ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

فرانس و دیگر دہشت گردانہ حملوں کے خلاف سمپوزیم و زبردست احتجاج

دہلی :گوہانہ ہریانہ میں مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کی زیر نگرانی اور صوبائی جمعیت اہل حدیث ہریانہ کے زیر اہتمام فرانس ودیگر ہشت گردانہ حملوں کے خلاف سمپوزیم و زبر دست احتجاج کیا گیا ۔

  • News18
  • Last Updated: Nov 19, 2015 08:54 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
فرانس و دیگر دہشت گردانہ حملوں کے خلاف سمپوزیم و زبردست احتجاج
دہلی :گوہانہ ہریانہ میں مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کی زیر نگرانی اور صوبائی جمعیت اہل حدیث ہریانہ کے زیر اہتمام فرانس ودیگر ہشت گردانہ حملوں کے خلاف سمپوزیم و زبر دست احتجاج کیا گیا ۔

دہلی :گوہانہ ہریانہ میں مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کی زیر نگرانی اور صوبائی جمعیت اہل حدیث ہریانہ کے زیر اہتمام فرانس ودیگر ہشت گردانہ حملوں کے خلاف سمپوزیم و زبر دست احتجاج کیا گیا ۔


اس موقع پر مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے ناظم عمومی مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی نے کہا کہ اسلام دین امن وسلامتی اور انسانیت کے لیے سراپا رحمت وسعادت ہے۔ اس میں انسانی جان و مال ، عزت وآبرو اور بنیادی حقوق کے تحفظ کی ضمانت دی گئی ہے۔ اس میں دہشت گردی کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ اس کے باوجود اگر کوئی شخص یا گروہ کسی کی عزت و آبرو اور جان و مال پر دست درازی کرتا ہے ، حکومتوں اور عوام کے خلاف ہتھیار اٹھاتا ہے اور معصوموں پر جان لیوا حملہ کرتا ہے تو یہ سراسر غیر انسانی عمل ہے اور اس کا اسلام سے کوئی لینادینانہیں ہے۔


ناظم عمومی نے کہا کہ حالیہ دنوں اور چندماہ قبل بھی پیرس میں اور وطن عزیز سمیت دنیا کے مختلف حصوں میں متعدددہشت گردانہ حملے ہوئے ، جن میں معصوم انسانوں کی جانیں گئیں اور املاک تباہ ہوئے ان کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔ بلا شبہ یہ سب مذموم عمل اور انسانیت کے ماتھے پر کلنک ہیں۔ ان کا خاتمہ وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔ مولانا نے داعش جیسی خونخوار تنظیموں کی پشت پناہی کرنے والی طاقتوں کو طشت ازبام کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔


مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے نائب ناظم مولانا ریاض سلفی نے دہشت گردی کے خاتمہ میں اماموں اور خطیبوں کی ذمہ داری کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ وہ اسلامی تعلیمات کو عام کریں ۔ خاص طور سے برادران وطن تک یہ پیغام پہنچانے کی کوشش کریں کہ اسلام دین امن اور سلامتی ہے اس کے اندر دہشت گردی کے لیے کوئی جگہ نہیں ۔


مولانا محمد ہارون سنابلی نے فرانس میں ہوئے حالیہ دہشت گردانہ واقعہ پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ بلا شبہ وہ نہایت ظلم و بربریت کا مظاہرہ اور وحشیانہ واقعہ ہے اور اس کو اسلام اور مسلمانوں سے جوڑنا غلط ہے ۔ اس لیے کہ اسلام امن وشانتی کا پیغام دیتا ہے۔ ہم اس دہشت گردانہ واقعہ کی مذمت کرتے ہیں اورمہلوکین کے ورثاء سے دلی ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں۔


ڈاکٹر عیسیٰ خان انیس نے کہا کہ اسلام امن و شانتی کا مذہب ہے اور اس میں دہشت گردی کے لیے کوئی گنجائش نہیں ہے ۔ اس لیے کہ اسلام نے ایک جان کے ناحق قتل کوساری انسانیت کا قتل قرار دیا ہے۔


مدھیہ پردیش جمعیت اہل حدیث کے امیر صوبائی مولانا عبدالقدوس عمری نے کہا کہ مذہب اسلام میں واضح طور پر دہشت گردی کی مذمت وارد ہوئی ہے اور فتنہ وفساد کے روک تھام پر زور دیا گیاہے ۔


اس دہشت گردی مخالف سمپوزیم اور زبردست احتجاج میں صوبہ ہریانہ کے کونے کونے سے آئے ہوئے تقریبا سو علماء،ائمہ وخطباء اور بڑی تعداد میں وابستگان مدارس اور معزز علاقائی شخصیات نے شرکت کی۔ تمام علماء، ائمہ و خطباء، ذمہ داران جمعیت و حاضرین نے فرانس و دیگر دہشت گردانہ حملوں کے خلاف زبر دست احتجاج کیا اور ہاتھ اٹھا کر دہشت گردی کو بیخ و بن سے اکھاڑ پھینکنے کے عزم کا اعادہ کیا۔

First published: Nov 19, 2015 08:53 PM IST