ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

سلفیت پرتشدد ودہشت گردی کاالزام افسوسناک وقابل مذمت، سلفی مسلک اورحکومت سے معافی مانگیں: مرکزی جمعیت اہلحدیث کا مطالبہ

مولانا اصغرعلی امام مہدی نے کہا کہ مولانا اجمل نے سلفیت پرجس طرح بہتان بازی وزہرافشانی کی ہے اورگمراہ کن بیان دیا ہے اسے انتہائی افسوسناک اورمسلمانان ہند کی صفوں میں انتشار پھیلانے کی لائق مذمت اورقابل تردید کارروائی قراردیاہے۔

  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
سلفیت پرتشدد ودہشت گردی کاالزام افسوسناک وقابل مذمت، سلفی مسلک اورحکومت سے معافی مانگیں: مرکزی جمعیت اہلحدیث کا مطالبہ
مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے امیر مولانا اصغرعلی امام مہدی سلفی: فائل فوٹو۔

نئی دہلی: مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے امیرمولانااصغرعلی امام مہدی سلفی اورجملہ ذمہ داران مرکزی جمعیت نے اپنے ایک اخباری بیان میں گزشتہ کل پارلیمنٹ میں تین طلاق سے متعلق بحث کے دوران ایک دینی وسیاسی رہنما مولانابدرالدین اجمل نے سلفیت پرجس طرح بہتان بازی وزہرافشانی کی ہے اورگمراہ کن بیان دیا ہے اسے انتہائی افسوسناک اورمسلمانان ہند کی صفوں میں انتشار پھیلانے کی لائق مذمت اورقابل تردید کارروائی قراردیاہے۔ اس کی تمام مسلمانوں کی جانب سے جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔


پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ اس سے کروڑوں امن پسند، محب وطن اورانسانیت دوست لوگوں کی دل آزاری ہوئی ہے اورجس پرہرانصاف پسند نالاں وشکوہ کناں ہے، آج تک اسلام اورمسلم دہشت گردی کا ہوا کھڑا کرکے اسلام اورمسلمانوں کوبدنام کرنے کا پروپیگنڈہ کیا جاتا تھا، جس پرمسلمانوں کوسخت اعتراض تھا، لیکن افسوس کہ آج بعض مسلمان بھائی ہی اپنے بعض مسلم مکاتب فکرکے بارے میں اس طرح کی غیرذمہ دارانہ باتیں کہہ رہے ہیں۔بہرحال مولانا جیسے ذمہ دارسے تو اس طرح کے بیان کی توقع نہیں کی جاسکتی تھی۔


مولانا اصغرعلی امام مہدی سلفی نے بیان میں مزید کہا ہے کہ خود طلاق کے مسئلہ میں جس طرح مسلم پرسنل لاء بورڈ سمیت تمام مسلم تنظیموں نے اہل حدیث کے موقف کوسراہا بلکہ بہت سے خرخشوں سے ملت کے اتحاد کو بچانے کا کریڈٹ اہل حدیث کے سرآیا، ایسے میں اسی طلاق کے مسئلہ کولے کراسی کے خلاف کھلی جارحیت کس قدرافسوسناک ولائق مذمت اورسنگین جرم ہے ؟ اس کے علاوہ بھی بے شماراہم مواقع پراہل حدیث اتحاد ملت کا ثبوت دیتے رہے ہیں۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ سوشل میڈیا کے ذریعہ معلوم ہوا ہے کہ مولانا (بدرالدین اجمل) نے ایک معذرت نامہ شائع کیا ہے، لیکن وہ اس بھیانک بیان کے مقابلہ میں کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔ مولانا نے اپنے معذرت نامہ میں جس طرح اسے پارلیمنٹ کی کارروائی سے حذف کرنے اوراپنی غلطی سے رجوع کرنے کی اپیل کی ہے، اسی طرح اس بیان کورسمی طور پربھی تمام ذرائع ابلاغ میں عام کریں اورپارلیمنٹ کے ذریعہ اسے ختم کرائیں اورکروڑوں اہلحدیثوں اوراربوں مسلمانوں کواس بہتان سے جو قلبی تکلیف پہنچی ہے، اس کے مداوا کی ہر ممکن کوشش کریں،ملک وملت اورسب کی اسی میں بہتری ہے۔

جمعیت اہلحدیث نے یہ بھی کہا کہ ہے بہت سے رہنمایان دین وملت، جماعات وجمعیات نے اس بیان کو انتہائی غیرذمہ دارانہ قراردیاہے۔ بقول بعض پارلیمنٹ میں موجود اراکین، مولانا کے بیان کو سن کر انتہائی متعجب ہوئے اورمتعدد سیاسی ومذہبی شخصیات، مسلم وغیرمسلم دانشوروں نے ان کے بیان کوبراجانا،ان میں نویدحامد، صدرمسلم مجلس مشاورت، ڈاکٹرمفتی مکرم احمد، امام مسجد فتحپوری، مولاناوحیدالدین خان، ڈاکٹرظفرالاسلام خان چیئرمین دہلی اقلیتی کمیشن، ڈاکٹرتسلیم رحمانی صدرآل انڈیا مسلم پولیٹیکل فرنٹ، مولانااطہرحسین دہلوی صدرانجمن منہاج رسول قابل ذکرہیں۔
مولانااصغرعلی سلفی نے سلفیت کی وضاحت کرتے ہوئے اپنے بیان میں مزید کہاکہ یہ ایک تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ اسلام میں دہشت گردی کی کوئی جگہ نہیں ہے اور نہ دہشت گردی کا کوئی دین ومذہب ہوتا ہے۔ اور یہ معلوم ہے کہ جماعت اہل حدیث وطن عزیزکی وہ واحد تنظیم ہے جسے سب سے پہلے دہشت گردی، داعش وغیرہ کی کھل کر مذمت کرنے، ان کی خرابیوں سے ہرخاص وعام کو باخبرکرنے، ان کی مذمت وتردیدمیں اجتماعی فتوے جاری کرنے اوربڑے بڑے سیمنار،سمپوزیم اور کانفرنسیں منعقدکرنے کا شرف حاصل ہے۔ سلفیت کتاب وسنت کی اس روشن شاہراہ عقیدہ ومنہج سے عبارت ہے جس پر صحابۂ کرام تابعین وتبع تابعین گامزن تھے امن وآشتی اخوت وبھائی چارگی اورانسان دوستی وخیرخواہی اس کا امتیاز ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   جمعیت اہلحدیث ہند کے عہدیداران تنقید کی زد میں، مولانا بدرالدین اجمل کی غلط اورجھوٹ پرمبنی الزام تراشی پرخاموشی سے ہوئی رسوائی

First published: Dec 28, 2018 10:50 PM IST