ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

مرکزی جمعیت اہلحدیث ہند کے سابق ناظم عمومی مولانا عبدالوہاب خلجی کا انتقال، قبرستان قوم پنجابیان شیدی پورہ میں تدفین کل صبح 9 بجے

نئی دہلی : برصغیر کے معروف وممتازعالم دین اور مرکزی جمعیت اہلحدیث ہند کے سابق ناظم عمومی اور آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے متحرک رکن مولانا عبدالوہاب خلجی طویل علالت کے بعد آج بعد نماز جمعہ 63سال کی عمر میں انتقال کرگئے ۔

  • Share this:
مرکزی جمعیت اہلحدیث ہند کے سابق ناظم عمومی مولانا عبدالوہاب خلجی کا انتقال، قبرستان قوم پنجابیان شیدی پورہ میں تدفین کل صبح 9 بجے
مولانا عبد الوہاب خلجی ۔ فائل فوٹو : یو ٹیوب

نئی دہلی : برصغیر کے معروف وممتازعالم دین اور مرکزی جمعیت اہلحدیث ہند کے سابق ناظم عمومی اور آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے متحرک رکن مولانا عبدالوہاب خلجی طویل علالت کے بعد آج بعد نماز جمعہ 63سال کی عمر میں انتقال کرگئے ۔ مولانا کی تدفین کل صبح نو  قبرستان قوم پنجابیان شیدی پورہ نزد عیدگاہ    دہلی میں عمل میں آئے گی۔ مولانا کے انتقال سے ملی وجماعتی حلقوں میں یہ خبر انتہائی افسوس کے ساتھ سنی جارہی ہے۔ پسماندگان میں دو بیٹے اور چار  بیٹیاں ہیں۔ مولانا طویل عرصے سے بیمار چل رہے تھے۔پہلے فالج کا حملہ ہوا تھا، اس کے بعد دل کا دورہ پڑا اور پھر آپ برین ہیمریج کا شکار ہو گئے تھے۔ اطلاعات کے مطابق مولانا کی ولادت جنوری 1954کو پنجاب کے مالیر کوٹلہ میں ہوئی تھی۔ ابتدائی تعلیم کے بعددہلی کے مدرسہ سبیل السلام، جامعہ رحمانیہ بنارس میں تعلیم حاصل کی اور پھر اعلیٰ تعلیم کےلئے جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ تشریف لے گئے۔ مختلف اہم کتابوں کی طباعت کا بھی مولانا نے پوری دلجمعی سے کام کیا۔ مولانانے 17برسوں تک مرکزی جمعیت اہلحدیث کے ناظم اعلیٰ کی ذمہ داری نبھائی ہے۔ 1990سے لے کر 2001تک مرکزی جمعیت اہلحدیث ہندکے ناظم عمومی کے عہدے پر فائز رہے۔ اس سے قبل 1984سے 1990تک قائم مقام ناظم کی ذمہ داری بھی سنبھال چکے ہیں۔اس کے علاوہ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے متحرک رکن بھی تھے۔ سری لنکا اور لندن وغیرہ کی بعض تنظیموں سے بھی وابستہ تھے۔ جامعہ سلفیہ بنارس، آل انڈیا ملی کونسل اور مسلم مجلس مشاورت وغیرہ کے فعال رکن تھے۔ پوری دنیا کی اہم کانفرنسوں میں شرکت بھی کرتے تھے۔

جمعیت کے ناظم عمومی کے عہدے پر فائز رہتے ہوئے مولانا نے گرانقدر خدمات انجام دی ہیں۔ جماعت اہلحدیث کا بیرون ممالک میں متعارف کرانے کا سہرا مولانا خلجی کے سر ہے۔ جدید ترجمان جو اس وقت پندرہ روزہ تھا، اسے ہفت روزہ جاری کیا۔ اس کے علاوہ ہندی میں ــ"اصلاح سماج" بھی جاری کیا۔ اسلام دشمنوں نے جب قرآن کریم کو جلایاتھا، اس وقت انہوں نے اپنے نام سے مقدمہ درج کرایا تھا۔ علاوہ ازیں جمعیت اہلحدیث ہند کے زیر اہتمام قرآن وحدیث کا مسابقہ شروع کیا تھا جو آج بھی بدستور جاری ہے۔ اس مسابقہ میں ملک بھر کے دینی مدارس کے طلبہ بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔ مولانا ہندوستان میں مقبول ہونے کے ساتھ ساتھ بیرون ملکوں اور بالخصوص اسلامی ممالک میں بھی عزت واحترام کی نظر سے دیکھے جاتے ہیں۔

مولانا خلجی کے انتقال پر جمعیت اہلحدیث کے امیر مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی، ناظم عمومی مولانا محمدہارون سنابلی، معروف عالم دین مولانا صلاح الدین مقبول احمد، مولانا عبدالواحدمدنی، مولانا شبیر احمد مدنی، مولانا عبدالمعین مدنی ، مرکز ابوالکلام آزاد اسلامک اویکننگ سینٹر کے صدر مولانا محمد رحمانی، مولانا عتیق الرحمان ندوی ، شیخ جعفر ، حافظ عبد السمیع مدنی اور مولانا عبدالمبین ندوی وغیرہ نے تعزیت  کیا ہے۔ اس کے علاوہ سعودی عرب میں مقیم ڈاکٹر عبدالباری فتح اللہ مکی، منصور احمد مدنی،   کویت میں مقیم مولا نا محمد مصطفیٰ مدنی اور قطر میں مقیم مولانا شمیم احمد سلفی مدنی اور نیوزی لینڈ میں مقیم مولانا اسرارالحق مدنی وغیرہ نے بھی اسے جماعت اہلحدیث اور ملت اسلامیہ کا خسارہ قرار دیاہے۔

First published: Apr 13, 2018 05:07 PM IST