ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

غیر ازدواجی تعلقات سے باہر کیسے آئیں

ہماری شادی 2012 میں ہوئی اور میری بیوی اچھی تعلیم یافتہ اور خوبصورت ہے۔ ہمارے دو بچے ہیں اور شروع میں سب کچھ ٹھیک ٹھاک چل رہا تھا لیکن اب اپنی بیوی میں میری کوئی دلچسپی نہیں رہی۔ مجھے اس سے کوئی پیار اور عزت نہیں مل رہی ہے اور اب اپنی شادی سے باہر میں پیار اور عزت کی تلاش کر رہا ہوں۔

  • Share this:
غیر ازدواجی تعلقات سے باہر کیسے آئیں
علامتی تصویر

سوال۔ ہماری شادی 2012 میں ہوئی اور میری بیوی اچھی تعلیم یافتہ اور خوبصورت ہے۔ ہمارے دو بچے ہیں اور شروع میں سب کچھ ٹھیک ٹھاک چل رہا تھا لیکن اب اپنی بیوی میں میری کوئی دلچسپی نہیں رہی۔ مجھے اس سے کوئی پیار اور عزت نہیں مل رہی ہے اور اب اپنی شادی سے باہر میں پیار اور عزت کی تلاش کر رہا ہوں۔ میں نے کچھ ویب سیریز دیکھی ہیں جس میں آنکھ بند کرنے، تین طرفہ جنسی تعلق اور دیگر باتیں دیکھی ہیں تاکہ کچھ جوش اور رومانس پیدا کیا جا سکے اور میں ازدواجی رشتوں کے باہر رشتوں کی تلاش کر رہا ہوں۔ میں یہ نہیں سمجھ پا رہا ہوں کہ ایسا کر کے میں کوئی گناہ تو نہیں کروں گا۔


میں آپ کی پریشانی کو سمجھ رہی ہوں۔ اپنی پیدائش سے ہی انسان دو طرح کی متضاد ضرورتوں سے بندھا رہا ہے۔ سیکورٹی اور آزادی کی ضرورت، استحکام سے ملنے والا آرام اور غیر یقینی صورت حال سے ملنے والے رومانس سے۔ یہ ضرورتیں مختلف ذرائع سے نکلتی ہیں اور اپنی طرف کھینچتی ہیں اور ہم مختلف سمتوں میں کھینچے جاتے ہیں۔ آج زیادہ تر جوڑوں کو جس مسئلے سے دوچار ہونا پڑ رہا ہے وہ یہ ہے کہ وہ اپنے رومانوی رشتوں میں اس تناو سے سمجھوتہ کرنا چاہتے ہیں۔


ایک عورت سے شادی کرنے کے پیچھے خیال یہ تھا کہ سہولتوں، کسی کے ہونے، بچاو، سیکورٹی، جذباتی مدد، بچوں کی دیکھ بھال، قانونی مدد اور سماجی قبولیت کی ہماری ضرورتوں کا یہ خیال رکھے گا۔ لیکن اس بدلتے وقت میں تکنیک کے چوراہے پر ہمیں متبادل طریقوں نے تباہ کر رکھا ہے۔ ہم ایک کے بعد دوسری نوکری، تعلقات، رہائش وغیرہ کی تلاش کرتے ہیں اور وہ بھی ایک ایسے وقت میں جو انفرادیت کو فروغ دیتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جب ہم میں سے کچھ کے لئے ایک بیوی سے زندگی بھر کے لئے جنسی اور جذباتی ضرورتوں کے لئے منحصر رہنا گوارہ نہیں ہوتا۔ دھوکہ دینے کے واقعات بڑھ رہے ہیں اور عموما اسے ظلم سمجھا جاتا ہے۔ یہ صحیح ہے کہ خوشحال اور پریشان حال دونوں ہی طرح کی شادیوں میں لوگوں کے لوگوں کے رشتے بنتے ہیں۔ آپ کے معاملے میں مجھے لگتا ہے کہ بوریت کا سبب تعلقات کے مسئلے ہیں۔


کچھ سالوں کے بعد زیادہ تر جوڑوں کو اپنی جنسی زندگی میں بوریت اور اس میں رومانس کی کمی کے مسئلے سے نمٹنا ہوتا ہے۔ اس کا سبب یہ نہیں ہوتا کہ اپنی بیوی میں آپ کی کوئی دلچسپی ہی نہیں رہی۔ اس کا سبب یہ ہو سکتا ہے کہ آپ کی جنسی زندگی میں ذائقہ اور تنوع کی کمی ہو گئی ہے۔ آپ نے بتایا ہے کہ آپ نے ویب سیریز میں جنسی فعل کو دیکھا ہے اور یہ آپ کو جوش سے بھر دیتا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ آپ اپنی جنسی زندگی میں زیادہ تنوع اور رومانس چاہ رہے ہیں اور اپنی ازدواجی زندگی میں رہتے ہوئے اسے حاصل کرنا ممکن نہیں ہے۔ ہو سکتا ہے کہ آپ کی بیوی بھی ایسا چاہتی ہو۔ ایک مستقل پارٹنر ہونے کا یہی تو فائدہ ہوتا ہے کہ آپ کو اپنی تصورات کو آزمانے کے لئے ایک ساجھیدار مل جاتا ہے۔

آپ کو اپنی بیوی کے ساتھ ایک ایماندارانہ، نجی اور کھلے طور پر بات چیت کرنے کی ضرورت ہے۔ آپ ان کو بتائیں کہ آپ کیا محسوس کر رہے ہیں۔ ان کے ساتھ کھلئے، ان کے ساتھ اپنے خیالات بانٹئے۔ یہ خیال رکھئے کہ یہ ایک مشترکہ بات چیت ہے۔ آپ ان کو اپنی بات کہنے اور اسے آپ کے ساتھ کھل کر ساجھا کرنے کا موقع دیں گے اور ان کی بات سنیں گے۔ اس بات کی تلاش کیجئے کہ اپنی جنسی زندگی کو پرلطف بنانے کے لئے آپ دونوں مل کر کیا کر سکتے ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ غیر فطری بی ڈی ایس ایم سیکس یا یہاں تک کہ تین طرفہ جنسی عمل کے تئیں وہ کھلا رویہ رکھتی ہوں۔ لیکن جب تک آپ ان سے بات نہیں کریں گے تب تک آپ کو پتہ نہیں چلے گا۔ آپ اپنی خواہشات کے بارے میں انہیں بتائیں اور انہیں بتائیں کہ انہیں بھی اپنی خواہشات آپ سے ساجھا کرنے میں شرمندہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔

دھیان رہے کہ آپ کا اپنی بیوی میں سبھی طرح کی جنسی دلچسپی کھو دینے کی بات سمجھی جا سکتی ہے۔ ایسا ہو سکتا ہے۔ لیکن اس صورت میں بھی آپ کو ان کے ساتھ ایمانداری برتنی ہو گی۔ آپ جو بھی کرنا چاہیں ان کو اس کی جانکاری ہونی چاہئے اور ان کی مرضی سے ہونی چاہئے۔ اگر آپ اپنی شادی کو بچائے رکھنے کے لئے کچھ بھی نہیں کر سکتے تو یہ زیادہ بہتر ہے کہ آپ رشتہ توڑ لیں نہ کہ اپنی بیوی کے ساتھ دھوکہ کریں۔
Published by: Nadeem Ahmad
First published: Dec 02, 2020 05:57 PM IST