ملکی و عالمی میڈیا کو اس سے احتیاط برتنا چاہئے۔ یہ کانفرنس پورے اذعان و یقین کے ساتھ اعلان کرتی ہے کہ داعش اور ابوبکر بغدادی کی طرف سے پیش کردہ اسلام کی تشریح و تعبیر سراسر غلط اور منمانی پر مبنی ہے اور اس کا سلف امت کی فہم اور دین کی صحیح فکر سے دور کا بھی علاقہ نہیں ہے۔ بلکہ یہ سراسر اسلام کی روح کے منافی ہے۔
یہ کانفرنس پوری وضاحت کے ساتھ اس حقیقت کا اظہار کرتی ہے کہ جماعت اہل حدیث کوئی نیا گروہ نہیں ہے۔ اسلامی تاریخ کے ہر دور میں اس مسلک سے ممتاز علماء و عوام کا ایک بڑا طبقہ وابستہ رہا ہے۔ کتاب وسنت اس مسلک کی اساس ہیں اور سلف امت کی فہم کے مطابق وہ ان پر اعتدال کے ساتھ عمل پیرا ہیں۔ جماعت اہل حدیث کا عقیدہ و منہج امن و شانتی پر مبنی ہے۔ یہ ہر طرح کے غلو، انتہا پسندی اور تشدد کی نفی کرتی ہے۔
اس کے نزدیک امامانِ دین اوراولیائے کرام قابل احترام ہیں اور کتاب وسنت کی روشنی میں ان کی صحیح تعلیمات مشعل راہ ہیں۔ اسی طرح غیر مسلم دینی رہنماؤں کا ادب لازم ہے۔ یہ جماعت کسی بھی مسلمان خواہ وہ حاکم ہو یا عوام کی تکفیر نہیں کرتی۔ انسانی جان و مال اس کی نگاہ میں اصلا محترم ہے۔ اسی طرح یہ جماعت حکومت خواہ مسلم ہو یا غیر مسلم کے خلاف مظاہرہ اور بغاوت کو حرام تصور کرتی ہے۔ اس کی نگاہ میں وطن عزیز ہندوستان دار الامن ہے۔ جس میں کسی بھی طرح کی تخریب کاری، نقض امن کی کوشش یا دہشت گردی حرام ہے۔ لیکن افسوس کی بات ہے کہ بعض میڈیا اور اسلام دشمن عناصر کی آلہ کار بعض مسلم جماعتیں دہشت گردی کو اہل حدیثوں سے جوڑ کر پیش کر کے حق وانصاف کا بار بار خون کرتی رہتی ہیں جس سے ملک و بیرون ملک میں ناجائز طور پر مسلمانوں کی شبیہ خراب ہوتی ہے۔ یہ ایک مذموم عمل ہے ۔ اس لیے یہ کانفرنس ذرائع ابلاغ اور اس کی کاسہ لیس بعض نام نہاد تنظیموں کو تلقین کرتی ہے کہ وہ اپنے غیر منصفانہ رویے سے باز آئیں۔ یہ کسی بھی طرح ملک وملت اور انسانیت کے مفاد میں نہیں ہے۔
یہ کانفرنس وطن عزیز ، دیار حرمین اور پوری دنیا میں رو نما شدہ دہشت گردانہ حملوں کی پر زور مذمت کرتے ہوئے حلب اور موصل میں سنی مسلمانوں کی نسل کشی ، خواتین کی عصمت دری اور بربریت کی بھی بھر پور مذمت کرتی ہے نیز ظالم بشار الاسد ، روسی ملحد اور سنی اور انسانیت دشمن ایران اور حزب اللہ کی کھلم کھلا جارحیت کی بھی مذمت کرتی ہے۔ ساتھ ہی بڑی قوتوں انسانی اداروں اور عالم اسلام کی بے حسی پر اظہار افسوس کرتی ہے اور حوثی باغیوں کی حرکتوں کی مذمت کرتے ہوئے انہیں مزید و ظلم و طغیان سے باز آنے کی تلقین کرتی ہے۔
First published: Dec 18, 2016 07:59 PM IST