உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    مرکزی جمعیت اہل حدیث کی مجلس عاملہ کی میٹنگ ، مسلم پرسنل لا بورڈ کی بھر پور حمایت کا اعلان

    اجلاس میں من جملہ دیگر امور کے مسلم پرسنل لاء میں حکومت کی دخل اندازی کو تشویش کی نگاہ سے دیکھا گیا اور طلاق ثلاثہ کے سلسلہ میں آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے موقف سے جماعت اہل حدیث کے اختلاف کے باوجود بورڈ کی بھر پور تائید کا اعادہ کیا گیاا

    اجلاس میں من جملہ دیگر امور کے مسلم پرسنل لاء میں حکومت کی دخل اندازی کو تشویش کی نگاہ سے دیکھا گیا اور طلاق ثلاثہ کے سلسلہ میں آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے موقف سے جماعت اہل حدیث کے اختلاف کے باوجود بورڈ کی بھر پور تائید کا اعادہ کیا گیاا

    اجلاس میں من جملہ دیگر امور کے مسلم پرسنل لاء میں حکومت کی دخل اندازی کو تشویش کی نگاہ سے دیکھا گیا اور طلاق ثلاثہ کے سلسلہ میں آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے موقف سے جماعت اہل حدیث کے اختلاف کے باوجود بورڈ کی بھر پور تائید کا اعادہ کیا گیاا

    • Pradesh18
    • Last Updated :
    • Share this:
      دہلی: بدھ کو مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کی مجلس عاملہ کا ایک اہم اجلاس زیر ڈاکٹر سید عبدالعزیز سلفی کی صدارت میں منعقد ہوا ، جس میں ملک بھر سے صوبائی جمعیات اور اہم مدارس و جامعات کے ذمہ داران ، اراکین عاملہ اور اعیان و علماء شریک ہوئے اور ملک وملت ، جماعت اور انسانیت کو درپیش مسائل پر غو ر وخوض ہوا۔ اجلاس میں من جملہ دیگر امور کے مسلم پرسنل لاء میں حکومت کی دخل اندازی کو تشویش کی نگاہ سے دیکھا گیا اور طلاق ثلاثہ کے سلسلہ میں آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے موقف سے جماعت اہل حدیث کے اختلاف کے باوجود بورڈ کی بھر پور تائید کا اعادہ کیا گیااور کہا گیا کہ اسلامی قانون اللہ تعالیٰ کا بنایا ہوا قانون ہے اس میں کسی بھی طرح کی مداخلت درست نہیں ہے۔
      میٹنگ میں یکسا ں سول کوڈ کی مخالفت کرتے ہوئے ہندوستان جیسے کثیر المذاہب والثقافت والے ملک میں غیر عملی اور قومی یکجہتی کو سبوتاژ کرنے والا عمل قرار د یاگیا نیز طلاق ثلاثہ کے مسئلہ کو اٹھائے جانے اور مدعا بنانے کو بے وقت کی راگنی قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت کو ملک و ملت کی تعمیر و ترقی کے حوالے سے اپنی منصبی ذمہ داری نبھانی چاہئے اور قوم کو تفریق و خلفشار سے بچانا چاہئے۔
      میٹنگ میں بعض اہم اداروں کے ذمہ داران کے اس بیان کو بدبختانہ قرار دیا گیا جس میں طلاق ثلاثہ کے قضیہ کو جماعت اہل حدیث سے جوڑ دیا گیا ہے۔ ساتھ ہی الیکٹرانک میڈیا خصوصا این ڈی ٹی وی کے ذریعہ دہشت گردی کے حوالے سے جماعت اہل حدیث اور مسلمانوں کے امام شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ ؒ کو بدنام کئے جانے کی مذمت کی گئی اور کہا گیا کہ دہشت گردی عصر حاضر کا سب سے بڑا ناسور ہے۔ اس کو کسی مذہب یا فکر و فلسفہ سے جوڑنا کسی بھی طرح درست نہیں ہے۔
      First published: